The Godfather 3

'دی گاڈفادر' ایک مشہور زمانہ ناول ہے، جسے اطالوی امریکن ماریو پوزو نے 60ء کی دہائی میں لکھا تھا۔ اس ناول کی شہرت کو چار چاند لگائے 1972ء میں اسی نام سے جاری ہونے والی فلم نے، جسے تاریخ کی بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب عدالت ‏عظمیٰ نے 'پاناما اسکینڈل' کا فیصلے سنایا اور اس کا آغاز گاڈ فادر کے مشہور زمانہ جملے سے کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مہم کے طور پر لے کر اسے حکمران خاندان کے خلاف استعمال کیا اور سابق وزیراعظم کو گاڈ فادر سے تشبیہ دی۔ عدلیہ نے اس ناول کا حوالہ کیوں دیا؟ اردو دان طبقےکو یہ جاننے کا شوق ہوا۔ ' پاکستانی ' اپنے ایسے ہی قارئین کے لیے 'دی گاڈفادر' کا اردو ترجمہ پیش کررہا ہے۔ اس سے جہاں اس تاریخی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں علم ہوگا وہیں جدید ادب کے ایک شاہکار کا مطالعہ بھی ہوگا۔ ناول کا اُردو ترجمہ محمود احمد مودی نے کیا ہے، ان کے

0
699

گاڈ فادر 3

ایک طرف ’’گاڈ فادر‘‘ کے گھر پر ایف بی آئی اہلکار تحقیق کی غرض سے آدھمکتے ہیں تو دوسری جانب ڈان مشکل سے مشکل کام چٹکی بجاتے انجام دیتا ہے۔ کانگریس مین خریدنا اور اس کے ذریعے بڑے کام کروانا اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں۔۔۔ یہ سب وہ کیسے انجام دیتا ہے؟

گیٹ پر پہنچ کر سنی نے باپ سے کہا: ’’آپ کا خیال ٹھیک ہی تھا۔۔۔ وہ ایف بی آئی والے ہی ہیں۔‘‘
ڈان مربیانہ انداز میں مسکرادیا۔ گویا اسے اس تصدیق کی ضرورت نہیں تھی۔ سنی بولا:
’’وہ خبیث ہمارے ہاں آنے والی ہر گاڑی کا نمبر نوٹ کر رہے ہیں۔‘‘

پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی

ڈان نے اب بھی مربیانہ انداز میں مسکرانے پر ہی اکتفا کیا۔ اس نے بیٹے کو نہیں بتایا کہ اسے تو اپنے ذرائع سے پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی کہ اس موقع پر ایف بی آئی والے آئیں گے اور یہی کام کریں گے۔ چنانچہ اس نے اپنے تمام قریبی جاننے والوں کو پیغام بھجوایا تھا کہ شادی میں شرکت کے لیے وہ اپنی گاڑیوں میں نہ آئیں، بلکہ اِدھر اُدھر سے گاڑیوں کا انتظام کرلیں۔

اسے اپنے بیٹے سنی کی طرف سے یوں غصے کا اظہار اچھا نہیں لگا تھا۔ ڈان اس انداز میں کسی بھی معاملے میں اپناردِعمل ظاہر کرنے والا آدمی نہیں تھا۔۔۔ لیکن اس کے خیال میں سنی کی اس حرکت کا ایک فائدہ بھی ہوا تھا۔ اس کے انداز سے ایف بی آئی والوں کو یقین ہوگیا کہ ان کی آمد ڈان فیملی کے لیے غیرمتوقع تھی۔ اس لیے انہوں نے کوئی احتیاطی تدبیر نہیں کی ہوگی۔

دی گاڈفادر 1 بھی پڑھیں

ڈان کارلیون طاقتور ترین دشمن سے انتقام لینے کے لیے بھی اپنے صبروضبط اور تحمل کو برقرار رکھنے کا قائل تھا۔ اس لیے وہ اس وقت بھی غصے میں نہیں تھا۔ اسی دوران بینڈ نے طربیہ موسیقی کی دھن چھیڑدی۔ تمام مہمان آچکے تھے۔ کھانا شروع ہورہا تھا۔ ڈان نے اپنے دونوں بیٹوں کو اپنے ساتھ اندر چلنے کا اشارہ کیا اور وہ باغ کی طرف چل دئیے جہاں کھانے کی میزیں سجی ہوئی تھیں۔

