The Godfather 11

'دی گاڈفادر' ایک مشہور زمانہ ناول ہے، جسے اطالوی امریکن ماریو پوزو نے 60ء کی دہائی میں لکھا تھا۔ اس ناول کی شہرت کو چار چاند لگائے 1972ء میں اسی نام سے جاری ہونے والی فلم نے، جسے تاریخ کی بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب عدالت ‏عظمیٰ نے 'پاناما اسکینڈل' کا فیصلے سنایا اور اس کا آغاز گاڈ فادر کے مشہور زمانہ جملے سے کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مہم کے طور پر لے کر اسے حکمران خاندان کے خلاف استعمال کیا اور سابق وزیراعظم کو گاڈ فادر سے تشبیہ دی۔ عدلیہ نے اس ناول کا حوالہ کیوں دیا؟ اردو دان طبقےکو یہ جاننے کا شوق ہوا۔ ' پاکستانی ' اپنے ایسے ہی قارئین کے لیے 'دی گاڈفادر' کا اردو ترجمہ پیش کررہا ہے۔ اس سے جہاں اس تاریخی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں علم ہوگا وہیں جدید ادب کے ایک شاہکار کا مطالعہ بھی ہوگا۔ ناول کا اُردو ترجمہ محمود احمد مودی نے کیا ہے، ان کے

0
792

گاڈ فادر 11

اسی شام ہیگن ڈان سے ملاقات کرنے اس کے گھر پہنچا۔ آیندہ روز چونکہ سولوزو سے ڈان کی ملاقات طے تھی۔ اس لیے ہیگن چاہتا تھا کہ اس سلسلے میں کچھ تیاری کرلی جائے۔ کچھ باتوں پر پیشگی غور کرلیا جائے۔ چنانچہ وہ شہر میں واقع اپنے لا آفس سے اُٹھا تو ڈان کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔

پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی

ڈان نے اپنے سب سے بڑے بیٹے سنی کو بھی اس گفتگو میں شریک کرنے کے لیے بلا رکھا تھا۔ ہیگن نے دیکھا کہ سنی کے کیوپڈ جیسے چہرے پر تھکن اور درماندگی تھی۔ وہ نیند کی کمی کا بھی شکار لگتا تھا۔ ہیگن سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ شاید وہ کچھ زیادہ ہی اس لڑکی کے چکر میں پڑگیا تھا جو اس کی بہن کی شادی کے موقع پر ’’میڈ آف آرنر‘‘ بنی تھی اور جس کے ساتھ وہ اسی روز آنکھ بچاکر گھر کے ایک کمرے میں چلا گیا تھا۔ اگر وہ اس لڑکی کے چکر میں اپنی نیند اور آرام سے بھی غافل رہنے لگا تھا تو یہ ہیگن کے لیے تشویش کی بات تھی۔

ڈان نے سگار کا کیش لیتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا۔
’’کیا ہم سولوزو کے بارے میں وہ سب کچھ جانتے ہیں جو ہمارے لیے جاننا ضروری ہوسکتا ہے؟‘‘

دی گاڈفادر 1 بھی پڑھیں

ہیگن کو یوں تو سب باتیں یاد تھیں، لیکن محض احتیاطاً اس نے ایک فائل کھول لی جس میں ضروری نوٹس موجود تھے، لیکن ان نوٹس سے کوئی دوسرا شخص اصل باتیں نہیں سمجھ سکتا تھا۔ وہ انہیں محض کاروباری یادداشتیں سمجھتا۔ فائل میں ایک طرح سے سولوزو سے ملاقات کا متوقع ایجنڈا بھی درج تھا۔

’’سولوزو ہمارے پاس مدد کی درخواست لے کر آرہا ہے۔‘‘ اس نے کہنا شروع کیا۔
’’وہ چاہتا ہے کہ ’’فیملی‘‘ اس کے کاروبار میں کم ازکم ایک ملین ڈالر لگائے اور بعض معاملات میں اسے قانون سے تحفظ فراہم کرے، جس کے بدلے میں ہمیں کچھ حصہ ملے گا۔ ابھی یہ طے نہیں ہے کہ وہ حصہ کتنا ہوگا۔ یہ بات سولوزو خود بتائے گا۔ سولوزو کی سفارش ’’ٹے ٹیگ لیا فیملی‘‘ کر رہی ہے۔ یہ فیملی اس کی پشت پناہی بھی کرتی ہے۔ شاید اسے بھی سولوزو کے کاروبار میں کچھ حصہ ملتا ہے۔ سولوزو جس کاروبار میں حصہ داری کی بات ہم سے کرنے آرہا ہے، وہ منشیات کا کاروبار ہے۔‘‘

