ترکی دوسرا حصہ

0
475

رات کا تیسرا پہر شروع تھا ۔دُنیا سورہی تھی مگر انہیں اللہ نے سکون کی دُولت سے محروم کردیا تھا۔گھڑی کی سوئیاں رات کے تین بجنے کا اعلان کرنے والی تھیں۔تہجدکا بہترین وقت تھا اللہ کی رحمتوں کے در اپنی پُوری آب وعتاب سے کھلےہوئے تھے ۔اللہ کی رحمت و مغفرت پُورےجوش میں اُس کے بندوں کو نوازے کےلیے بیتاب تھی۔مگر یہ بدبخت اس مبارک گھڑی میں بھی بعض نہ آئے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ان بدبختوں کا انتظارکرتی رہی مگر شاید جس کا نصیب تھا وہ اس رحمت میں سے اپنا حصہ لے کرجاچکےتھے۔

گھڑی نے 3:01 منٹ بجایا بالاخر غیر تِ خداوندی جوش میں آئی ۔اسکاایک اسم مبارک قہار بھی ہے اُس قہار کے غیض و غضب کے خوف سے زمین کانپ اُٹھی اور ایسا شدید زلزلہ آیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے چند سیکنڈ میں بڑی بڑی دیوقامت عمارتوں کو ملیا میٹ کردیا۔بڑے بڑے عالیشان محلات زمین بُوس ہوگئے۔مقامی لوگوں کے مطابق سب سے پہلی عمارت وہی گری جس میں یہ سارے شیطان کےپجاری یہودو ترک موجود تھے۔اس اجلاس میں موجود تمام کےتمام لعنتی، اللہ کے فضل سے جہنم رسید ہوگئے۔عینی شاہدین کے مطابق صبح جب عمارت میں شرکائے اجلاس کی لاشیں تلاش کی گئیں تو وہاں ایک بھی انسان کا نام ونشان تک نہ ملا بلکہ ہر طرف خنزیر ہی خنزیر نظر آئے۔اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان لعنتیوں کی شکلیں مسخ کرکے انہیں خنزیر بنادیا تھا۔یہ ترکی تاریخ کا 1754 کے بعد کا سب سے شدید زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ زلزلہ کی شدت 7 اعشاریہ 4 تھی جوکہ 45سیکنڈ کے دُورانیہ پہ مشتمل تھا اور ان سے 250کلومیٹر کے ایریا کو ہلا کررکھا دیا۔اس کی طاقت زمین کی گرویٹی سے 40٪ ذیادہ تھی اس شدت کی وجہ زمین کا اپنا اصل مقام سے دس فٹ اُوپر اُٹھنا تھا۔

ترکی حصہ پہلا

17000 سے ذیادہ لوگ جان سے ہاتھ دُھوبیٹھے، 23000 زخمی ہوئے، 15 لاکھ سے ذیادہ لوگ بےگھرہوگئے۔23000 سے ذیادہ عمارتیں ملبے میں تبدیل ہوگئیں، 120000 سے ذیادہ عمارتوں میں دراڑیں پڑگئیں۔6 ارب ڈالر کا عمارتی نقصان اور 20 ارب ڈالر کاتعمیراتی خرچ کا نقصان اُٹھانا پڑا۔غالب گمان یہ ہےیہ نقصان اس سے بہت ذیادہ یا دُو سے تین گنا ذیادہ تھا۔اس زلزلے کے ساتھ ایک بڑا سُونامی بھی بہت کچھ اپنے ساتھ لے بہا کےلے گیا۔اس کی ہی ایک اور کڑی جو کہ اسی ایک اور عینی شاہد کا کہنا ہے وہ دن اُسے کافی عجیب سا محسوس ہورہا تھا۔زلزلہ سے ایک گھنٹہ قبل یعنی رات کے دُوبجے آسمان کا رنگ خون کی طرح سُرخ ہوگیا۔آسمان سے ہولنا ک قسم کی آوازیں پُورے علاقے میں سُنائی دیں۔یہ ایریا سمندر کے نزدیک تھا مزید وہ بتاتا ہے کہ اچانک انتہائی تیز بجلی کوندی اور سمندر کے نے پیچھے ہٹناشروع کردیا جیسے کوئی فوج پسپائی اختیارکرتے ہو پیچھے ہٹتی ہےپانی ایسے ہی پیچھے ہٹتے ہوئے دُور کہیں گہرے سمندر میں نکل گیا یہاں تک کہ تاحدِ نگاہ سمندر کی تہہ نظر آنے لگی۔اچانک سمندرکی تہہ چاک ہوتی ہے اور ایک آگ کا گولہ نکل کر وہاں ایک نیول بیس سے ٹکراتا ہے جہاں اُس وقت رقص وسرور ، شراب وشباب کی محفلیں جاری تھیں اور دُوسری جانب وہ شیطانی ٹولہ اللہ کے دین کے خلاف سرگرم تھے