مہمانوں کی تعداد سیکڑوں میں تھی۔ ان میں سے کچھ ایک طرف بنے ہوئے چوبی فرش پر ڈانس کر رہے تھے اور کچھ کھانے کے لیے لمبی لمبی میزوں پر بیٹھ چکے تھے جن پر انواع واقسام کے کھانے اور مشروبات سجے ہوئے تھے۔ باغ میں جشن کا سا سماں تھا۔ فضا میں موسیقی کی لہریں بکھر رہی تھیں۔

ڈان کارلیون کی بیٹی کا پورا نام کونس تانزیا تھا، لیکن اختصار سے اسے صرف کونی کہا جاتا تھا۔ وہ اپنے دُلہا کارلورزی کے ساتھ ایک آراستہ اسٹیج پر بیٹھی تھی جس کے فرش پر بہت سے پھول بکھرے ہوئے تھے۔ وہ بھاری بھر کم عروسی لباس میں تھی۔ اس کے ساتھ دو اور نوجوان لڑکیاں بھی تقریباً دُلہن ہی کی طرح تیار ہوکر پیچھے بیٹھی تھیں۔

دی گاڈفادر 2 بھی پڑھیں

سب کچھ قدیم، روایتی، اطالوی انداز میں ہو رہا تھا۔ کونی کو روایتی طور طریقے زیادہ پسند نہیں تھے، لیکن باپ کی خوشی کی خاطر وہ خاموش رہی تھی اور اس نے سب کچھ اسی طرح ہونے دیا تھا جس طرح ڈان چاہتا تھا، کیونکہ ڈان نے بھی اپنے ہونے والے داماد رزی کو برداشت ہی کیا تھا۔ ڈان کو وہ نوجوان پسند نہیں آیا تھا لیکن وہ کونی کو پسند تھا اور باپ نے بیٹی کی پسند کے سامنے سر جھکادیا تھا۔

رزی کا باپ سسلی کا اور ماں شمالی اٹلی کی تھی جس سے اسے سنہرے بال اور نیلی آنکھیں ورثے میں ملی تھیں۔ اس کے والد نیواڈا میں رہتے تھے، لیکن رزی نے کچھ عرصے پہلے وہ ریاست چھوڑدی تھی۔ یہ کہنا زیادہ درست تھا کہ وہ وہاں سے بھاگ آیا تھا کیونکہ وہاں پولیس کے ساتھ اس کا کچھ مسئلہ ہوگیا تھا۔

وہ نیویارک آیا تو یہاں اس کی ملاقات سنی سے ہوئی اور اسی کے توسط سے وہ اس کی بہن سے بھی مل لیا۔۔۔ جس کے ساتھ آخر اس کی شادی کی نوبت آگئی۔ ڈان نے اُڑتی اُڑتی خبر سن لی تھی کہ وہ نیواڈا میں کسی سلسلے میں پولیس کو مطلوب تھا۔ ڈان نے بیٹی کی شادی اس کے ساتھ کرنے سے پہلے اس معاملے کی صحیح معلومات کرانے کے لیے اپنے قابلِ اعتماد آدمیوں کو نیواڈا بھیجا، جنہوں نے آکر رپورٹ دی کہ نیواڈا میں رزی کسی سنگین معاملے میں پولیس کو مطلوب نہیں تھا۔

بات بس اتنی تھی کہ ایک بار اس کے پاس سے ایک غیرقانونی پستول برآمد ہوا تھا۔ وہ ضمانت پر رہا تھا، مگر فرار ہوکر نیویارک آگیا تھا۔ یہ حرکت جرم سے زیادہ سنگین تھی، تاہم اتنی سنگین بھی نہیں تھی کہ اس پر تشویش میں مبتلا ہوا جاتا۔ نوجوان اس قسم کی حرکتیں کرتے ہی رہتے تھے۔ یہ ایسا معاملہ تھا جس کا ریکارڈ آسانی سے صاف کرایا جاسکتا تھا۔ ڈان نہیں چاہتا تھا کہ اس کے خاندان کے کسی فرد۔۔۔ اور خصوصاً اس کے ہونے والے داماد کا پولیس میں کوئی ریکارڈ موجود ہو۔