ہیگن نے ایک لمحے کے لیے خاموش ہوکر ڈان اور سنی کی طرف دیکھا۔ وہ دونوں خاموش رہے اور ان کے چہروں پر کوئی تاثر نہیں اُبھرا توہیگن نے سلسلہ کلام جوڑا۔
’’سولوزو کے ترکی میں کچھ لوگوں سے رابطے اور تعلقات ہیں جو وہاں پوست کی کاشت کرتے ہیں۔ وہاں سے پوست کو بغیر کسی دشواری کے سسلی منتقل کرلیتا ہے۔ سسلی میں اس نے پلانٹ لگایا ہوا ہے جس کے ذریعے پوست سے ہیروئن تیار کی جاتی ہے۔ اس سے پہلے وہ پوست سے مارفین بھی تیار کرلیتا ہے اور چاہتا ہے تو اسے ہیروئن کے درجے تک لے آتا ہے۔ وہاں اس نے اس کام کے سارے انتظامات کررکھے ہیں اور اسے ہر طرح کا تحفظ بھی حاصل ہے۔ خطرے کی صورت میں اسے پیشگی اطلاع بھی مل جاتی ہے۔‘‘

دی گاڈفادر 2 بھی پڑھیں

ایک لمحے کے لیے خاموش ہوکر اس نے گہری سانس لی، پھر بولا:
’’یہاں تک تو سب ٹھیک ہے، اب وہ ہیروئن کو اس ملک میں لانا چاہتا ہے۔ ہیروئن یہاں لانے اور پھر اس کی تقسیم کاری کا نظام تیار کرنے میں اسے دشواریاں درپیش ہیں۔ اس سلسلے میں اسے مالی مدد بھی درکار ہے اور قانون سے تحفظ بھی۔۔۔ ان خطوط پر کاروبار کو پھیلانے کے لیے اس کے پاس سرمائے کی کمی ہے۔ اسے ایک ملین ڈالر کی ضرورت ہے جو ظاہر ہے ایک بڑی رقم ہے۔ ڈالر درختوں پر تو نہیں اُگتے۔‘‘

ہیگن نے دیکھا کہ اس لمحے ڈان نے دانت پیسے تھے۔ تب اسے یاد آیا کہ کاروباری گفتگو کے دوران ڈان کو محاوروں کا استعمال یا جذبات کا اظہار بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ جلدی سے بات آگے بڑھاتے ہوئے بولا:
’’سولوزو کی عرفیت ’’دی ترک‘‘ ہے۔ شناسا حلقوں میں اس کا ذکر صرف ترک کہہ کر بھی کیا جاتا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ترکی سے اس کا بہت رابطہ رہتا ہے۔ اس کی ایک بیوی بھی ترک ہے جس سے اس کے بچے بھی ہیں۔ سنا ہے سولوزو بے حد سفاک آدمی ہے اور نوجوانی کے زمانے میں چاقو کے استعمال میں بہت ماہر تھا۔ شاید وہ مہارت اب بھی برقرار ہو۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی سے جھگڑا صرف اسی وقت کرتا ہے جب کاروباری معاملات میں اس سے کوئی معقول شکایت یا اختلاف پیدا ہوجائے۔‘‘

دی گاڈفادر 3 بھی پڑھیں

ہیگن نے ایک لمحے کے لیے خاموش ہوکر فائل میں لگے ایک کاغذ پر اچٹتی سی نظر ڈالی، پھر بولا:
’’بہت باصلاحیت آدمی سمجھا جاتا ہے۔ اپنا باس خود ہے۔ کسی کی ماتحتی میں کام نہیں کرتا۔ پولیس کے پاس اس کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ کیونکہ وہ دو مرتبہ سزا بھی کاٹ چکا ہے۔ ایک مرتبہ اٹلی میں، دوسری مرتبہ امریکا۔۔۔ منشیات کے اسمگلر کی حیثیت سے وہ حکام کی نظر میں ہے۔ یہ چیز اس اعتبار سے ہمارے حق میں جاتی ہے کہ ایسے لوگ کبھی کسی کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہیں بن سکتے۔ اس کی ایک امریکی بیوی بھی ہے جس سے تین بچے ہیں۔ ترک بیوی ترکی میں رہتی ہے۔ اپنے کنبے کا پوری طرح خیال رکھنے والا آدمی سمجھا جاتا ہے، اگر اسے یہ اطمینان ہو کہ اس کی عدم موجودگی میں اس کی بیویوں اور بچوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی تو آرام سے کوئی سزا کاٹنے کے لیے جیل بھی چلا جائے گا۔‘‘

