The Godfather 4

'دی گاڈفادر' ایک مشہور زمانہ ناول ہے، جسے اطالوی امریکن ماریو پوزو نے 60ء کی دہائی میں لکھا تھا۔ اس ناول کی شہرت کو چار چاند لگائے 1972ء میں اسی نام سے جاری ہونے والی فلم نے، جسے تاریخ کی بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب عدالت ‏عظمیٰ نے 'پاناما اسکینڈل' کا فیصلے سنایا اور اس کا آغاز گاڈ فادر کے مشہور زمانہ جملے سے کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مہم کے طور پر لے کر اسے حکمران خاندان کے خلاف استعمال کیا اور سابق وزیراعظم کو گاڈ فادر سے تشبیہ دی۔ عدلیہ نے اس ناول کا حوالہ کیوں دیا؟ اردو دان طبقےکو یہ جاننے کا شوق ہوا۔ ' پاکستانی ' اپنے ایسے ہی قارئین کے لیے 'دی گاڈفادر' کا اردو ترجمہ پیش کررہا ہے۔ اس سے جہاں اس تاریخی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں علم ہوگا وہیں جدید ادب کے ایک شاہکار کا مطالعہ بھی ہوگا۔ ناول کا اُردو ترجمہ محمود احمد مودی نے کیا ہے، ان کے

0
655

گاڈ فادر 4

ہیگن نے ایک پیڈ پر یہ اہم نکات نوٹ کیے، پھر فہرست کے مطابق دوسرے ملاقاتی کو بلانے چلا گیا۔ اس بار اس کے ساتھ اندر آنے والے آدمی کا نام کپولا تھا۔ اس کے باپ کے ساتھ ڈان نے اپنی نوجوانی کے زمانے میں ریلوے یارڈ میں کام کیا تھا۔ کپولا کو پیزا کی دُکان کھولنے کے لیے پانچ سو ڈالر کی ضرورت تھی اور اسے کہیں سے قرض نہیں مل رہا تھا۔

ڈان نے جیب میں ہاتھ ڈال کر نوٹ نکالے، لیکن وہ کل چار سو ڈالر تھے۔ اس نے دانت بھینچ کر گہری سانس لی اور ہیگن سے مخاطب ہوا:

پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی

’’ذرا سو ڈالر اُدھار تو دینا۔۔۔ پیر کو میں بینک جاؤں گا تو واپس دے دوں گا۔۔۔‘‘

’’کوئی بات نہیں۔۔۔ چار سو ڈالر سے بھی کام چل جائے گا۔‘‘ سائل جلدی سے بولا۔

’’جب تم نے پانچ سو ڈالر مانگے ہیں تو پانچ سو ہی ملیں گے۔‘‘ ڈان نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ پھر اس کا لہجہ معذرت خواہانہ ہوگیا۔

’’دراصل شادی کی تیاریوں کے چکر میں میری جیب میں نقد رقم نہیں رہی۔‘‘

دی گاڈفادر 1 بھی پڑھیں

ہیگن نے اپنی جیب سے سو ڈالر نکال کر ڈان کی طرف بڑھادیے۔ اسے ڈان کا اصول معلوم تھا کہ ذاتی طور پر وہ رقم کے معاملے میں کسی پر احسان کرتا تھا تو اپنی جیب سے نقد رقم نکال کر دیتا تھا۔ چیک وغیرہ نہیں لکھتا تھا اور نہ ہی اس رقم کا کہیں اندراج ہوتا تھا۔ کپولا جیسے آدمی کے لیے یقیناًیہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا کہ ڈان جیسی شخصیت اسے قرض دینے کے لیے خود اپنے ملازم سے اُدھار مانگ رہی تھی۔ بے شک ڈان کروڑ پتی تھالیکن کروڑپتی بھلا کسی چھوٹے آدمی کے کام آنے کے لیے اتنی زحمت کرسکتے تھے؟