دی گاڈفادر 4 بھی پڑھیں

ڈان کے جو آدمی نیواڈا گئے تھے، وہ رزی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے علاوہ یہ خبر بھی لائے تھے کہ اس ریاست میں کچھ مخصوص شرائط پوری کرنے کے بعد قانونی طور پر جوا خانے کھولنے کی اجازت تھی۔ وہاں بہت بڑے بڑے کیسینو موجود تھے جو نائٹ کلب کے طور پر بھی چل رہے تھے اور ان کا کچھ حصہ قمار بازی کے لیے بھی مخصوص تھا۔ ڈان نے یہ خبر دلچسپی سے سنی تھی کیونکہ اسے ایسے ہر کام سے دلچسپی تھی جس میں زیادہ قانونی خطرات کے بغیر زیادہ سے زیادہ نفع منافع کمایا جاسکے۔

کونی معمولی شکل وصورت کی لڑکی تھی۔ بدقسمتی سے اس میں اپنے والدین اور بھائیوں کی وجاہت کی کوئی جھلک نہیں تھی۔ وہ دبلی پتلی سی تھی اور اس کی حرکات وسکنات سے اضطراب جھلکتا تھا لیکن آج شادی کی خوشی سے تمتماتے چہرے اور دُلہن کے لباس میں وہ کسی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی اور وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں رزی پر قربان ہوئی جارہی تھی۔

دُلہا رزی کسرتی جسم کا مالک تھا۔ نیواڈا میں اس نے نوجوانی میں مزدوروں کی طرح سخت محنت مشقت کے کام بھی کیے تھے، لیکن اس کے خیال میں اب اس کی قسمت سنور گئی تھی۔ وہ ایک ایسے خاندان میں شادی کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا جو اپنے رکھ رکھاؤ اور طور طریقوں میں شاہی خاندان سے کم نہیں تھا۔ اسے اپنی دُلہن کی والہانہ نظروں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ وہ تو اس کے کندھے پر لٹکے ہوئے بڑے سے پرس کو دیکھ رہا تھا جس میں مہمانوں کے دئیے ہوئے نوٹوں کے لفافے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اندازہ لگانے کی کوشش کررہا تھا کہ اس پرس میں کتنی رقم جمع ہوچکی ہوگی۔۔۔؟ اور یہ تو محض ابتدا تھی!

مہمانوں میں ایک اور شخص بھی کبھی کبھی کن انکھیوں اور للچائی ہوئی نظروں سے اس پرس کی طرف دیکھ لیتا تھا۔ اس کا نام پالی گیٹو تھا۔ وہ عمدہ سوٹ میں ملبوس تھا اور اس کا چہرہ کسی حد تک نیولے جیسا تھا۔ اس کے بال سلیقے سے جمے ہوئے تھے۔ وہ عادت سے مجبور ہوکر پرس کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا اور اسے پار کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔۔۔ ورنہ اسے معلوم تھا کہ اس قسم کی حرکت کرنا ایسا ہی تھا جیسے کسی نہتے آدمی کا شیر کے منہ سے نوالا چھیننا۔۔۔ لیکن خواب دیکھنے پر بہرحال کوئی پابندی نہیں تھی۔

دی گاڈفادر 5 بھی پڑھیں

کبھی کبھی وہ اپنے باس پیٹرمینزا کی طرف بھی دیکھ لیتا تھا جو ڈانسنگ فلور پر کئی لڑکیوں کے ساتھ باری باری ڈانس کررہا تھا۔ مینزا ایک دراز قد اور نہایت مضبوط جسم کا آدمی تھا۔ اکثر لڑکیوں کے سر اس کے سینے تک بھی نہیں پہنچ پاتے تھے اور وہ اس کے سامنے بالکل گڑیوں جیسی لگتی تھیں۔ وہ اس قسم کے لوگوں میں سے تھا جسے آتے دیکھ کر لوگ خود ہی راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔ مینزا اور گیٹو دونوں ڈان کے خاص کارندے تھے۔