ڈان نے سگار منہ سے نکال کر اپنے بیٹے سنی کی طرف دیکھا اور پوچھا: ’’کیا خیال ہے سین ٹینو؟‘‘

ہیگن کا اندازہ تھا کہ سنی کیا سوچ رہا ہوگا۔ وہ مکمل طور پر ڈان کے زیر سایہ رہنے کے بارے میں کچھ عرصے سے مضطرب تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ اسے آزادانہ طور پر کوئی بڑا کام کرنے کو ملے۔ یہ اس کے لیے ایک اچھا موقع ہوسکتا تھا۔ شاید یہ ’’شعبہ‘‘ مکمل اور آزادانہ طورپر اس کے سپرد کردیا جاتا۔

دی گاڈفادر 4 بھی پڑھیں

سنی نے مشروب کا ایک گھونٹ بھرا اور ایک لمحے خاموش رہنے کے بعد محتاط انداز میں بولا:

’’اس پاؤڈر کے کاروبار میں دولت تو بہت ہے لیکن خطرات بھی ہیں۔ اس سلسلے میں اگر آدمی قانون کی گرفت میں آجائے تو بیس سال کے لیے جیل بھی جاسکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم باقاعدہ طور پر اس کام میں ملوث ہونے اور عملی طو رپر حصہ لینے سے دور ہی رہیں تو بہتر ہے۔ البتہ ہم اپنا کردار سرمایہ کاری اور قانونی تحفظ فراہم کرنے تک محدود رکھ سکتے ہیں۔‘‘

ہیگن نے تحسین آمیز نظروں سے سنی کی طرف دیکھا۔ اس نے بڑے تحمل اور سمجھ داری سے جواب دیا تھا اور جو کچھ وہ کہہ رہا تھا مناسب بھی وہی تھا۔ ہیگن کو اس سے اتنے معقول اور متوازن جواب کی توقع نہیں تھی۔

ڈان نے سگار کا ایک اور کش لے کر ہیگن کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا:
’’اور تم کیا کہتے ہو ہیگن؟‘‘

دی گاڈفادر 5 بھی پڑھیں

ہیگن نے ایک لمحے توقف کیا۔ وہ قطعی دیانت داری سے اپنی رائے دینا چاہتا تھا۔ اسے یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ ڈان سولوزو کی تجویز رد کردے گا اور اس کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔۔۔ اور ہیگن کو اس کے ساتھ اب تک کی رفاقت کے دوران میں پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا تھا کہ ڈان کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ وہ زیادہ آگے تک نہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظر مستقبل بعید پر نہیں تھی۔ ہیگن کو اندازہ تھا کہ ہیروئن کے کاروبار میں بہت پیسہ تھا اور مستقبل میں دنیا بھر میں اس کا سیلاب آنے والا تھا، لیکن مشکل یہ تھی کہ ڈان منشیات کے دھندے کو اچھا نہیں سمجھتا تا۔ وہ پیسے کے لالچ میں اس حد تک جانا نہیں چاہتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جب تک بھی ممکن ہوسکے، خود کو اس دھندے سے دور رکھا جائے۔ ’’فیملی‘‘ کو اس کاروبار کی طرف نہ لایا جائے۔

اسے خاموش دیکھ کر ڈان نے ہمت بڑھانے والے انداز میں کہا:
’’جو بھی تمہارے دل میں ہے کہہ ڈالو۔۔۔ ہیگن! ضروری نہیں کہ کوئی وکیل ہر معاملے میں ہی اپنے باس سے متفق ہو۔‘‘

