The Godfather 9

'دی گاڈفادر' ایک مشہور زمانہ ناول ہے، جسے اطالوی امریکن ماریو پوزو نے 60ء کی دہائی میں لکھا تھا۔ اس ناول کی شہرت کو چار چاند لگائے 1972ء میں اسی نام سے جاری ہونے والی فلم نے، جسے تاریخ کی بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب عدالت ‏عظمیٰ نے 'پاناما اسکینڈل' کا فیصلے سنایا اور اس کا آغاز گاڈ فادر کے مشہور زمانہ جملے سے کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مہم کے طور پر لے کر اسے حکمران خاندان کے خلاف استعمال کیا اور سابق وزیراعظم کو گاڈ فادر سے تشبیہ دی۔ عدلیہ نے اس ناول کا حوالہ کیوں دیا؟ اردو دان طبقےکو یہ جاننے کا شوق ہوا۔ ' پاکستانی ' اپنے ایسے ہی قارئین کے لیے 'دی گاڈفادر' کا اردو ترجمہ پیش کررہا ہے۔ اس سے جہاں اس تاریخی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں علم ہوگا وہیں جدید ادب کے ایک شاہکار کا مطالعہ بھی ہوگا۔ ناول کا اُردو ترجمہ محمود احمد مودی نے کیا ہے، ان کے

0
519

گاڈ فادر 9

کچھ دیر بعد وہ تیار ہوکر، اپنا بیگ لے کر شیشے کی دیوار والے برآمدے میں آگیا۔ وہ اپنے لیے کار کا انتظار کر رہا تھا۔ باہر خوبصورت درختوں سے آراستہ طویل وعریض احاطے میں فلڈ لائٹس کی وجہ سے تیز روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ دو درختوں کے پاس ایک شاندار لیموزین کھڑی تھی، لیکن ہیگن کو بتایا گیا تھا کہ اس کے لیے دوسری کار آئے گی۔

پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی

اسی اثناء میں اس نے حویلی کے کسی اور دروازے سے دو عورتوں کو نکل کر اس لیموزین کی طرف جاتے دیکھا۔ اس نے ذرا توجہ سے دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ ان میں سے ایک دراصل گیارہ بارہ سال کی وہی بچی تھی جسے اس نے صبح والز کے اسٹوڈیو کے استقبالیہ کمرے میں دیکھا تھا۔ اس کے ساتھ وہی عورت تھی جس کے بارے میں ہیگن کا اندازہ تھا کہ وہ بچی کی ماں تھی۔

اس کی تصدیق یوں بھی ہوگئی کہ بڑی سی گاڑی تک پہنچنے کے لیے انہیں خم دار راستے پر تھوڑا سا گھومنا پڑا اور یوں ان کے چہرے ہیگن کی طرف ہوگئے۔ تیز روشنی میں وہ انہیں صاف دیکھ سکتا تھا، جبکہ وہ خود لائٹ آن کیے بغیر برآمدے میں بیٹھا تھا۔ وہ دونوں شاید شیشے کی دیوار کے پار اسے نہیں دیکھ سکتی تھیں۔

ہیگن نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا، وہ اس جیسے آدمی کی رگوں میں بھی ایک لمحے کو خون منجمد کردینے کے لیے کافی تھا۔ عورت نے درحقیقت بچی کو سہارا دے رکھا تھا۔ اس کے باوجود وہ بھیڑ کے کسی نوزائیدہ بچے کی طرح چل رہی تھی۔ اس کی ٹانگیں لڑکھڑارہی تھیں۔ وہ قدم رکھ کہیں رہی تھی اور پڑ کہیں رہا تھا۔ اس کے بھرے بھرے ہونٹوں کی لپ اسٹک بری طرح پھیل گئی اور اس کی آنکھیں کچھ اس طرح پھٹی پھٹی سی تھیں جیسے وہ کوئی دہشت ناک خواب دیکھ کر جاگی ہو۔

ہیگن کو عورت کے ہونٹ ہلتے نظر آرہے تھے۔ وہ شاید لڑکی کو نیچی آواز میں صحیح طرح چلنے اور اپنے آپ کو سنبھالنے کی ہدایات دے رہی تھی، لیکن لڑکی سے صحیح طرح چلا ہی نہیں جارہا تھا۔ کار کے قریب وہ دونوں ایک لمحے کے لیے رُکیں اور عورت نے پلٹ کر عجیب سے انداز میں حویلی کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں فاتحانہ سی چمک تھی جیسے اس نے کوئی بڑا کارنامہ انجام دے دیا ہو۔۔۔ کوئی بہت بڑا مرحلہ سر کرلیا ہو اور کوئی بہت بڑی کامیابی اسے سامنے نظر آرہی ہو۔

