ترکی حصہ پہلا

0
459

تُرکی ایک قدیم اسلامی ملک ہے اور اسلام کے حوالے سے تُرکی کا ایک انتہائی تابناک اور عظیم ماضی رہ چُکاہے۔تُرکی عظیم اسلامی تہذیب کا عکاس تھا۔ مگر آج جیسے پاکستان کو کفار کے چیلے حکمران اور مفاد پرست سیاسی لیڈران ملے ہیں اور پاکستان اور اسلام کو الگ کرنے کی بھرپور سازش کرکے اسے مغرب ذدہ آزاد اور سیکولر سٹیٹ بنانے پہ تُلے ہیں۔وہیں یہودیوں کو پُوجنے والا کفار کا چہیتا میڈیا بھی رہی سہی کسر پُوری کررہا ہے۔
یہی وقت تُرکی پہ آیا سیکولر اور یہودیوں نے تُرکی کی اعلٰی قیادت کو پُوری طرح بس میں کرلیا۔دُولت کے انبار دیکھ کر وہ رال ٹپکاتے ہوئے یہودیوں کی گود میں جابیٹھےاس کا نتیجہ یہ نکلاکہ ایساوقت آیا کہ تُرکی میں باقاعدہ اسلام کو راہ سے ہٹانے کےلیے براہ راست یہودیوں سے گٹھ جوڑ کر لیا گیا۔وہ کون سا کام کونسا ہتھکنڈہ نہیں تھا جو تُرکی میں اسلام کو نقصان پہنچانے کےلیے نہیں اپنایا گیا ، یہاں تک کہ ہر اُس کام پہ پابندی لگانے کی کوشش کی گئی جو کسی بھی طرح اسلام کے مواقف تھا۔اسلام کےحوالے سے بات کرنے تک بھی پابندی لگائی گئی۔ اسلام کے حوالے سے بحث ومباحثہ جرم قرار پایا۔

عربی رسم والخط کو ختم کرنے کے حکم نامے جاری کیے گئے۔ سرکاری سکولوں کے نصاب سے اسلامی کتابیں خارج کردی گئیں،شراب وشباب کی محفلیں ، مخلوط ناچ گانا، کلبوں اور جواخانوں کی بھر مار،حجاب پہ پابندی، بچوں پہ مدرسوں میں اسلامی تعلیمات پہ پابندی،ترک میڈیا کو آزاد کردیا گیا جو کہ آج بھی انکی بےحیائی کا منظر ان کے ڈراموں میں دیکھایا جاتا ہے۔ یہ وقت آن پہنچاکہ برملا اعلان ہونے لگا کہ اب یہاں کوئی اسلام کا نام لیوا نہیں بچا۔

ترکی دوسرا حصہ

نہ جا اُس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اُسکی
ڈراُسکی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اُسکا

تُرکی کے حکمران اسلام کے خلاف سازشیں کرتےکرتے آخری حدوں کو چُھونے لگے، اسلام کے خلاف ہر سازش کو کھلم کھلا اور اعلانیہ انجام دینے لگے۔یہودیوں کو باقاعدہ دُوست اور اتحادی بنا لیا گیا۔اللہ کی طرف سے ملنے والی ڈھیل کو اپنے لیے سب “اُوکے” ہے کے مترادف خیال کرنے لگے انہیں یہ محسوس ہی نہیں ہورہا تھا کہ وہ کس قدر ہولناک کام کرنے جارہے ہیں ۔اللہ انہیں ڈھیل دیتا رہا کہ شاید اللہ کے راستے پہ لُوٹ آئیں مگر وہ ہر حد سے گزرتے گئے۔ان تمام حدوں کو پھلانگنے کے بعد بس ایک آخری ،آخری ،آخری حربہ باقی تھا جسے انجام دینے کےلیے سب اکھٹے ہوئے اب تک جوسازشیں کی گئی اب انکو مکمل عملی جامہ پہنا کر اور پُوری طرح لاگوکرنا تھا تاکہ اسلام کو پُوری طرح راستے سے ہٹا دیا جائے۔