’’میرے خیال میں تو آپ کو سولوزو کی تجویز قبول کرلینی چاہیے۔ اس کے لیے بہت سے دلائل دیے جاسکتے ہیں، لیکن سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ اس کام میں بہت پیسہ ہے اور اگر ہم اس میں ہاتھ نہیں ڈالیں گے تو کوئی اور ڈال دے گا۔ یہ تو بہرحال نہیں ہوگا کہ ہمارے باز رہنے سے امریکا میں ہیروئن نہیں آئے گی۔ اگر ہم پیچھے رہے تو ’’ٹے ٹیگ لیا فیملی‘‘ یقیناًآگے بڑھ کر اس میں ہاتھ ڈال دے گی۔ اس سے اس کی دولت میں جو اضافہ ہوگا، اس کے بل بوتے پر وہ مزید پولیس افسروں اور سیاست دانوں کو خریدلے گی۔ اس کے اثرورسوخ اور طاقت میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ وہ ہم سے زیادہ طاقتور ’’فیملی‘‘ بن جائے گی اور اس کے بعد وہ ہم سے وہ سب کچھ بھی چھیننے کے لیے حرکت میں آجائے گی جو ہمارے پاس اس وقت ہے۔۔۔‘‘

دی گاڈفادر 6 بھی پڑھیں

اس کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ اُبھری اور ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے سلسلہ کلام جوڑا۔ ’’ہم جیسی‘‘ فیملیز کا معاملہ بھی حکومتوں اور ملکوں والا ہوتا ہے۔ اگر ایک ملک اپنے آپ کو مسلح کرتا ہے تو دوسرے کو بھی اپنے آپ کو مسلح کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایک ملک اپنی فوجی طاقت اور ہتھیاروں میں اضافہ کرتا ہے تو دوسرے کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایک ملک زیادہ طاقتور ہوجاتا ہے تو دوسرے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ اس وقت مکمل طور پر جائز اور قانونی کاروبار کے علاوہ جن تھوڑے بہت غیرقانونی دھندوں میں ہمارا ہاتھ ہے وہ جوا اور یونین بازی ہے۔ ان دونوں چیزوں کی پشت پناہی سے ہمیں اچھی آمدنی ہو رہی ہے۔ موجودہ وقت کے لحاظ سے یہی بہترین دھندے ہیں، لیکن ہیروئن مستقبل کی چیز ہے۔ میرا خیال ہے ہمیں لازماً اس دھندے میں ہاتھ ڈالنا پڑے گا ورنہ ہماری باقی چیزیں بھی خطرے میں پڑجائیں گی۔ آج نہ سہی، لیکن دس سال بعد خطرہ ضرور لاحق ہوگا۔‘‘

ڈان اس کی تقریر سے خاصا متاثر نظر آرہا تھا تاہم اس نے بڑبڑانے کے اندازمیں صرف اتنا کہا:
’’ہاں۔۔۔ یقیناًیہ بات تو بہت اہم ہے۔‘‘

پھر ایک گہری سانس لے کر وہ اچانک ہی اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا:
’’اس شاطر آدمی سے کل مجھے کس وقت ملنا ہے؟‘‘

’’وہ صبح دس بجے یہاں پہنچ جائے گا۔‘‘ ہیگن نے جواب دیا۔ اسے کچھ اُمید نظر آنے لگی تھی کہ ڈان سولوزو کے ساتھ پارٹنر شپ پر آمادہ ہوجائے گا۔

دی گاڈفادر 7 بھی پڑھیں

ڈان انگڑائی لیتے ہوئے بولا:
’’میں چاہتا ہوں تم دونوں کل کی اس ملاقات کے دوران بھی موجود رہو۔۔۔‘‘ پھر وہ سنی کی طرف دیکھ کر بولا:
’’سین ٹینو! لگتا ہے تم آج کل آرام بالکل نہیں کررہے۔ اپنی صحت کا خیال رکھو اور نیند پوری لیا کرو۔ یہ جوانی زندگی بھر ساتھ نہیں دے گی۔‘‘

سنی نے گویا اس پدرانہ شفقت کے اظہار سے شہ پاکر پوچھا:
’’پاپا! آپ کا سولوزو کو کیا جواب دینے کا ارادہ ہے؟‘‘

’’ابھی میں کیا بتاسکتا ہوں؟ ابھی تو مجھے خود بھی معلوم نہیں ہے۔‘‘ ڈان مسکرایا۔
’’پہلے میں اس کی تجویز اس کی زبان سے سن تو لوں، مجھے تفصیلات معلوم ہونی چاہییں۔ یہ پتا چلنا چاہیے کہ وہ میں کتنے فیصد منافع کی پیش کش کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ہمارے جو بات چیت ہوئی ہے، میں آج رات اس پر غور کروں گا، میں جلدبازی میں فیصلے کرنے والا آدمی نہیں ہوں۔‘‘

