The Godfather 2

'دی گاڈفادر' ایک مشہور زمانہ ناول ہے، جسے اطالوی امریکن ماریو پوزو نے 60ء کی دہائی میں لکھا تھا۔ اس ناول کی شہرت کو چار چاند لگائے 1972ء میں اسی نام سے جاری ہونے والی فلم نے، جسے تاریخ کی بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب عدالت ‏عظمیٰ نے 'پاناما اسکینڈل' کا فیصلے سنایا اور اس کا آغاز گاڈ فادر کے مشہور زمانہ جملے سے کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مہم کے طور پر لے کر اسے حکمران خاندان کے خلاف استعمال کیا اور سابق وزیراعظم کو گاڈ فادر سے تشبیہ دی۔ عدلیہ نے اس ناول کا حوالہ کیوں دیا؟ اردو دان طبقےکو یہ جاننے کا شوق ہوا۔ ' پاکستانی ' اپنے ایسے ہی قارئین کے لیے 'دی گاڈفادر' کا اردو ترجمہ پیش کررہا ہے۔ اس سے جہاں اس تاریخی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں علم ہوگا وہیں جدید ادب کے ایک شاہکار کا مطالعہ بھی ہوگا۔ ناول کا اُردو ترجمہ محمود احمد مودی نے کیا ہے، ان کے

0
652

دی گاڈفادر 2

نیزورین کی بیکری اطالوی چیزوں کے لیے مشہور تھی اور بیکری کی بالائی منزل پر ہی نیزورین اپنی بیوی اور جوان بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ گٹھے ہوئے جسم کا ایک پست قامت آدمی تھا۔ اس وقت وہ ایپرن باندھے بیکری کے پچھلے حصے میں کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میدے میں لتھڑے ہوئے تھے اور چہرے پر بھی کہیں کہیں میدہ لگا ہوا تھا۔

اس کے سامنے اس کی بیوی، جوان بیٹی اور بیکری کے کاموں میں کچھ عرصہ پہلے تک اس کا ہاتھ بٹانے والا نوجوان انیزو موجود تھا۔ انیزو خوش شکل اور میانہ قامت تھا۔ وہ ورزشی جسم کا مالک تھا۔ اس کے جسم پر اطالوی جنگی قیدیوں والی مخصوص وردی تھی۔

پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی

دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا میں غیرقانونی طور پر مقیم اطالویوں میں سے بیشتر کو پکڑلیا گیا تھا۔ کچھ چھان بین کے بعد ان میں سے بیشتر کو پیرول پر رہا کردیا گیا تھا اور ان کی صلاحیتوں کے اعتبار سے، سرکاری طورپر مختلف مقامات پر کاموں پر لگادیا گیا تھا جن کا انہیں بہت کم معاوضہ ملتا تھا۔ ان کا کام گویا ایک طرح کی بیگار تھی جو امریکی حکومت ان سے لے رہی تھی۔ ان کی حیثیت جنگی قیدیوں کی سی تھی تاہم وہ کسی قید خانے یا کیمپ میں نہیں تھے، البتہ ان کے لیے اپنے کام کی جگہ پر پہنچنا ضروری تھا۔ عام خیال یہی تھا کہ اب۔۔۔ جبکہ جنگ اختتام پذیر تھی۔۔۔ جلد ہی انہیں ان کے وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔

اینزو بھی ان دنوں اس خطرے سے دوچار تھا۔ نیزورین خونخوار نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔ اس وقت ان چاروں کے درمیان نہایت سنجیدہ گفتگو جاری تھی اور اینزو کو خدشہ تھا کہ اس بحث میں اُلجھ کر وہ گورنرز آئی لینڈ پہنچنے میں لیٹ ہوجائے گا جہاں اس کی ڈیوٹی لگی ہوئی تھی۔ کام پر پہنچنے میں لیٹ ہونا ایک سنگین مسئلہ تھا۔ اس کے نتیجے میں اس کی پیرول منسوخ ہوسکتی تھی اور اسے قید میں ڈالا جاسکتا تھا، جبکہ اس کے لیے رسمی سی آزادی بھی نعمت تھی۔

’’میں پوچھتا ہوں کہ تم نے میری بیٹی کو محبت کا جھانسہ دے کر اس کی عزت تو برباد نہیں کی؟‘‘ نیزورین نے خونخوار لہجے میں اینزو سے دریافت کیا۔
’’تم کہیں اسے گناہ کی نشانی تو نہیں دیے جارہے؟ جنگ ختم ہوتے ہی امریکی حکومت تمہیں تو سسلی، تمہارے گاؤں واپس بھیج دے گی جہاں گندگی اور غربت کے سوا کچھ نہیں۔۔۔ تم دھکے کھانے کے لیے وہاں چلے جاؤگے اور میری بیٹی یہاں روتی رہ جائے گی۔‘‘