ترکی حصہ پہلا

۔یہ گولہ اُس بیس کی جانب بڑی تیزی بڑھا اس گولے کےنکلنے کے بعد پانی کی ایک تیس فٹ اُونچی لہر اپنے پُورے جوش سے اس نیول بیس سے ٹکراتی ہےاور اس شیطانی جگہ کو تباہ برباد کرکے سمندر میں غرق کردیتی ہے۔ان میں جو بچےانکی آنکھیں باہر آگئیں اور چہرے خنزیر اور بندروں میں مسخ ہوگئے۔اس شہرِ کے قریب ایک اور جگہ بھی آسمان سے ہولناک چنگاڑیں سُنی گئیں۔اور لوگ جان گئے کہ اس شہر میں کوئی تباہی آنے والی ہے ابھی لوگ کچھ سُوچنے سمجھنے کے قابل ہوتے زمین نے پُوری شدت سے ہلنا شروع کردیا۔بڑی بڑی عمارتیں زمین بُوس ہوگئیں۔

۔فحاشی اور زناکی محفلوں میں بدمست لوگ ننگی حالت میں ایسے بھاگ رہے تھے جسے انہوں نے پُورے کپڑے پہن رکھے ہو،بچے والدین کو بُھول کر بھاگے، والدین بچوں کو بھول کربھاگے۔ جوبیچارے معذور تھے وہ وہیں اللہ اللہ کرتے رہ گئے ۔یوں لگ رہا تھا کہ جیسے یہ حشر کا دن ہو۔سب نفسانفسی میں تھے کسی کو کسی کی مدد کا خیال ہی نہیں تھا کیونکہ ہر شخص اپنے آپ کو بچانے کو کوشش میں تھا۔آگ، گردوغباراور گھپ اندھیرے میں ڈوبی وہ کربناک، ہولناک رات جس نےان شیطانوں ان بدبختوں کے سبب سب کو اپنی لپیٹ میں لےلیا۔ آپ نےیقیناً یہ بات کبھی نہیں سُنی ہوگی اور نہ کبھی میڈیا پہ یہ آیا، نہ کبھی اخبارات میں۔

ساری دُنیا کے دجالی میڈیا نے ان زلزلوں سےمتعلق خبروں کوبس اتنی ہی کوریج دی جتنی کے ترکی نے ابتدائی طور پہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تصدیق کی تھی مگر اصل صورتحال سے بی بی سی، سی این این سب ہی واقف تھے اس لیے بہت بڑے پیمانے پہ میڈیا نے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔کہ یہ زلزلہ آخر کیسے آیا اور نیول بیس میں کیا کچھ چل رہا تھا۔
گرکوک کا نیول بیس جو کہ ترکی کا سب اہم ترین ملٹری بیس تھا اور کچھ عرصہ سے ترک ویہود اس میں خفیہ اجلاس کررہے تھے۔اور اس 7اعشاریہ 4 شدت کے زلزلہ نے خاص کر اس بیس کا ذرہ ذرہ کرکے رکھ دیا۔

ترکی حصہ پہلا

کچھ لوگوں کے مطابق یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ زلزلےکے فوراً بعد اسرائیلیوں اور ترکیوں نےمل کرامدادی کاروائیوں کے لیے مل کر خفیہ جوائنٹ آپریشن کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اسرائیل نے فوراً اپنے 400 تربیتِ یافتہ ریسکیو فیلڈ آفیسرز فوراًترکی بھیجے تاکہ وہاں جاکہ اپنے بھیجے گئے خبیثوں کی تلاش کی جاسکےجو اس اپنے کالے کرتوتوں کے سبب آئے اللہ کے عذاب میں پھنس چکے تھے۔وہاں یہودیوں کا غلام امریکہ کیسے پیچھے رہتا اُس نے بھی فوراً ریسکیوٹیموں کو ایک بڑی تعداد امدادی سامان کے ساتھ روانہ کیا۔ لیکن اللہ کی طاقت دیکھیں کہ اپنی پُوری انتھک محنت کے بعد انہیں ایک ہڈی بھی نہ ملی۔اور ایک پُورا ملٹری بیس 300 سے ذیادہ انتہائی اعلیٰ عہدے داروں کے لیے قبرستان بن گیا۔کیونکہ یہ شہر فالٹ لائن کے سب سے ذیادہ قریب تر تھا اور سب سے ذیادہ شدت اس علاقے میں محسو س کی گئی۔