دی گاڈفادر 8 بھی پڑھیں

وہ دروازے کی طرف چل دیا، لیکن دروازے پر رُک کر وہ مڑا اور بظاہر سرسری سے انداز میں ہیگن سے مخاطب ہوا:
’’تم نے سولوزو کے بارے میں کافی معلومات جمع کی ہیں، لیکن کیا تمہیں یہ معلوم ہے کہ جنگ سے پہلے سولوزو عورتوں کی دلالی سے پیسہ کماتا تھا؟ اور ’’ٹے ٹیگ لیا فیملی‘‘ تو ابھی تک یہ دھندا کرتی ہے۔ اگر تم نے اپنے کاغذات میں یہ بات نوٹ نہیں کی ہے۔۔۔ تو اب کرلو۔ کہیں تم بھول نہ جاؤ۔‘‘

ہیگن کے چہرے پر ہلکی سی سرخی آگئی تاہم وہ خاموش رہا۔ اسے یہ بات معلوم تھی، لیکن اس نے اسے غیراہم سمجھتے ہوئے جان بوجھ کر اس کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ڈان اس دھندے کو برا سمجھتا تھا۔ اس کی اپنی کچھ اخلاقیات تھیں۔
***

سولوزو کچھ ایسا دراز قد تو نہیں تھا لیکن کسی گینڈے کی طرح مضبوط دکھائی دیتا تھا۔ اس کا جسم ٹھوس اور ورزشی معلوم ہوتا تھا، اس کی رنگت ایسی تھی کہ اسے سچ مچ ترک بھی سمجھا جاسکتا تھا۔ اس کی ناک طوطے کی چونچ کی طرح مڑی ہوئی تھی اور اس کی سیاہ آنکھوں سے سفاکی جھلکتی تھی۔ وہ دیکھنے میں ہی ایک خطرناک آدمی معلوم ہوتا تھا، تاہم اس کی شخصیت میں وقار اور دبدبہ بھی تھا۔

دی گاڈفادر 9 بھی پڑھیں

سنی کارلیون نے مین گیٹ پر اس کا استقبال کیا اور اسے کمرے میں لے گیا جہاں ہیگن اور ڈان اس کے منتظر تھے۔ ہیگن نے اس کا جائزہ لینے کے بعد محسوس کیا کہ اس سے زیادہ خطرناک دکھائی دینے والا شخص براسی ہی تھا۔ اسے اب تک جن لوگوں سے واسطہ پڑا تھا، ان میں سے کوئی اسے طاقت اور خطرے کی اتنی واضح علامات لیے ہوئے دکھائی نہیں دیا تھا۔ اس کے مقابلے میں ڈان ایک عام۔۔۔ سادہ لوح۔۔۔ بلکہ کسی حد تک دیہاتی سا آدمی دکھائی دے رہا تھا۔

سب نے بظاہر خاصی خوش خلقی سے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔ رسمی طور پر سولوزو کی خاطر مدارت کے لیے عمدہ مشروب بھی پیش کیا گیا۔ اس نے تمہید اوررسمی گفتگو میں وقت ضائع نہیں کیا۔ جلد ہی وہ مطلب کی بات پر آگیا۔ اس کے پاس تجویز واقعی منشیات کے کاروبار کی تھی۔ تمام انتظامات کرلیے گئے تھے۔ ترکی میں پوست کی کاش کرنے والے کچھ لوگوں نے اسے ہر سال ایک مخصوص مقدار میں پوست مہیا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

اس کے پاس فرانس میں ایک پلانٹ تھا، جسے رشوت کے عوض تحفظ حاصل تھا۔ اس پلانٹ پر پوست سے مارفین تیار کی جاسکتی تھی۔ دوسرا پلانٹ اس کے پاس سسلی میں تھا۔ وہ بھی رشوت کی عنایت کی بدولت ہر قسم کے خطرات سے محفوظ تھا۔ اس پلانٹ کے ذریعے مارفین کو ہیروئن میں تبدیل کیا جاسکتا تھا۔ دونوں ملکوں میں پوست اور مارفین کی اسمگلنگ اور نقل وحرکت کے لیے بھی اسے ضروری تحفظ حاصل تھا۔

مال کو ریاست ہائے متحدہ امریکا تک لانے میں کل مالیت کا پانچ فیصد خرچ ہونا تھا۔ ایف بی آئی سے بچاؤ کا راستہ تلاش کرنا ضروری تھا۔ کیونکہ وہ ابھی کرپشن کی دیمک سی بچی ہوئی تھی۔ اسے رشوت کے ذریعے خریدنا ممکن نہیں تھا۔ اس کے باوجود سوزولو کی رائے میں ہیروئن کی اسمگلنگ میں خطرات نہ ہونے کے برابر تھے اور منافع اتنا زیادہ تھا جو دنیا کے کسی اور دھندے میں نہیں تھا۔