اینزو سینے پر ہاتھ رکھ کر مودبانہ انداز میں جھکتے ہوئے اور اپنی آواز کو گلوگیر بنانے کی کوشش کرتے ہوئے مجروح سے لہجے میں بولا:

دی گاڈفادر 1 بھی پڑھیں

’’یہ آپ کیسی باتیں کررہے ہیں۔۔۔! میں نے کبھی آپ کی نوازشات اور آپ کی بیٹی کی محبت کا ناجائز فائدہ اُٹھانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں۔۔۔ میں مقدس کنواری کی قسم کھاکر کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کوئی غلط حرکت نہیں کی۔ میں آپ کی بیٹی سے محبت کرتا ہوں لیکن اس کی عزت بھی مجھے عزیز ہے۔ آپ سب میری نظر میں محترم ہیں۔ میرے دل میں آُ سب کے لیے عزت بھی ہے اور اپنائیت بھی۔۔۔ میں باعزت انداز میں آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ اور یہ کوئی غلط بات نہیں ہے۔۔۔ لیکن اگر امریکی حکومت نے جبری طور پر مجھے واپس میرے وطن۔۔۔ میرے گاؤں بھیج دیا تو پھر میں کیتھرین سے شادی نہیں کرسکوں گا۔‘‘

اس موقع پر نیزورین کی بیوی مینا نے مداخلت کی اور ڈانٹنے کے سے انداز میں اپنے پستہ قد شوہر سے مخاطب ہوئی:
’’بے وقوفی کی باتیں چھوڑو اور اصل مسئلے کی طرف دھیان دو۔ ہمیں اینزو کو ہر حال میں امریکا میں رکھنے کا بندوبست کرنا چاہیے۔ اسے فی الحال روپوش ہونے کے لیے اپنے بھائی کے گھر لانگ آئی لینڈ بھیج دو اور اس دوران میں اس کے کاغذات بنوانے کی کوشش کرو جن کی مدد سے یہ جائز اور قانونی طریقے سے امریکا میں رہ سکے۔‘‘

نیزورین خود سسلی کا باشندہ تھا، لیکن وہ برسوں سے امریکا میں مقیم تھا اور یہاں کی شہریت حاصل کرچکا تھا۔ اسے سسلی میں واقع اپنے آبائی گاؤں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، تاہم وہ سسلی کے پرانے اور روایت پسند لوگوں میں سے تھا جن کی پہلی کوشش یہی ہوتی تھی کہ وہ اپنے بچوں کی شادیاں اپنے ہم وطنوں میں کریں۔

نیزورین کو تو ویسے بھی اینزو جیسا خوش شکل اور نوجوان داماد میسر آنا مشکل تھا، کیونکہ اس کی بیٹی نہایت عام سی شکل صورت کی مالک اور اچھی خاصی موٹی تھی۔ یہ کہنا بے جا نہیں تھا کہ وہ کسی حد تک بھدے پن کا شکار تھی اور مردوں کی طرح اس کی ناک کے نیچے ہلکا سا رواں بھی تھا جیسا کسی نوعمر لڑکے کی مسیں بھیگ رہی ہوں۔

دی گاڈفادر 3 بھی پڑھیں

معلوم نہیں اینزو کس طرح اس پر مہربان ہوگیا تھا۔ جن دنوں وہ بیکری کے کاموں میں ہاتھ بٹارہا تھا، نیزورین نے اسے اکثر آنکھ بچاکر اپنی بیٹی کے ساتھ اٹکھلیاں اور چھیڑچھاڑ کرتے دیکھا تھا۔ کیتھرین پوری گرمجوشی سے اس کی حرکتوں کا جواب دیتی تھی۔ نیزورین کو تو اندیشہ تھا کہ اگر اس نے ان دونوں پر کڑی نظر نہ رکھی ہوتی تو اس کی بیٹی خود اینزو کی طرف مائل ہوچکی ہوتی۔

کیتھرین اس وقت رو رہی تھی۔ اس کی ماں نے جب اس کے باپ کو ڈانٹا تو کیتھرین نے اُمید بھری نظروں سے باپ کی طرف دیکھا۔۔۔ لیکن جب وہ متذبذب انداز میں خاموش رہا تو کیتھرین چلا اُٹھی:

’’اگر اینزو کو سسلی بھیجا گیا تو میں بھی اس کے ساتھ وہیں چلی جاؤں گی اور وہیں رہوں گی۔ اگر اس کے ساتھ میری شادی نہ کی گئی تو میں اس کے ساتھ بھاگ جاؤں گی۔ اگر اسے یہاں نہ روکا گیا تو اس کے ساتھ رہنے کے لیے میں کچھ بھی کرگزروں گی۔‘‘

نیزورین نے ناگواری سے بیٹی کی طرف دیکھا۔ اسے احساس ہوا کہ بیٹی اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ اس پر نوجوانی کے جذبات کا غلبہ تھا۔ اس سلسلے میں صحیح سمت میں قدم اُٹھانا ضروری ہوگیا تھا۔ اس کے خیال میں درست اقدام یہی تھا کہ اینزو کو امریکا میں روکا جاتا اور اسے شہریت دلوانے کی کوشش کی جاتی۔۔۔ یہ بہت مشکل کام تھا۔ نیزورین کے بس کی بات نہیں تھی۔ فی الحال تو یہ تقریباً ناممکن ہی تھا۔ صرف ایک شخص ایسا تھا جو نیزورین کے خیال میں اس ناممکن کو ممکن بناسکتا تھا۔۔۔ اور وہ تھا گاڈ فادر۔۔۔ ڈان کارلیون۔۔۔!
**

دی گاڈفادر 4 بھی پڑھیں

ان سب لوگوں کو ڈان کارلیون کی بیٹی تانزیا کارلیون کی شادی کی تقریب کے دعوت نامے ملے تھے۔ دعوت نامے نہایت خوبصورت تھے اور ان پر طلائی حروف اُبھرے ہوئے تھے۔ شادی کے لیے اگست 45ء کے آخری سینچر کا دن مقرر کیا گیا تھا۔ ڈان کارلیون گوکہ اب لانگ آئی لینڈ پر ایک طویل وعریض محل نما مکان میں رہ رہا تھا، لیکن وہ تمام اہم تقریبات کے مواقع پر اپنے پرانے پڑوسیوں، دوستوں اور عقیدت مندوں کو مدعو کرنا نہیں بھولتا تھا۔

شادی کی ضیافت کا اہتمام اس محل نما مکان میں ہی کیا گیا تھا اور جشن کے سے انداز میں مختلف رسوم کا سلسلہ تمام دن ہی جاری رہنا تھا۔ مدعوئین کے لیے اندازہ کرنا مشکل نہیں تھا کہ یہ ایک یادگار تقریب ہوگی۔ لوگوں کے لیے یہ احساس بھی طمانیت بخش تھا کہ جنگ عظیم تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ آخری معرکہ آرائی جاپانیوں سے چل رہی تھی۔ اب وہ بھی اختتام پر پہنچ چلی تھی۔ لوگوں کے بیٹے جو فوج میں بھرتی ہوکر مختلف محاذوں پر گئے ہوئے تھے، گھروں کو لوٹ آئے تھے۔ اب وہ صحیح طور پر کوئی خوشی مناسکتے۔ کسی تقریب سے لطف اندوز ہوسکتے تھے۔ تقریب کے دوران ان کے دل ودماغ پر اس قسم کے تفکرات اور اندیشوں کے سائے نہ ہوتے کہ ان کے بیٹے نہ جانے کن محاذوں پر ہوں گے۔۔۔ کس حال میں ہوں گے۔۔۔ اور وہ زندہ بھی واپس آئیں گے یا نہیں؟ ان کے خیال میں شادی کی یہ تقریب بہت ہی اچھے موقع پر آئی تھی۔

دی گاڈفادر 5 بھی پڑھیں

چنانچہ ان سینچر کو دن چڑھتے ہی بہت سے لوگ نیویارک سٹی سے لانگ آئی لینڈ کی طرف روانہ ہوچکے تھے۔ ان کے پاس دُلہن کو تحفے کے طور پر دینے کے لیے لفافے تھے جن میں ہر ایک نے حسبِ حیثیت زیادہ سے زیادہ رقم رکھ کر ڈان کارلیون سے اپنی عقیدت اور وابستگی کا اظہار کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ رقوم وہ کسی مجبوری کے تحت نہیں۔۔۔ بلکہ حقیقت میں اپنی خوشی سے لے کر جارہے تھے۔ وہ سب ہی کسی نہ کسی وجہ سے ڈان کے لیے اپنے دل میں عقیدت، ممنونیت اور تشکر کے جذبات رکھتے تھے۔۔۔ اور ان کے اظہار کا، ان کے خیال میں یہ ایک نہایت اچھا موقع اور نہایت اچھا طریقہ تھا۔