ترکی ملٹری نے سارے شہر کو بند کردیا۔تمام قسم کی آمدورفت رُوک دی گئی، نہ کوئی شہر کے اندر آسکتاتھا اور نہ باہر جاسکتا تھا جب تک کےملٹری اس کی پُوری طرح جانچ پڑتال نہ کرلیتی حالانکہ ان حالات میں ایسا کہاں ہوتا ہے؟وجہ یہ تھی کہ اگر اس حالت میں لوگ اسرائیلیوں اور امریکیوں کو دیکھ لیتے تو سب کچھ کُھل کے سامنے آجاتا۔لوگوں کے اصرار پہ انہیں وبائی امراض کے پھوٹنے سے بچانے کےبہانے گھڑے گئے مگر کیا وبائی امراض صرف اسی ہی شہر میں پھیل رہے تھے؟
تمام تر خبروں اور رپورٹس کے باوجود ترکش اور امریکن میڈیا نے گرکوک ملٹری بیس کی تباہی پہ چُپ سادھ لی کسی بھی چینل نے اس کے بارے میں کوئی لفظ منہ سے نہ نکالا۔ وہاں اسرائیل میں بھی اس بیس کے متعلق اسرائیلی میڈیا کو سانپ سُونگھ چکا تھا۔کہیں کہیں چیدہ چیدہ کسی ترک چینل پہ اس کے متعلق کوئی بات چھڑی ہومگر اس کے علاوہ کسی نے اس کا ذکر نہیں کیا۔

برطانیہ کا میڈیا جو ویسے تو ہر معاملے میں امریکہ کی طرح ٹانگ اڑانا فرض سمجھتا ہے وہ بھی اس حادثے سےمتعلق گُونگا ہوچکا تھا۔بی بی سی کی انگریزی سروس نے تو اس خبر کو مکمل طور پہ اگنور کردیا۔البتہ دُوسری جانب تُرکی میں بی بی سی کی عربی سروس کے حوالے سے قائم اسٹیشنز نے ترکی میڈیا کی طرف سے کہیں کہیں یکطرفہ طور پہ پیش کی گئی رپورٹس کی تفصیلات بیان کیں۔یہاں تک کہ جو بات ترکش رپورٹس میں بیان جاتیں بی بی سی انکی بھی تصدیق ایک ہفتے بعد کررہا تھا۔یوں سمجھیں 17 اگست کو حادثہ پیش آیا تو فوراً رپورٹ جاری ہوچکی تھیں مگر بی بی سی ان رپورٹوں کو 24 اگست کو پیش کررہا تھا وہ بھی بی بی سی عربی سروس۔ ورنہ انگریزی سروس نے تو خاموشی اختیار کرلی۔اسی لیے آج تک کچھ بھی اس کے متعلق تحریری طورپہ ملنا انتہائی مشکل ترین کام ہے۔

ترکی حصہ پہلا

دُوسری جانب تُرکی میں موجود کچھ مذہبی رہنماء اب اس بات کو کافی اہمیت دے رہے تھے اور بار بار اس بات کا ذکرکررہے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ایک عذاب اور ایک سزا تھی جس کاسبب اُس ملٹری بیس میں موجود شیطان صفت لوگوں کا کچھ نہ کچھ ایسا کرنا تھا جو کہ اللہ تعالٰی کی اس قدر شدید ناراضگی کا باعث بنا۔
پُورے دجالی میڈیا کا ایک وقت میں اس قدر بڑے پیمانے پہ اتنی ہولناک تباہی کے بعد اس قدر خاموشی اور خاص کر ترکش ملٹری پہ اُٹھتے سوالات کے کہ وہ آخر اسرائیلیوں کے ساتھ کس قسم کے خفیہ آپریشنز میں شامل تھے؟او ر اس بیس میں ایسا کیا ہورہا تھا؟زلزلے کے بعد یکا یک پُورا شہر بند کردینا، فوراً امریکی اور اسرائیلی ریسکیوٹیموں کا پہنچا جانا۔ایک مسلم ملک کے ملٹری بیس میں یہودیوں کی موجودگی اور بعد میں خنزیروں اور بندروں کی شکل میں ملنے والی لاشیں ؟آسمان سے آنے والی ہولناک آوازیں ، ایک ہی وقت میں شدید زلزلہ اور سُونامی ؟ان سب کا مجموعہ صرف ایک سوال بنتا ہے کہ آخری اس گرکوک ملٹری بیس میں ایسا کیا ہورہا تھا؟اور سُوچنے کی بات تو یہ ہے ناں کہ جو کچھ بھی تھا وہ تھا تو اس قدر ہولناک ناں کہ یہ نتیجہ نکلا۔اس میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اگر آپ نیٹ پہ سرچ کریں تو اللہ کی یہ قدرت کا کرشمہ بھی دیکھنا نصیب ہوگا جو چیخ چیخ کراللہ کی کبرئیائی بیان کرتا ہے کہ اس علاقے میں ایک بڑی تعداد غالباً 27 کے قریب مساجد تھیں جن میں سے ایک مسجد کی اینٹ تک بھی نہیں ہلی۔ اللہ اکبر۔ واللہ اعلم

