خطے میں امن خراب کرنے والے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے: ترجمان پاک فوج

0
18

 پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ خطے میں امن خراب کرنے والے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد خطے کے حالات میں تبدیلی آئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا ایران کشیدگی اور خطے کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے لیکن امن خراب کرنے والے کسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

ایران میں 52 مقامات نشانے پر ہیں، امریکی صدر کی ایران کو بڑی دھمکی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم خطے میں امن چاہتے ہیں مگر ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بہت سی افواہیں گردش میں ہیں، جانے مانے لوگ بھی بات کر رہے ہیں، تاہم خطے کی صورت حال میں بہتری کے لیے آرمی چیف کا اہم کردار ہے، ایرانی جنرل کے واقعے کے بعد فارن آفس بھی اپنا بیان جاری کر چکا ہے، عوام اور میڈیا سے درخواست ہے مصدقہ ذرایع کی بات پر توجہ دی جائے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ مائیک پومپیو نے آرمی چیف سے بات چیت کی تھی، آرمی چیف نے کہا خطہ خراب حالات سے بہتری کی طرف سے جا رہا ہے، مائیک پومپیونے کہا کہ خطہ حالات بہتر ہونے کے باوجود ابتری کی طرف جا رہا ہے، آرمی چیف نے کہا خطے کے ممالک میں کشیدگی کم ہونی چاہیے، افغان مصالحتی عمل کو خراب کرنے کی کوشش سے اجتناب کرناچاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارا خطہ 4 دہائیوں سے امن کے لیے کوششیں کرتا رہا ہے، بھارت نے جارحیت دکھائی، پاکستان نے ہر وہ اقدام کیا جس سے امن قائم ہو، بھارت کے خلاف پاک افواج نے قابل فوج ہونے کا ثبوت دیا، بھارتی آرمی چیف کے بیانات سنے ہیں، وہ نئے ہیں، اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں،انھیں خطے کے حالات اور پاکستانی فورسز کا اچھی طرح علم ہے، افواج پاکستان ملک کا دفاع کرنا جانتی ہے، بھارت بھی جانتا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف دھمکیوں کی بجائے کشمیر میں ظلم و ستم بند کر دیں، بھارت جس راستے پر چل رہا ہے وہ اسے خود تباہی کی طرف لے جائے گا، ہم عوام کی تائید اور حکومتی پالیسی کے تحت خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here