دی گاڈفادر 10 بھی پڑھیں

’’جب خطرات نہ ہونے کے برابر ہیں تو تم میرے پاس کیوں آئے ہو؟‘‘ ڈان نے ملائمت سے پوچھا۔
’’تم مجھے آسانی سے کمائے جانے والے بھاری منافع میں شریک کرنا چاہتے ہو۔ میں اس فیاضی اور فراخدلی کی وجہ جان سکتا ہوں؟‘‘

سولوزو اپنے چہرے سے کسی خاص ردِعمل کا اظہار کیے بغیر بولا:
’’سب سے پہلی وجہ تو یہ کہ مجھے اپنے کاروبار کو توسیع دینے کے لیے فوری طور پر سرمائے کی ضرورت ہے۔ مجھے دو ملین ڈالر نقد چاہییں۔ دوسری اتنی ہی اہم وجہ یہ ہے کہ خطرات کم ہونے کے باوجود بہرحال مجھے بعض خاص خاص جگہوں پر بیٹھے ہوئے افراد کے تعاون کی ضرورت پڑے گی۔ آنے والے برسوں میں میرے کچھ نہ کچھ کارندے بہرحال پکڑے جائیں گے۔ یہ امرناگزیر ہے تاہم میں یہ ضمانت دیتا ہوں کہ وہ پیشہ ور مجرم نہیں ہوں گے۔ ان کا ریکارڈ صاف ہوگا۔ اس لیے جج انہیں نرم سزائیں دینے پر مجبور ہوں گے۔ لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مجھے تمہارے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ اگر ان کارندوں کو یقین ہوگا کہ انہیں جیل میں ایک دوسال سے زیادہ عرصہ نہیں گزارنا پڑے گا تو پھر وہ زبان نہیں کھولیں گے۔‘‘

ایک گہری سانس لے کر وہ بولا:
’’لیکن اگر انہیں دس بیس سال کی سزا کا خطرہ نظر آیا تو پھر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ عین ممکن ہے وہ زبان کھول دیں۔ دنیا میں سبھی انسان تو مضبوط دل اور سخت جان نہیں ہوتے نا۔۔۔ ہوسکتا ہے وہ اپنے ساتھ کچھ اہم لوگوں کو بھی لے بیٹھیں اس لیے قانون کے شعبے میں یقینی تحفظ کی ضرورت ہے۔ میں نے سنا ہے بہت سے جج تمہاری جیب میں ہیں؟‘‘

ڈان کارلیون نے اس خیال کی تردید یا تصدیق کرنا ضروری نہیں سمجھا اور ہموار لہجے میں پوچھا:
’’میری فیملی کو منافع میں کتنے فیصد حصہ ملے گا؟‘

سولوزو کی آنکھوں میں چمک آگئی، وہ فوراً بولا:
’’پچاس فیصد۔۔۔ ہم ففٹی ففٹی کے پارٹنر ہوں گے، اس حساب سے پہلے سال میں تمہارا حصہ تین سے چار ملین کے درمیان ہوگا۔۔۔ اور آیندہ برسوں میں اس میں اضافہ ہوتا رہے گا۔‘‘

’’اور ٹے ٹیگ لیا فیملی کو کیا ملے گا؟‘‘ ڈان نے بدستور ملائمت سے پوچھا۔

سولوزو اس دوران میں پہلی بار قدرے مضطرب نظر آیا۔ وہ جلدی سے بولا:
’’انہیں میں جو کچھ بھی دوں گا، اپنے حصے میں سے دوں گا۔ بعض معاملات میں بہرحال مجھے ان کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔‘‘

’’یعنی مجھے صرف دو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اور کچھ قانونی تحفظ فراہم کرنے کے عوض پچاس فیصد حصہ ملے گا؟‘‘ ڈان نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔

’’اگر تم دو ملین ڈالر کا ذکر ایک معمولی رقم کی طرح کرسکتے ہو تو تمہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ تم واقعی اتنے ہی بڑے سرمایہ دار ہو جتنا تمہارے بارے میں عام تاثر ہے ڈان کارلیون!‘‘ سوزو کا لہجہ قدرے استہزائیہ ہوگیا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here