دی گاڈفادر 1 بھی پڑھیں

وہ عورت اس لمحے ہیگن کو عورت نہیں، ایک گدھ محسوس ہوئی جو اپنی ہی بچی کی عزت اور معصومیت کی لاش کو نوچ نوچ کر کھارہی تھی۔ اس ایک لمحے میں سب کچھ ہیگن کی سمجھ میں آگیا۔ کسی مقصد کے لیے ماں نے اپنی نوخیز بچی کو سیڑھی بنایا تھا اور اس عمر میں والز کے اندر شیطان نے ایک نیا جنم لیا تھا۔

وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ بڑی سی سیاہ کار انہیں لے کر خاموشی سے رخصت ہوگئی۔ اس کا تاریک وجود، دوسری بہت سی تاریکیاں اپنے اندر چھپائے رات کی تاریکی میں مدغم ہوگیا۔ ہیگن نے زندگی میں بہت کچھ دیکھا تھا، لیکن اس لمحے وہ بھی حیرت، دُکھ اور تاسف سے سوچتا رہ گیا۔

’’یہ ہے وہ ہالی ووڈ۔۔۔ جس کے لوگ خواب دیکھتے ہیں؟ اور جونی اس جنگل سے چمٹے رہنے کے لیے بضد ہے؟‘‘

اب اس کی سمجھ میں آگیا کہ والز اسے اپنے ذاتی جہاز میں ساتھ لے کر یہاں کیوں نہیں آیا تھا۔ جہاز میں اس کے ساتھ یقیناًوہ ماں بیٹی آئی تھیں۔

چند لمحے بعد دوسری کار ہیگن کو لینے آگئی۔ اس نے دل ہی دل میں والز کو خدا حافظ کہا اور برآمدے سے نکل کر اس میں بیٹھ گیا۔

دی گاڈفادر 2 بھی پڑھیں


پال گیٹو کو جو حکم اچانک ملتا تھا اور جس پر اسے فوری طور پر عمل کرنے کی ہدایت کی جاتی تھی، وہ اسے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا۔۔۔ لیکن مجبوری تھی۔ ’’اوپر‘‘ سے ملنے والے ہر قسم کے احکام پر اسے عمل کرنا ہی پڑتا تھا۔ ورنہ وہ غوروخوض اور منصوبہ بندی سے کام کرنا پسند کرتا تھا۔ خاص طور پر ایسے کام جن میں مار پیٹ، تشدد اور سختی شامل ہوتی تھی۔ اس قسم کے کام کرنے میں کسی نہ کسی سے کوئی غلطی ہوسکتی تھی جو بعد میں مسئلہ بن سکتی تھی۔

آج رات کے لیے جو کام اس کے ذمے لگایا گیا تھا، وہ بھی اسی زمرے میں آتا تھا۔ وہ اس وقت بار میں بیٹھا بیئر کی چسکیاں لے رہا تھا اور بظاہر سرسری انداز میں گردوپیش کا جائزہ لے رہا تھا، لیکن درحقیقت اس کی نظر ان دو نوجوانوں کی طرف تھی جو کاؤنٹر کے سامنے بیٹھے پینے پلانے کے شغل کے ساتھ ساتھ دو لڑکیوں سے محو گفتگو تھے۔ وہ ایک خاص قماش کی لڑکیاں تھیں اور ان کی اصلیت ان کے چہروں پر لکھی تھی۔

گیٹو ان دونوں نوجوانوں کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کرچکا تھا۔ ان کے نام جیری اور کیون تھے۔ دونوں وجیہہ اور دراز قد تھے۔ دونوں کی عمریں بیس سے بائیس کے درمیان تھیں۔ دونوں طالب علم تھے۔ ان دنوں ان کی چھٹیاں تھیں۔ دونوں دوسرے شہر کے ایک کالج میں پڑھ رہے تھے اور دو ہفتے بعد انہیں وہاں جانا تھا۔ دونوں خوشحال والدین کی اولاد تھے۔ دونوں کے والدین کا سیاسی اثرورسوخ بھی، جس کی وجہ سے وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جبری بھرتی کی زد میں آنے سے بھی بچ گئے تھے۔