ان سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کےلیے 16 اگست 1999ء کو پچاس یہودی مذہنی عہدیدان و رہنما ترک افسران کے ہمراہ تُرکی کے ایک زمین دُوزملٹری ہیڈکوارٹراسے (کفرملٹری بیس )بھی کہا جاتاتھا۔یہ ترکی کےشمال مغرب گرکوک نامی شہر میں ایک ملٹری بیس ہے۔میں جمع ہوئے کُل ملا کے ان کی تعداد لگ بھگ 300 کے قریب تھی۔یہ 300 افسران ترک ملٹری اور اسرائیلی موساد کے ایجنٹوں اور مذہبی رہمناؤں پہ مشتمل تھے اور اس ملٹری بیس میں اکثر ترک اور اسرائیلی ملٹری خفیہ آپریشن کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اُس دن اسلام کے خلاف عملی طور پہ بہت اہم فیصلے کیے۔ہم مسلمان ہیں بےشک ہم گناہکار ہیں اور بے اتنہاء گناہگار ہیں ہر وہ گناہ ہم سے سرزد ہوتا ہے جو کہ اللہ کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے۔مگر یہ اسلام کی ہی شان و عظمت ہے کہ مسلمان جس قدر بھی گناہگار ہو اس کےگناہوں کی راکھ میں ایمان کی چنگاری کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوتی ہے۔

ترکی دوسرا حصہ

اس کی ایک عام سی مثال ہی لے لیں کہ ایک مسلمان جس نے کبھی زندگی میں اسلام کے مطابق کوئی کام نہ کیا ہو مگر اگرکوئی اُسکے سامنے نعوذ باللہ اسلام یا حضوراقدس ﷺ کے خلاف کوئی بات کرے تو وہ بھی شدتِ ایمان سے بےقابو ہوکر اسکی جان لینے کو تُل جاتا ہے۔کیونکہ ہمارے ایمان کی چنگاری کبھی بجھتی نہیں الحمدللہ۔کبھی کبھی یہی ہلکی سے ایمان کی آنچ ہی انسان کے دل میں وہ آگ جلاتی ہے جس کی رُوشنی اور حرارت سے بڑے بڑے چراغ رُوشن ہوجاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ اس شیطانی محفل میں بھی ہوا۔اس زیرزمینِ منعقداجلاس میں تین ترک افسران ایسے بھی تھے کہ جب اسلام کے خلاف ہونے والے فیصلوں کی ہیبت اور ہولناکی نے اُنکے دل دہلادیے،بے شک انکی وضع قطع یہودوہنود جیسی تھی مگر پھر بھی ان کے دل کہیں نہ کہیں ایمان کی کوئی رمک باقی تھی جب ان شیطانی فیصلوں کی ہولنا کی نے ان کے رُونگٹےکھڑے کیے تو ان میں موجود ایمان کی چنگاری چمک اُٹھی ۔

اُسی دُوران وہ کھڑے ہوگئے اور اسلام کے خلاف ان فیصلو ں پہ شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اقدام مسلمانوں کے لیے انتہاء درجے کے ہونگے یہ خود ہمارے اپنے لیے بھی نقصان دے ہوں گےاس لیے انہوں نے ان فیصلوں پہ اعتراض کو دُہراتے ہوئے ان کو ماننے سے انکار کردیا۔ مگر وہ ایک کہاوت ہے ناں کہ نقارخانے میں طوطی کی کون سُنتا ہے۔

ترکی دوسرا حصہ

کہاں وہ 300شیطان کے پجاری اور کہاں یہ 3افراد۔ ان کے ہراعتراض کو رد کردیاگیا اور انکی باتیں ان سُنی کردی گئیں۔ اللہ نے ان کے دل رُوشن کردیے اور یہی ایمان کی طاقت انہیں انتہائی غصے کے عالم میں اُس اجلاس سے اُٹھا کرلے گئی۔ 16 اگست کے بعد اب گھڑی نے رات 12 بجا کر 17 اگست کے دن کا اعلان کیا ۔ ابلیسی اور دجالی ٹولے کااجلاس پُوری آب وتاب سے ، بےخوف وخطر جاری رہا۔ رات کا عالم تھا ترک عوام بےفکر ہوکرسُوچکی تھی۔ یہاں تک کے دُنیا سارے دن کی تھکن کے بعد رات کی گود میں سکون واستراحت تلاش کرنےمیں مگن تھی مگر یہ بدبخت ٹولہ اللہ کی رحمت وہیبت دُونوں کو ہی بھول کر مسلمانوں اور اسلام کومٹانے میں اپنا سکون تلاش کررہے تھے۔ اب رات کا تیسرا پہر شروع تھا۔۔۔۔ بقیہ انشاءاللہ پہر پوسٹ ہوگا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here