آخر میں اتنا کہنا چاہوں گا جب تک ہم گاؤں میں کمیٹیاں ڈالنےوالی مائی جو اپنے نشے کے عادی بیٹے کو کمیٹیوں کی ذمہ داری سُونپ دیتی ہے اور وقت آنے پہ جب کمیٹی دینے کاوقت آتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ کمیٹی کے پیسوں کی تو بیٹا چرس پھونک چکا ہے تب وہ صرف واویلا کرسکتی ہےہماری مثال بالکل اس کمیٹیاں ڈالنے والی مائی جیسی ہے ۔ہم نے خود چُور ڈاکو، لادین ،شرابیوں اور زانیوں کے ہاتھ ملک دے دیاہے اب خود واویلا کررہے ہیں کہ یہ ظلم کررہے ہیں ملک کو سیکولر بنارہے ہیں۔ابھی کچھ ہی دن پہلے کسی ڈیجیٹل کیبل کے متعلق سُنا ۔یہ کیا کہ جنرل صاحب پلیز کچھ کریں نواز شریف نے کیبل کا لائنس انڈیا کو دے دیا۔ فوج کیا کررہی ہے نواز شریف نے کیبل کا لائنس انڈیا کو دے دیا۔بالکل اُسی مائی کی طرح واویلا۔
اللہ کے بندو اس 19 کروڑ کی عوام کا کیا اچار ڈالنا ہے ہم نے ؟نواز شریف نے ہندوؤں کی تقریب میں یہ کہہ دیا وہ کہہ دیا، دیکھیں ہم یہ کررہے ہیں وہ کررہے ہیں۔ ہمارے ساتھ یہ ہورہا ہے وہ ہورہا ہے وہ ہورہا ہے۔ پاکستانی میڈیا یہ کررہا ہے وہ کررہا ہے۔صرف اور صرف واویلا کرنا ہمارا کام ہے بس اور ایکشن ہمارازیرو۔نہ کھڑے ہوں نہ ہم سیکولر سیاست دانوں کے ساتھ ناں۔نہ کاٹیں گلے نے ایک دوسرے کے، نہ عزتیں اُچھالیں ناں ایک دوسرے کی۔

خدارا اُٹھ جائیں اب ہم نے بہت کچھ کرنا ہے اپنی نسلوں کے لیے۔کیا نسلیں جب ہندوؤں کی طرح گھر میں ننگے ناچ ناچے گی تب ہم سرپکڑیں گے؟ جب بہن بھائی ماں بیٹے باپ جیسے مقدس رشتے مشکوک ہوجائیں گےتب؟اب اُٹھ جائیں ورنہ ہماری نسلیں ایمان کی دولت بھی نہیں سنبھال پائیں گی۔خدا کی قسم آپ کچھ نہ کریں بس صرف صرف اور اپنے تک ہی کوشش کرلیں یہ بہت بڑی قربانی ہوگی اور بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ورنہ اللہ نہ کرے کبھی نہ کرے اللہ ہمیں معاف فرمائے ہمارا حال ترکی سے کچھ بھی مختلف نہیں ہوگا۔ہم ننگے ناچوں کی ، میڈیا کی ، فحاشی کی ، میڈیا کی بےغیرتی کی ڈش کیبل، ٹی وی کی تشہر نہ کریں تو کسی کا ابا بھی آپکو مجبور نہیں کرسکتا۔ ملک کی ماں بہن کو نچوانے والوں کے جلسوں میں ماؤں بہنوں کو نہ بھیجیں تو کون آپکو مجبور کرسکتا ہے۔خدا کے لیے پاکستان کو اسلامی ملک ہی رہنے دیں اور اس میں اپنا کردار بھرپورطریقے سے نبھائیں اور مائی کی طرح واویلا کرنے بہتر ہے اپنے حصے کا تو کام کریں ہر اُس حربے کا بائیکاٹ کردیں جو پاکستان کو سیکولر بنانے کے لیے آزمایا جارہا ہے۔آپ کو اچھی طرح علم ہے کہ ہر ہر ہر سیاسی جماعت کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانا ہے تو کیوں آپ ان سیکولر ز کو سپورٹ کررہے ہیں؟
اپنی دُعاؤں میں یاد رکھیے گا آپ کا بھائی ، دُوست ،مخلص

ترکی حصہ پہلا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here