دی گاڈفادر 3 بھی پڑھیں

ان کے والدین کا اثرورسوخ انہیں اسی قسم کی نہیں بلکہ اور بھی کئی طرح کی مصیبتوں سے بچاتا تھا۔ مثلاً پچھلے دنوں انہوں نے بوناسیرا نامی ایک شخص کی نوجوان اور خوبصورت بیٹی کے ساتھ جو کچھ کیا تھا، اس کے سلسلے میں جج نے انہیں سزا تو سنائی تھی، مگر عملدرآمد معطل رکھا تھا، چنانچہ وہ اطمینان سے آزاد پھررہے تھے اور حسبِ معمول اپنے مشاغل میں مصروف تھے۔

وہ گویا ایک طرح سے ضمانت پر رہا تھے اور اس دوران ایک بار میں بیٹھ کر پینے پلانے اور ایک خاص قبیل کی لڑکیوں سے چہلیں کرکے وہ گویا ان قوانین کی خلاف ورزی کررہے تھے جن کے تحت جج نے انہیں رہا کیا تھا، لیکن لڑکوں کے اندازواطوار سے صاف ظاہر تھا کہ انہیں ان معاملات کی ذرا برابر بھی پروا نہیں تھی۔ وہ ہر اندیشے اور خوف سے بے نیاز، اپنے من چاہے انداز میں زندگی سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ یہ سب کچھ سوچتے ہوئے اور ان کی حرکتیں دیکھتے ہوئے گیٹو نے ایک بار پھر دل ہی دل میں انہیں گالی دی۔

حالانکہ گیٹو خود بھی جبری بھرتی سے بچ گیا تھا، لیکن وہ خود کو اس کا مستحق سمجھتا تھا۔ اس کے خیال میں محاذ پر جاکر ملک کے لیے لڑنے کی نسبت اپنے مالکان کے احکام کی تعمیل کرنا اور ان کے مفادات کی حفاظت کرنا زیادہ ضروری تھا۔ وہ چھبیس سال کا ایک صحت مند، سفید فام نوجوان تھا، لیکن جبری بھرتی کے دوران اس کا معاینہ کرنے والے ڈاکٹروں نے بورڈ کے سامنے اس کے بارے میں رائے دی تھی کہ اس کی ذہنی حالت قابلِ اعتبار نہیں ہے اور دماغ کے علاج کے سلسلے میں اسے بجلی کے جھٹکے بھی لگائے جاچکے ہیں۔ اس لیے اسے فوج میں بھرتی کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

دی گاڈفادر 4 بھی پڑھیں

چنانچہ اسے بھرتی سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ڈاکٹروں کی یہ رپورٹ جھوٹ پر مبنی تھی۔ اس کا انتظام مینزا نے کیا تھا، کیونکہ گیٹو اب ’’فیملی‘‘ کے لیے ایک قابلِ اعتماد کارندہ بن چکا تھا۔ کسی نہ کسی کام کے سلسلے میں اس کی ضرورت پیش آتی رہتی تھی اور اس نے ہمیشہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس لیے اسے فوج میں جانے سے بچالیا گیا تھا۔ گیٹو کو اس بات پر فخر تھا کہ اس کا شمار ’’فیملی‘‘ کے قابل اعتماد کارندوں میں ہونے لگا تھا۔

موجودہ کام کے بارے میں مینزا نے اسے عجلت کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ لڑکوں کے کالج واپس جانے سے پہلے ہدایات پر عمل ہوجانا چاہیے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر دونوں لڑکیوں کو بھی ساتھ لے لیتے تو پھر گیٹو کے لیے اپنے ’’پروگرام‘‘ پر عملدرآمد مشکل ہوجاتا۔ یوں ایک رات ضائع ہوجاتی۔

وہ کئی دنوں سے اس طرح ان لڑکوں کی نگرانی کر رہا تھا کہ انہیں اس کا شبہ تک نہیں ہوا تھا۔ وہ ان کے معمولات کا جائزہ لے رہا تھا۔ آج کی رات اسے ’’پروگرام‘‘ پر عملدرآمد کے لیے موزوں ترین محسوس ہوئی تھی، اس لیے اس نے حتمی انتظامات کرلیے تھے، لیکن کچھ دیر پہلے جیری اور کیون ان دو لڑکیوں سے چپک کر بیٹھ گئے تھے اور گیٹو کو اپنا ’’پروگرام‘‘ خطرے میں نظر آنے لگا تھا۔