کپولا کے جانے کے بعد ہیگن بولا:

’’لوکا براسی کا نام فہرست میں نہیں ہے، لیکن وہ بھی تخلیے میں آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ شاید وہ خاص طور پر صرف اس بات کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہے کہ آپ نے اسے شادی میں مدعو کیا۔ اسے اس کی اُمید نہیں تھی۔‘‘

ڈان کے چہرے پر ہلکی سی ناگواری اُبھری، جیسے وہ محض اس مقصد کے لیے براسی سے ملنا ضروری نہ سمجھتا ہو۔۔۔ لیکن پھر وہ گہری سانس لے کر بولا:

دی گاڈفادر 2 بھی پڑھیں

’’چلو! خیر۔۔۔ بلالو اسے بھی۔۔۔‘‘

باہر باغ میں مائیکل کی منگیتر کے دور سے ہی براسی کو دیکھ کر حیران ہورہی تھی کیونکہ وہ چہرے مہرے سے ہی ایک خطرناک اور خونخوار آدمی نظر آتا تھا۔ وہ مائیکل سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔

مائیکل حقیقت میں ’’کے‘‘ کو اسی مقصد کے لیے ساتھ لایا تھا کہ وہ اسے دھیرے دھیرے اپنے باپ کی اصل حیثیت اور ’’فیملی‘‘ کے بارے میں حقائق کو قبول کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرسکے۔ وہ اس کے ذہن میں اپنے باپ اور ’’فیملی‘‘ کا قدرے بہتر تصور بٹھانا چاہتا تھا تاکہ اسے کبھی اچانک کسی قسم کا دھچکا نہ لگے لیکن اسے لگ رہا تھا کہ ’’کے‘‘ نے حقیقت کو کسی نہ کسی حد تک محسوس کرلیا تھا۔

وہ ایک ذہین لڑکی تھی۔ اس نے غالباً یہ رائے قائم کی تھی کہ ڈان کا سارا ہی بزنس کچھ اتنا زیادہ شریفانہ، معززانہ اور اخلاقی حدود وقیود کے اندر نہیں تھا۔ کہیں نہ کہیں، کچھ نہ کچھ ناخوشگوار پہلو موجود تھے۔ آخر مائیکل نے فیصلہ کیا کہ ’’کے‘‘ کو آہستہ اور نرمی کے ساتھ، مناسب حد تک، حقائق سے روشناس کرانا ہی بہتر ہے۔ بہت کھلے اور واضح انداز میں نہیں لیکن مبہم اور ذرا ڈھکے چھپے انداز میں یہ کام کرنا ضروری تھا۔

دی گاڈفادر 3 بھی پڑھیں

اس نے براسی کے بارے میں ’’کے‘‘ کو بتایا:

’’سنا ہے کہ مشرقی علاقے کے انڈرورلڈ میں یہ شخص دہشت کی علامت ہے۔ یہ کسی کی بھی مدد کے بغیر کسی کو اس طرح قتل کرسکتا ہے کہ پولیس یا ایف بی آئی کبھی حقیقت کا سراغ نہیں پاسکتی اور کوئی ایسا نکتہ تلاش نہیں کرسکتی جس کی بنا پر وہ اس پر ہاتھ ڈال سکے۔‘‘

پھر مائیکل کے چہرے پر قدرے ناگواری اُبھر آئی اور ایک لمحے کے توقف کے بعد وہ ذرا ناپسندیدگی سے بولا:

’’یہ شخص کسی حد تک میرے والد کا دوست ہے۔‘‘

مائیکل نے سر اُٹھاکر کے کی طرف دیکھا۔ ’’کے‘‘ کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ گویا بے یقینی سے بولی:

’’کہیں تم مجھے یہ بتانے کی کوشش تو نہیں کررہے کہ یہ آدمی تمہارے والد کے لیے کام کرتا ہے؟‘‘

مائیکل نے دل ہی دل میں مصلحت پسندی پر لعنت بھیجی اور کافی حد تک کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ بولا:

دی گاڈفادر 5 بھی پڑھیں

’’تقریباً پندرہ سال پہلے کچھ لوگوں نے میرے والد کے، تیل کی امپورٹ کے کاروبار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ میرے والد اٹلی سے زیتون کا تیل امپورٹ کرنے والے سب سے بڑے امپورٹر ہیں۔ جو لوگ ان کے کاروبار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، انہوں نے انہیں قتل کرنے کی بڑی کوشش کی تھی اور یوں سمجھو کہ وہ اپنے مقصد میں تقریباً کامیاب ہی ہوگئے تھے۔ اس وقت براسی ان سے نمٹنے کے لیے نکلا تھا۔۔۔ سنا ہے اس نے دو ہفتوں کے اندر اندر چھ آدمیوں کو قتل کرڈالا تھا جس کے بعد وہ لڑائی ختم ہوگئی تھی جسے انڈر ورلڈ کی اصطلاح میں ’’اولیو آئل وار‘‘ کہا جاتا تھا۔‘‘

مائیکل نے یہ کہتے ہوئے اس انداز سے مسکرانے کی کوشش کی جیسے اس نے کوئی لطیفہ سنایا تھا۔

’’کیا گروہ بازوں نے تمہارے والد کو گولی ماردی تھی؟‘‘ ’’کے‘‘ نے دریافت کیا۔

’’ہاں۔۔۔! لیکن یہ پندرہ سال پہلے کی باتیں ہیں۔ تب سے اب تک حالات بالکل پُرسکون ہیں۔‘‘ اس نے گویا ’’کے‘‘ کو تسلی دی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں اس نے ’’کے‘‘ کو ضرورت سے زیادہ تو نہیں بتادیا؟ اور یہ بات ان کے باہمی تعلق کے لیے نقصان دہ تو ثابت نہیں ہوگی؟

’’تم اصل میں مجھے ڈرانے کی کوشش کررہے ہو۔‘‘ کے نے مسکراتے ہوئے ہولے سے اس کی پسلیوں میں کہنی ماری۔

دی گاڈفادر 6 بھی پڑھیں

’’تم چاہتے ہو کہ میں تم سے شادی سے انکار کردوں۔‘‘

مائیکل تحمل سے مسکرایا اور بولا: ’’نہیں، میں چاہتا ہوں کہ تم شادی سے پہلے ان باتوں کے بارے میں سوچ لو، غور کرلو۔‘‘

’’کیا اس نے واقعی چھ آدمیوں کو قتل کیا تھا؟‘‘ کے نے براسی کی طرف دیکھتے ہوئے بے یقینی سے پوچھا۔

’’اخبارات نے تویہی لکھا تھا، لیکن کوئی بھی اس بات کو ثابت نہیں کرسکا تھا۔‘‘ مائیکل نے کہا۔ ’’اس کے بارے میں اس سے بھی زیادہ خوفناک ایک کہانی اور بھی ہے لیکن وہ اخبارات میں نہیں آسکی۔ میرے والد اس کے بارے میں زبان نہیں کھولتے۔ ڈیڈی کا وکیل ٹام ہیگن اس کہانی سے واقف ہے، لیکن وہ بھی مجھے کچھ نہیں بتاتا۔ ایک بار میں نے اس سے پوچھا تھا کہ کس عمر میں تم مجھے اس قابل سمجھوگے کہ وہ کہانی سناسکو؟ تو اس نے جواب دیا کہ جب تم سو سال کے ہوجاؤگے!‘‘

دی گاڈفادر 7 بھی پڑھیں

یہ کہہ کر مائیکل نے ٹھنڈی سانس لی اور گلاس سے مشروب کی چسکی لے کر بولا:

’’نہ جانے وہ کیا کہانی ہوگی!‘‘

براسی درمیانے قد۔۔۔ مگر مضبوط جسم کا ایک ایسا آدمی تھا جس کی طرف غور سے دیکھنے پر اچھے بھلے دلیر انسان کے جسم میں بھی پھریریاں سی دوڑنے لگتی ہیں۔ اس کے پتلے پتلے ہونٹ سفاکانہ انداز میں بھینچے رہتے تھے اور اس کی آنکھوں سے موت کی سرد مہری جھلکتی تھی۔ انڈرورلڈ کے لوگ بھی اس سے خوف کھاتے تھے، لیکن ڈان کارلیون کا وہ بے حد وفادار تھا۔ ڈان سے اس کی یہ وفاداری بے مثالی تھی اور ڈان کی سلطنت کے ڈھانچے میں وہ ایک اہم ستون تھا۔ لوگوں کا خیال کہ اس طرح کے کردار اب بہت کمیاب تھے۔

براسی دنیا میں کسی سے نہیں ڈرتا تھا، البتہ اس نے اپنی مرضی سے گویا خود کو ڈان سے ڈرنے اور اس کی عزت کرنے کا پابند بنارکھا تھا۔ وہ ہیگن کے ساتھ اس کے کمرے میں داخل ہوا تو ڈان کو سامنے پاکر اس کا انداز نہایت مودبانہ ہوگیا۔ اس نے پہلے ڈان کو بیٹی کی شادی کی مبارک باد دی، پھر دُعا کی کہ اس کی بیٹی کے ہاں پہلی اولاد لڑکا ہو۔ اس کے بعد اس نے موٹا سا ایک لفافہ نکال کر ڈان کی خدمت میں پیش کیا۔

دی گاڈفادر 8 بھی پڑھیں

تب ہیگن سمجھ گیا کہ براسی کیوں خاص طور پر ڈان سے تنہائی میں مل کر اسے بیٹی کی شادی کی مبارک باد دینا چاہتا تھا۔ دراصل اس نے اندازے لگاکر اپنی دانست میں تمام مہمانوں سے زیادہ رقم تحفے کے طو رپر پیش کرنا تھی۔ اس رقم کا لفافہ وہ براہِ راست ڈان ہی کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا۔ ڈان نے وہ لفافہ ایک شاہانہ تمکنت کے ساتھ قبول کرلیا اور اس کے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ آگئی۔ براسی کا سر گویا فخر سے بلند ہوگیا۔ اس کے چہرے کی خشونت اور خونخواری اس لمحے کم ہوگئی۔ اس نے جھک کر نہایت احترام سے ڈان کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور دروازے کی طرف چل دیا۔ ہیگن اس کے لیے دروازہ کھولے کھڑا تھا۔

اس کے جانے کے بعد ڈان نے طمانیت کی گہری سانس لی اور اس کے خیال میں براسی ڈائنامائٹ کی طرح تھا اور اسے احتیاط سے ہینڈل کرنے کی ضرورت تھی، تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ وہ براسی سے کسی قسم کا خوف محسوس کرتا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ڈائنامائٹ سے بھی خود کو نقصان پہنچائے بغیر اسے اپنے مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کیا جاسکتا تھا۔

’’کیا اب صرف بونا سیرا باقی رہ گیا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

ہیگن نے اثبات میں سر ہلایا تو ڈان ایک لمحے پُرخیال انداز میں چپ رہنے کے بعد بولا:

’’اسے بلانے سے پہلے سین ٹینو کو بھی یہاں بلالو۔ میں چاہتا ہوں کہ ان باتوں۔۔۔ اور ان ملاقاتوں سے بھی وہ کچھ سیکھے۔‘‘

ہیگن جلدی سے مضطربانہ انداز میں باہر چلا گیا۔ اسے اندازہ تھا کہ سین ٹینو عرف سنی اس وقت کسی کمرے میں دُلہن کی سہیلی کے ساتھ داد عیش دے رہا ہوگا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر یہ بات کھل جائے تو کیا ہنگامہ اُٹھ کھڑا ہو، اس نے احتیاطاً پہلے اسے نظروں ہی نظروں میں باغ میں تلاش کیا، لیکن وہ وہاں نہیں تھا۔ ہیگن نے اسے آدھا گھنٹہ پہلے اوپر کی منزل کی طرف جاتے دیکھا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ ابھی وہیں تھا کیونکہ لوسی بھی کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔

دی گاڈفادر 9 بھی پڑھیں

اس نے ٹھنڈی سانس لی اور واپس مڑگیا۔ اس دوران میں مائیکل کی منگیتر ’کے‘ نے بھی اسے دیکھ لیا تھا۔ وہ اس کے بارے میں مائیکل سے پوچھنے لگے اور بولی:

’’یہ شخص حقیقت میں کون ہے؟ اس سے جب بھی میری ملاقات ہوئی، اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے خود کو تمہارا بھائی کہا تھا۔۔۔ لیکن نہ تو اس کی شکل میں تم بھائیوں کی ذرا سی بھی شباہت ہے اور نہ ہی یہ اُطالوی معلوم ہوتا ہے۔‘‘

’’یہ اصل میں بارہ سال کی عمر میں ہمارے گھر میں آیا تھا اور یہیں پلا بڑھا ہے۔‘‘ مائیکل نے بتایا۔

’’اس کے والدین مرگئے تھے اور یہ لاوارثوں کی طرح گلیوں میں دھکے کھارہا تھا۔ انفیکشن سے اس کی ایک آنکھ خراب ہورہی تھی۔ سنی ترس کھاکر اسے اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ بس۔۔۔ تب سے یہیں ہے۔ اس کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا جہاں یہ جانتا۔ یہ ہمارے ساتھ ہی پلا بڑھا۔ اس کی آنکھ کا علاج کرایا گیا۔ اسے قانون کی تعلیم دی گئی۔ اسے وکیل بننے کا شوق تھا۔ پھر اس کی شادی بھی ہوگئی۔ اب یہ میرے والد کا وکیل ہے۔‘‘

’’حیرت ہے!‘‘ کے نے ایک بار پھر آنکھیں پھیلائیں۔

’’یہ تو بالکل فلموں اور قصے کہانیوں جیسا واقعہ ہے۔ تمہارے والد یقیناًبہت رحم دل انسان ہیں جو انہوں نے ایک یتیم اور لاوارث لڑکے کو گود لیا اور اتنے اچھے طریقے سے پرورش کی۔۔۔ جبکہ ان کے اپنے بھی کئی بچے تھے۔‘‘

دی گاڈفادر 10 بھی پڑھیں

’’انہوں نے اسے گود نہیں لیا تھا، اڈاپٹ نہیں کیا تھا۔‘‘ مائیکل نے گویا اس کی غلط فہمی دور کی۔

’’بس اس نے ہمارے ہاں پرورش پائی ہے اور اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ میرے والد کے اپنے بھی کئی بچے تھے۔ ہم صرف چار بہن بھائی ہیں اور اطالویوں کے ہاں چار بچوں کو زیادہ نہیں سمجھا جاتا۔ اسے اڈاپٹ نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ میرے والد کے خیال میں کسی بھی بچے کو اس کے اصل والدین کے ناموں سے محروم کرکے اپنے نام کے ساتھ نتھی کردینا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ وہ اس کے قائل نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں یہ اصل والدین کی توہین ہے۔‘‘

اس دوران انہوں نے دیکھا کہ ہیگن کہیں سے سنی کو تلاش کرکے اپنے ساتھ اندر لے جارہا تھا۔ جاتے جاتے اس نے بونا سیرا کو بھی اندر آنے کا اشارہ کیا۔ بونا سیرا جلد سے ادھر لپکا۔ یہ دیکھ کر ’کے‘ کو گویا ایک اور سوال کرنے کا موقع مل گیا۔

دی گاڈفادر 11 بھی پڑھیں

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here