آخر کار مینزا تھک کر ایک کرسی پر ڈھیر ہوگیا تو گیٹو جلدی سے آگے بڑھ کر ایک ریشمی رومال سے اس کی پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگا۔ مینزا تیزی سے بولا:

’’ان نخرے بازیوں کو چھوڑو اور اپنے اصل کام پر توجہ رکھو۔ اِدھر اُدھر گھوم پھرکر جائزہ لیتے رہو کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ پاس پڑوس پر بھی نظر ڈالتے رہنا۔۔۔ کہ کہیں کسی گڑبڑ کے آثار تو نہیں!‘‘

گیٹو اس کا حکم سنتے ہی مہمانوں کے ہجوم میں کہیں غائب ہوگیا۔

دی گاڈفادر 6 بھی پڑھیں

اسی دوران نینو نامی ایک نوجوان نے مینڈولین اُٹھاکر بجانا شروع کردیا۔ وہ ترنگ میں تھا۔ مینڈولین کی دھن پر اس نے ایک خاص بے تکلفانہ قسم کا محبت بھرا گیت بھی لڑکھڑاتی آواز میں گانا شروع کردیا۔ مہمان اس کا ساتھ دینے لگے۔ عورتیں خوشی سے چیخ رہی تھیں، قہقہے لگارہی تھیں، جن میں ڈان کی بیوی بھی شامل تھی۔

ڈان کو اس انداز کی ہنگامہ خیزی پسند نہیں تھی، لیکن وہ مہمانوں کی خوشی اور تفریح میں رکاوٹ بھی نہیں بننا چاہتا تھا۔ وہ خاموشی سے اندر کی طرف چل دیا۔ باپ کو اندر جاتے دیکھ کر سنی جلدی سے دُلہن کے عقب میں اس کی میڈ کے طور پر بن سنور کر بیٹھی ہوئی لوسی کے قریب جابیٹھا۔ سنی نے پہلے یہ دیکھ لیا تھا کہ اس کی بیوی وہاں موجود تو نہیں تھی۔ وہ کچن میں مصروف تھی۔

سنی نے لوسی کے کان میں سرگوشی میں کچھ کہا اور وہ اُٹھ کر مکان کے اندرونی حصے کی طرف چل دی۔ سنی نے اس وقت تک انتظار کیا جب تک وہ اندرونی دروازے کے عقب میں غائب نہیں ہوئی ہوگی۔ پھر وہ بھی اُٹھ کر اسی طرف چل دیا، لیکن راستے میں اِدھر اُدھر رُک کر وہ بعض مہمانوں سے تھوڑی بہت بات چیت کرتا جارہا تھا۔ وہ یہ ظاہر کرنے کی پوری پوری کوشش کررہا تھا کہ وہ لوسی کے تعاقب میں نہیں جارہا۔۔۔ گوکہ وہاں اس بات کی کسی کو پروا بھی نہیں تھی۔ چند لمحے بعد وہ دونوں اوپر کے ایک کمرے میں یکجا تھے اور مرتعش سانسوں کے درمیان اس خلوت سے پورا پورا استفادہ کررہے تھے۔

دی گاڈفادر 7 بھی پڑھیں

اس دوران نچلی منزل کے ایک کمرے کی کھڑکی کے شیشے سے ٹام ہیگن شادی کی تقریب کا نظارہ کررہا تھا۔ وہ ڈان کارلیون کا وکیل تھا اور یہ کمرہ اس کے دفتر کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اس میں اونچی اونچی دیوار گیر الماریوں میں، شیشے کے دروازوں کے پیچھے قانون کی موٹی موٹی کتابیں بھری دکھائی دے رہی تھیں۔ یہ کمرہ ڈان کارلیون کے کمرے سے متصل تھا۔ اس طرح ڈان کو آسانی رہتی تھی۔ وہ جب چاہتا کسی بھی خاص اور فوری نوعیت کے مسئلے پر ٹام ہیگن سے تبادلہ خیال کرنے آجاتا تھا۔