دی گاڈفادر 5 بھی پڑھیں

اچانک اس نے ایک لڑکی کی خمار زدہ سی ہنسی کی آواز سنی۔ وہ جیری کی طرف جھک کر کہہ رہی تھی:

’’نہیں بھئی۔۔۔ میں تمہارے ساتھ کار میں کہیں نہیں جاؤں گی۔ میں نہیں چاہتی میرا حشر بھی اس لڑکی جیسا ہو جس کی وجہ سے پچھلے دنوں تم دونوں پکڑے گئے تھے اور تم پر مقدمہ چلا تھا۔‘‘

اس کی بات سن کر جیری نے جھک کر اس کے کان میں دھیرے سے کچھ کہا۔ شاید وہ اسے سمجھارہا تھا کہ اس لڑکی کی بات اور تھی جس کا ذکر ہورہا تھا جبکہ اب تو رضاورغبت والی صورت حال تھی۔۔۔ لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ اس کی ساتھی لڑکی بدستور نفی میں سر ہلاتی رہی۔ یہ دیکھ کر گیٹو نے قدرے اطمینان کی سانس لی۔

اس نے آثار سے اندازہ لگایا کہ دونوں لڑکیاں جیری اور کیون کے ساتھ نہیں جائیں گی۔ جیسی بھی تھیں۔۔۔ لیکن احتیاط پسند معلوم ہوتی تھیں۔ اس کا مطلب تھا کہ گیٹو کے لیے اپنے ’’پروگرام‘‘ پر عملدرآمد کے امکانات روشن ہوگئے تھے۔ وہ کافی حد تک مطمئن ہو کر اُٹھا اور باہر آگیا۔

دی گاڈفادر 6 بھی پڑھیں

رات آدھی سے زیادہ گزرچکی تھی۔ سڑک تقریباً سنسان تھی اور وہاں پر روشنی بھی کچھ زیادہ نہیں تھی۔ یہ دیکھ کر گیٹو نے مزید اطمینان کی سانس لی۔ صرف ایک بار اور کھلا تھا۔ دکانیں تقریباً سبھی بند ہوچکی تھیں۔ گویا حالات نہایت موافق تھے۔ علاقے کی پولیس کی گشتی کار کے سلسلے میں مینزا انتظام کرچکا تھا۔ معمول کی گشت کے سلسلے میں فی الحال اس کا اس طرف آنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ ’’طے‘‘ یہ پایا تھا کہ وہ تب ہی اس طرف آئے جب اسے یہاں کسی گڑبڑ کی اطلاع ملے گی اور اس وقت بھی وہ حتی الامکان سست رفتاری سے پہنچے گی۔

وہ اپنی شیور لیٹ سے ٹیک لگاکر کھڑا ہوگیا۔ اس کی پچھلی سیٹ پر دو جسیم آدمی بیٹھے تھے لیکن کار کی روشنی اور بھی کم پہنچ رہی تھی، اس لیے وہ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے تک وہ دونوں ٹرک چلایا کرتے تھے اور انہیں معمولی تنخواہیں ملتی تھیں، لیکن اب وہ بھی ’’فیملی‘‘ کے کارندوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان سے مخصوص قسم کے کام لیے جاتے تھے، لیکن انہیں صحیح طور پر معلوم نہیں تھا کہ وہ درحقیقت کس کے لیے کام کرتے تھے۔ وہ صرف گیٹو کو جانتے تھے جو ضرورت پڑنے پر انہیں طلب کرلیتا تھا، ہدایت دیتا تھا اور اپنی راہنمائی میں ان ہدایات پر عملدرآمد کرواتا تھا۔

دی گاڈفادر 7 بھی پڑھیں

اپنے حساب سے گویا انہیں اب کام بہت کرنا پڑتا تھا اور معاوضہ پہلے سے کہیں زیادہ ملتا تھا۔ گزر بسر نہایت آرام وآسائش سے ہوتی تھی۔ وہ بے حد خوش تھے۔ تازہ ترین ’’کام‘‘ کے سلسلے میں گیٹو انہیں دونوں لڑکوں کی تصویریں دکھاچکا تھا جو اس نے پولیس ریکارڈ سے حاصل کی تھیں۔

گیٹو نے ہدایات دیتے ہوئے کہا تھا: ’’بس۔۔۔ سر پر کوئی مہلک چوٹ نہیں لگنی چاہیے۔ اس کے علاوہ جو تمہارا دل چاہے، کرسکتے ہو۔۔۔ لیکن یاد رکھنا۔۔۔ اگر دونوں لڑکے دو مہینے سے پہلے ہسپتال سے باہر آئے تو تم دونوں کو واپس جاکر ٹرک ڈرائیوری ہی کرنی پڑے گی۔‘‘