ان میں بیشتر لوگ وہ تھے جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں مدد کے لیے ڈان کارلیون کے دروازے پر دستک دی تھی۔۔۔ اور انہیں کبھی مایوس نہیں لوٹنا پڑا تھا۔ ڈان نے کبھی ان سے کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی کبھی کسی کی مدد کے سلسلے میں یہ عذر پیش کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اپنے سے بھی بڑی کسی طاقت کے سامنے مجبور تھا، اس کے ہاتھ بندے ہوئے تھے۔۔۔ یا فلاں کام، فلاں ٹھوس وجہ کی بنا پر ممکن ہی نہیں تھا۔ ڈان کارلیون کے منہ سے کبھی کسی نے اس قسم کی بات نہیں سنی تھی۔

دی گاڈفادر 6 بھی پڑھیں

اس کے پاس مدد کی غرض سے جانے والے سائل کے لیے یہ بھی ضروری نہیں تھا کہ وہ کوئی اہم آدمی ہوتا۔۔۔ یا ڈان اس سے یہ توقع رکھتا کہ کبھی وہ بھی جواب میں اس کے کسی کام آئے گا۔ چھوٹے موٹے، معمولی اور غیر اہم آدمی بھی مدد مانگنے کے لیے ڈان کے پاس جاسکتے تھے، شرط صرف یہ تھی کہ ڈان سے ان کی آشنائی، دوستی یا نیاز مندی ہوتی یا وہ ڈان کے پرانے ہم وطن ہوتے اور انہوں نے اس سے رابطہ اور رشتہ کسی نہ کسی صورت میں، کسی نہ کسی انداز میں برقرار رکھا ہوتا۔

ڈان ایک روایت پسند آدمی تھا۔ اگر کوئی شخص اس سے تعلق یا قرابت داری کا دعوے دار ہوتا تو ڈان کی یہ بھی خواہش ہوتی کہ وہ کسی نہ کسی انداز میں اس کا اظہار بھی جاری رکھتا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ عام حالات میں تو کوئی ڈان سے برسوں لاتعلق رہتا، کبھی رابطہ نہ رکھتا اور جب کوئی مشکل یا مصیبت پڑتی تو روتا ہوا اس کے پاس پہنچ جاتا۔

دی گاڈفادر 7 بھی پڑھیں

اس کے شناسا، دوست پرانے پڑوسی یا ہم وطن کبھی کبھار اسے کوئی تحفہ بھجواتے رہتے تھے یا کسی اور انداز میں رابطہ رکھتے تھے اور ڈان کو یہ احساس دلاتے رہتے تھے کہ وہ اسے بھولے نہیں۔۔۔ تو ڈان بہت خوش ہوتا تھا۔ کسی کے چھوٹے موٹے تحفے کی اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی، لیکن وہ یہ محسوس کرکے خوش ہوتا تھا کہ تحفہ بھیجنے والے نے اس کی ذات سے اپنی عقیدت، ممنونیت اور تعلقِ خاطر کا اظہار کیا ہے۔ اس کی نظر میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی بہت اہمیت تھی۔ ممنونیت، عقیدت اور تشکر کے انہی جذبات کے تحت بہت سے لوگ اسے ’’گاڈ فادر‘‘ کہتے تھے۔ اسے اپنا مربی، سرپرست اور منہ بولا یا روحانی باپ قرار دیتے تھے۔

آج کا دن خود ڈان کے لیے بھی یادگار دن تھا۔ آج اس کی بیٹی کی شادی تھی۔ وہ خود اپنے محل کے صدر دروازے پر مہمانوں کے استقبال کے لیے کھڑا تھا۔ ان میں سے بیشتر ایسے تھے جو ڈان ہی کی کسی نہ کسی نوازش کی وجہ سے کامیابی کے راستے پر گامزن ہوئے تھے۔ وہ تو اس کے روبرو بھی دلی محبت اور عقیدت سے اسے گاڈ فادر کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔

محل میں مستقل۔۔۔ یا پھر اس خاص موقع پر عارضی طور پر خدمات انجام دینے والوں میں سے بھی ڈان کا کوئی نہ کوئی پرانا تعلق یا دوستی کا رشتہ تھا۔ مثلاً:

دی گاڈفادر 8 بھی پڑھیں

آج کے دن بار ٹینڈر کے فرائض انجام دینے والا ڈان کا پرانا دوست تھا اور تقریب کے لیے تمام مشروبات کا انتظام اس نے اپنی جیب سے کیا تھا۔ یہ گویا اس کی طرف سے شادی کا تحفہ تھا۔