ڈان کا قانونی مشیر ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ ’’ڈان فیملی‘‘ کے نظام اور کاروبار میں یہ اہم ترین عہدہ تھا۔ اس سے پہلے جس شخص نے برسوں تک ڈان کے لیے اس حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں وہ اب کینسر کے باعث بسترِ مرگ پر تھا۔ اس کی بیماری کے بعد سے ہیگن کو یہ حیثیت حاصل ہوچکی تھی۔ اس نے اور ڈان نے اسی کمرے میں آمنے سامنے بیٹھ کر بہت سے کاروباری مسائل کی گتھیاں سلجھائی تھیں۔ ’’فیملی‘‘ کے بہت سے معاملات پر سر جوڑکر غوروخوض کیا تھا۔

کھڑکی کے قریب بیٹھے بیٹھے اس نے ڈان کو بھی اندر آتے دیکھا۔ پھر سنی کو لوسی کے کان میں سرگوشی کرتے اور انہیں یکے بعد دیگرے مکان میں غائب ہوتے بھی دیکھا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ دانت پیس کر رہ گیا تھا کہ سنی کہیں بھی داؤ لگانے سے باز نہیں رہتا تھا۔ پہلے اس نے سوچا کہ ڈان کو اس معاملے کی خبر کردے۔۔۔ لیکن پھر اس نے زبان بند رکھنے میں ہی مصلحت سمجھی۔

ڈان کو اندر آتے دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اس سے ملنے بھی آئے گا اور آج خواہ اس کی بیٹی کی شادی تھی۔۔۔ لیکن وہ کچھ نہ کچھ معاملات ضرور نمٹائے گا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ہیگن کو بھی کچھ نہ کچھ کام کرنا ہوگا۔ اس نے گہری سانس لی اور ریوالونگ چیئر کو میز کی طرف گھمالیا۔ اس نے میز پر سے چند افراد کے ناموں کی فہرست اُٹھائی۔ ہاتھ سے لکھے گئے یہ نام ان افراد کے تھے جنہیں آج تخلیے میں ڈان کارلیون سے ملاقات کی اجازت تھی۔

دی گاڈفادر 8 بھی پڑھیں

جب ڈان کمرے میں داخل ہوا تو ہیگن نے اُٹھ کر وہ فہرست اسے پیش کردی۔ ڈان نے فہرست پر نظر ڈالی اور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا:

’’بونا سیرا کا نام فہرست کے آخر میں کردو۔‘‘

ہیگن نے فہرست میں بونا سیرا کا نام تبدیل کیا۔ پھر ٹیرس کا دروازہ کھول کر باغ میں اس طرف چلا گیا جہاں ملاقات کے خواہش مندوں کی ٹولی کھڑی تھی۔ اس نے گٹھے ہوئے جسم کے پستہ قد نیزورین کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔

بیکری کا مالک نیزورین جب ہیگن کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تو ڈان کارلیون نے اُٹھ کر اس کا استقبال کیا اور اس سے گلے ملا۔ اٹلی میں وہ دونوں بچپن میں ساتھ کھیلتے تھے اور جب سے نیزورین، نیویارک میں بیکری چلارہا تھا تب سے وہ ہر خاص موقع اور تہواروں پر، خاص طور پر تیار کیا گیا ایک بڑا سا کیک ڈان کے گھر بھجوانا نہیں بھولتا تھا۔ آج وہ پہلی بار کسی کام سے ڈان کے گھر آیا تھا۔

ڈان نے اسے مشروب کا ایک گلاس اور اعلیٰ درجے کا ایک سگار پیش کیا۔ خیروعافیت دریافت کرنے کے دوران وہ محبت اور اپنائیت سے نیزورین کا کندھا تھپتھپاتا رہا۔ اسے معلوم تھا کہ کسی شریف، باعزت اور اناپرست آدمی کے لیے کسی کے سامنے اپنی مجبوری، ضرورت یا مسئلہ بیان کرنا آسان کام نہیں تھا۔ وہ نیزورین میں گویا اپنا مسئلہ بیان کرنے کی جرات پیدا کررہا تھا۔۔۔ اصل بات کے لیے ماحول بنارہا تھا۔