دونوں جسیم اور مضبوط آدمی ذرا موٹے دماغ کے تھے، لیکن گیٹو کی ہدایات بڑی سعادت مندی سے ذہن نشین کرلیتے تھے۔ اس وقت گیٹو نے پچھلی کھڑکی پر ان کی طرف ذرا جھک کر نیچی آواز میں کہا:

’’وہ دونوں باہر آنے ہی والے ہیں۔ اپنے کام کے لیے تیار رہو۔‘‘

وہ دونوں دروازہ کھول کر آہستگی سے باہر آگئے۔ وہ خاصے دراز قد تھے۔ کرختگی اور مضبوطی ان کے چہرے مہرے اور خدوخال سے عیاں تھی۔ کسی زمانے میں وہ دونوں باکسر بھی رہے تھے، لیکن اس میدان میں نام پیدا نہیں کرسکے تھے۔ ان کی ٹرک ڈرائیوری کے زمانے میں گیٹو نے انہیں ایک پرانے قرض سے بھی نجات دلائی تھی، جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان رہتے تھے۔ اس قرض کی ادائیگی کے لیے رقم سنی کارلیون نے فراہم کی تھی۔

دی گاڈفادر 8 بھی پڑھیں

جب جیری اور کیون بار سے باہر آئے تو وہ گویا خود بھی اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے کے لیے پوری طرح تیار تھے۔ ایک تو خمار نے ان کے حواس دھندلادئیے تے۔ دوسرے دونوں لڑکیوں نے ان کے ساتھ چلنے سے انکار کرکے گویا ان کے ارمانوں پر پانی پھیردیا تھا۔ وہ کسی صورت مان کر نہیں دی تھیں۔ اس وجہ سے دونوں کا موڈ آف تھا اور جھنجھٹ کے باعث ان کی کنپٹیاں تپ رہی تھیں۔

وہ شیور لیٹ کے قریب پہنچے تو گیٹو استہزائیہ اور بلند آواز میں بولا:

’’بھئی واہ۔۔۔ ان دونوں لڑکیوں نے تمہیں خوب ٹکا سا جواب دیا۔‘‘

دونوں لڑکوں نے گردنیں گھماکر آنکھیں سکیڑتے ہوئے گیٹو کی طرف دیکھا۔ انہوں نے یقیناًیہی محسوس کیا کہ اپنا غصہ اور جھنجھلاہٹ نکالنے کے لیے انہیں ایک شاندار ’’ہدف‘‘ میسر آگیا تھا، کیونکہ گیٹو زیادہ جسیم یا شخصیت کے اعتبار سے بارعب نہیں تھا۔ وہ میانہ قامت اور خوش لباس آدمی تھا۔ بعض خاص دکانوں سے سودے بازی کرکے کم قیمت میں ایسے سوٹ خریدلیتا تھا جن میں وہ نہایت معزز آدمی نظر آتا تھا گو کہ اس کا چہرہ نیولے کی طرح سوکھا سا تھا۔ وہ کسی بھی اعتبار سے لڑنے والا یا خطرناک آدمی دکھائی نہیں دیتا تھا۔

دونوں نوجوان بلاتامل اس پر جھپٹے، لیکن وہ نہایت پھرتی سے جھکائی دے کر ایک طرف ہوگیا۔ اسی لمحے عقب سے ان دونوں نوجوانوں کے بازو گویا آہنی شکنجوں میں پھنس گئے۔ تب انہیں احساس ہوا کہ وہاں وہ دو آدمی اور بھی موجود تھے، جنہوں نے عقب سے نہایت ماہرانہ انداز میں اور بےحد مضبوطی سے انہیں گرفت میں لے لیا تھا۔

دی گاڈفادر 10 بھی پڑھیں

اسی دوران میں گیٹو اپنے ہاتھ پر پیتل کا ایک مختصر سا خول چڑھاچکا تھا جس پر نہایت ننھے ننھے سے کانٹے بھی اُبھرے ہوئے تھے۔ یہ خول چڑھانے سے اس کا گھونسا گویا ایک کھردرا، آہنی گھونسا بن گیا تھا۔ اس نے تاک کر نہایت پھرتی سے یہ گھونسا ایک نوجوان کی ناک پر رسید کیا۔ ایک ہی گھونسے میں اس کی ناک چپٹی ہوگئی اور خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔

عقب سے جس شخص نے اس لڑکے کو قابو میں کیا ہوا تھا۔ اس نے اسے ہوا میں سڑک سے اونچا اٹھالیا۔ اب وہ گیٹو کے سامنے اس بوری کی طرح لٹکا ہوا تھا جس پر گھونسے بازی کی مشق کی جاتی ہے۔ گیٹو نے اس پر سچ مچ مشق شروع کردی۔ اس نے اتنی پھرتی سے اس کی ناف پر گھونسے برسائے کہ اسے حلق سے آواز نکالنے کی بھی مہلت نہ ملی۔

جب لمبے تڑنگے شخص نے اسے چھوڑا تو وہ پٹ سے چھپکلی کی طرح سڑک پر گرا تب لمبے تڑنگے شخص نے اسے ٹھوکروں پر رکھ لیا حالانکہ اس میں مزاحمت کی سکت نہیں رہی تھی۔ ادھر دوسرے نوجوان نے چیخنے کی کوشش کی تھی، لیکن دوسرے لمبے تڑنگے شخص نے اس کی گردن کے گرد اپنے بازو کا شکنجہ کس دیا تھا اور اس کی آواز حلق میں ہی گھٹ کر رہ گئی تھی۔ پھر اس شخص نے مشینی انداز میں اس کی بھی ہڈی پسلی ایک کرنا شروع کردی۔

صرف چھ سیکنڈ میں یہ سب کچھ ہوگیا تھا۔ گیٹو نے مزید زحمت نہیں کی۔ دونوں نوجوانوں کا بھرتا بنانے کے لیے وہ دونوں لمبے تڑنگے آدمی ہی کافی تھے۔ وہ اطمینان سے گاڑی میں جابیٹھا اور اس نے انجن اسٹارٹ کردیا۔ دونوں نے نوجوانوں کی پٹائی اس انداز میں جاری رکھی کہ یکے بعد دیگرے ان کی ہڈیاں ٹوٹ رہی تھیں، مگر ان کے حلق سے ’’اوع۔۔۔ آع‘‘ کے علاوہ کوئی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔ جلد ہی یہ آوازیں بھی معدوم ہوگئیں۔

دونوں لمبے تڑنگے آدمی تاک کر نہایت ماہرانہ اور نپے تلے انداز میں وار کر رہے تھے۔ ان کے انداز میں ذرا بھی گھبراہٹ یا عجلت نہیں تھی اور ان کا کوئی وار اچٹتا ہوا نہیں پڑ رہا تھا۔ گیٹو کو گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اس دوران میں کیون کے چہرے کی جھلک نظر آئی۔ وہ ناقابل شناخت ہوچکا تھا۔ دونوں لڑکوں کے ہاتھ پاؤں اور جسم کی بیشتر ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں۔

آس پاس کی عمارتوں میں شاید کچھ لوگوں کو احساس ہوگیا تھا کہ گلی میں کچھ گڑبڑ تھی۔ کئی کھڑکیاں کھلیں اور کئی چہرے جھانکتے دکھائی دیے، مگر جلد ہی کھڑکیاں بند ہوگئیں۔ کسی نے باہر آکر دخل اندازی کرنا تو درکنار، یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ معاملہ کیا تھا۔ بار میں سے بھی کچھ لوگ نکل کر باہر آن کھڑے ہوئے تھے، مگر ان میں سے بھی کسی نے اس معاملے میں مداخلت نہیں کی۔ وہ سب دور کھڑے خوفزدہ نظروں سے، سفاکانہ انداز میں نوجوانوں کی درگت بنتے دیکھتے رہے۔

دی گاڈفادر 11 بھی پڑھیں

’’چلو۔۔۔ بس۔۔۔ کافی ہے۔‘‘ گیٹو نے گاڑی میں سے ہانک لگائی اور دونوں لمبے تڑنگے آدمی اطمینان سے ہاتھ جھاڑکر گاڑی میں جابیٹھے۔ دونوں نوجوان گٹھڑیوں کی سی صورت میں سڑک پر بے حس وحرکت پڑے تھے۔

گیٹو نے ایک جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھادی۔ اسے اس بات کی پروا نہیں تھی کہ کسی نے شیور لیٹ کا نمبر نوٹ کرلیا ہوگا۔ وہ چوری کی شیورلیٹ تھی۔ اس ماڈل اور اس رنگ کی ہزاروں گاڑیاں شہر میں موجود تھیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here