روس کا جوہری حملے

روس نے جوہری ہتھیاروں کے خطرات کو کم کرنے کےلیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ کاوشیں شروع کردیں۔

امریکا میں تعینات روسی سفیر نے ایٹمی ہتھیاروں کے خطرات سے متعلق کہا ہے کہ روس 6 اور 9 اگست کو امریکا کی جانب سے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر پھینکے گئے ایٹم بموں کی سالگرہ منارہا ہے۔

روس عالمی شراکت داروں کے ہمراہ ایٹمی ہتھیاروں کے خطرات کو کم کرنے پر کام کررہا ہے۔ روسی سفارتکار

امریکا نے 6 اگست 1945 کو ہیروشیما پر چار ٹن وزنی ایٹم (یورنیم) بم گرایا تھا جس کے نتیجے میں 70 ہزار سے 1 لاکھ کے قریب ہلاکتیں ہوئی تھیں جو بعد ازاں 1 لاکھ چالیس ہزار تک پہنچ گئیں جب کہ 9 اگست کو ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا تھا جس کے باعث 70 ہزار افراد لقمہ اجل بنے تھے۔

جوہری بم حملے کے نتیجے میں تابکاری کی بیماری دونوں ممالک میں پھیلی جس نے مزید 1 لاکھ 52 ہزار افراد کو ہلاک کیا۔

دنیا کے صرف 9 ممالک ایٹمی طاقت کے حامل ہیں، بالتریب امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا ایٹمی قوت کے حامل ملک بنے

روس کا جوہری حملے

جنوبی افریقہ نے بھی 1980 میں ایٹمی ہتھیار کی تیاری شروع کردی تھی تاہم 1990 میں جنوبی افریقہ نے اپنے ایٹمی پلانٹ‌ رضاکارانہ طور پر تباہ کردئیے تھے

جنوبی افریقہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے رضا کارانہ طور پر اینا ایٹمی پلانٹ‌ تباہ کیا اور مزید ہتھیاروں کی تیاری روک دی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here