دی گاڈفادر 9 بھی پڑھیں

آخر نیزورین نے اپنا مسئلہ بیان کرہی دیا کہ کس طرح اس کی بیٹی اینزو سے شادی کرنے کے لیے بضد تھی۔۔۔ جبکہ اینزو امریکا میں غیرقانونی طو رپر مقیم تھا۔۔۔ خطرہ تھا کہ اسے جلد ہی اٹلی واپس بھجوادیا جائے گا اور اس کی بیٹی کیتھرین شاید اس صدمے سے مرجائے گی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں ڈان کارلیون اس کی آخری اُمید تھا۔

وہ دونوں اُٹھ کر کمرے میں ٹہلتے ہوئے یہ بات چیت کررہے تھے۔ ڈان کا بازو دوستانہ انداز میں نیزورین کے کندھوں پر ٹکا ہوا تھا اور وہ وقفے وقفے سے تفہیمی اور ہمدردانہ انداز میں سر ہلارہا تھا۔

نیزورین نے بات ختم کی تو ڈان نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور کہا:
’’اپنی اس پریشانی کو بھول جاؤ۔ اینزو کو یہاں کی شہریت مل جائے گی۔۔۔ خواہ اس کے لیے مجھے کانگریس میں خصوصی بل ہی پاس کرانا پڑے۔ میں کانگریس کے ایک ایسے ممبر کو جانتا ہوں جو آسانی سے بل پیش کردے گا اور کانگریس کی اکثریت اسے منظور بھی کرے گی۔۔۔ کیونکہ یہ لوگ اسی طرح ایک دوسرے کے مسئلے حل کرتے ہیں۔ بس، کانگریس کے اس ممبر کی خدمت میں دو ہزار ڈالر کا نذرانہ پیش کرنا پڑے گا۔ اگر تمہارے لیے دو ہزار کا بندوبست کرنا مشکل ہو تو وہ بھی میں اپنی جیب سے دے دوں گا۔‘‘

دی گاڈفادر 10 بھی پڑھیں
’’نہیں نہیں۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ نیزورین جلدی سے بولا۔
’’دو ہزار ڈالر کوئی مسئلہ نہیں۔ میری تو یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کام ہوگا کیسے؟‘‘ خوشی سے اس کی حالت عجیب تھی۔
’’بس۔۔۔ تو پھر تم بے فکر ہوجاؤ۔ میرا کوئی آدمی بیکری پر آکر تم سے ملے گا۔۔۔ رق بھی لے لے گا اور تمہیں بتادے گا کہ اس سلسلے میں کیا کاغذی کارروائی کرنی ہے۔ اوکے؟‘‘

نیزورین نے تشکر اور ممنونیت سے اس کا ہاتھ چوما اور رُخصت ہوگیا۔ اس کے جانے کے بعد ہیگن ڈان سے مخاطب ہوا۔ ’’نیزورین کے لیے یہ سرمایہ کاری بری نہیں رہے گی، دو ہزار ڈالر میں اسے داماد اور عمر بھر کے لیے بیکری پر ایک کارکن مل جائے گا۔۔۔‘‘
ایک لمحے کے توقف کے بعد ڈان پُرخیال لہجے میں بولا: ’’میں سوچ رہا ہوں کہ یہ کام اپنے کسی آدمی کے سپرد کردوں؟‘‘
اس سے پہلے کہ ہیگن کوئی جواب دیتا، ڈان خود ہی بولا:
’’وہ جو دوسرے علاقے میں یہودی رہتا ہے۔۔۔ اس کے ذمے یہ کام لگاؤ۔۔۔ اور ہاں!۔۔۔ اس بار کانگریس مین لیو کے بجائے فشر کو آزماکر دیکھو۔ اب جنگ ختم ہوئی ہے تو ہمارے پاس اس قسم کے غیرقانونی تارکین وطن کے بہت سے کیسز آئیں گے۔ ہمیں ایسا کانگریس مین تلاش کرنا ہوگا جو موقع دیکھتے ہی اپنا معاوضہ نہ بڑھادے۔‘‘

دی گاڈفادر 11 بھی پڑھیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here