ویٹرز کے طور پر کام کرنے والے لوگ ڈان کارلیون کے بیٹوں کے دوست تھے اور اس موقع پر ڈان فیملی کی خدمات انجام دے کر خوشی محسوس کررہے تھے۔ ایک ایکڑ پر پھیلے ہوئے خوبصورت اور سرسبز باغ میں بہت سی پکنک ٹیبلز پر طرح طرح کے جو کھانے سجے ہوئے تھے، وہ ڈان کی بیوی نے اپنی نگرانی میں ملازماؤں اور اپنی سہیلیوں سے پکوائے تھے۔ اس نے خود بھی ان کے ساتھ کام کیا تھا۔ باغ کی سجاوٹ اور آرائش دلہن کی سہیلیوں نے کی تھی۔

ڈان کارلیون ہر مہمان کا استقبال یکساں احترام اور گرم جوشی سے کررہا تھا۔ کوئی امیر یا غریب۔۔۔ اہم تھا یا غیراہم۔۔۔ بڑے سماجی رتبے کا حامل تھا یا کوئی معمولی کارندہ۔۔۔ ڈان کارلیون سب کو یکساں انداز میں خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ اس کے روئیے سے کسی مہمان کو اپنے بارے میں گماں بھی نہیں گزرسکتا تھا کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں کمتر تھا۔ ڈان کا رویہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا۔ یہ اس کے کردار کا ایک حصہ تھا۔ وہ اس عمر میں بھی اپنے ڈنرسوٹ

دی گاڈفادر 9 بھی پڑھیں

میں اتنا وجیہہ، پُروقار اور دلکش نظر آرہا تھا کہ اگر آنے والا کوئی مہمان اس کا صورت آشنا نہ ہوتا تو شاید یہ سمجھتا کہ وہ دُلہا ہے۔

اس کے تین بیٹوں میں سے دو اس کے ساتھ صدر دروازے پر کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک سین ٹینو تھا۔ پیدائش کے بعد اس کا نام تو سین ٹینو رکھا تھا، لیکن زیادہ تر لوگ اسے سنی کے نام سے جانتے تھے۔ باپ کے سوا تقریباً سبھی اسے اس نام سے پکارتے تھے۔

ڈان کارلیون کے بچے امریکا میں ہی پیدا ہوئے تھے اور یہیں پلے بڑھے تھے۔ ان کے نقوش پر اطالوی رنگ غالب تھا، مگر شخصیت میں امریکی چھب بھی تھی۔ مثلاً: سین ٹینو عرف سنی قد کاٹھ اور ہاتھ پیروں کی ساخت سے امریکی لگتا تھا۔ اس کا قد چھ فٹ اور جسم کسی بیل یا گھوڑے کی طرح مضبوط تھا، جبکہ اس کے سنہرے بال نہایت گھنے اور گھنگھریالے تھے۔ اس کا چہرہ کسی حد تک کیوپڈ کی خیالی تصویر سے ملتا تھا۔

عورتوں کے لیے اس میں بے پناہ کشش تھی۔ وہ شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ تھا، مگر اس پر عورتوں کی نوازشات میں کوئی کمی نہیں آئی تھی اور وہ ان نوازشات سے استفادہ کرنے میں چوکتا بھی نہیں تھا۔ جن عورتوں کو اس سے واسطہ پڑتا تھا، وہ اس کی بے پناہ کشش پر عرصے تک حیران رہتی تھیں۔

آج بھی بیشتر جوان ملازمائیں اور چھوٹی موٹی دیگر خدمات انجام دینے والی عورتیں آتے جاتے، موقع پاکر اسے میٹھی میٹھی نظروں سے دیکھ رہی تھیں، لیکن وہ ان کی طرف سے انجان بنا ہوا تھا۔ آج وہ بہن کی شادی کے موقع پر ہایت سنجیدہ اور ذمے دارانہ طرزِعمل کا مظاہرہ کرنا چاہتا تھا تاہم دُلہن کی اس وقت کی خاص خادمہ لوسی پر نظر رکھنے سے وہ باز نہیں رہا تھا اور موقع ملنے کا منتظر تھا۔

لوسی دُلہن سے کہیں زیادہ خوبصورت اور پُرکشش تھی۔ آج کچھ زیادہ ہی اہتمام سے بنی سنوری ہونے کی وجہ سے وہ اور بھی غضب ڈھارہی تھی۔ وہ خوبصورت گلابی گاؤن میں تھی اور اس کے ریشمی سیاہ بالوں میں پھولوں کا تاج سجا ہوا تھا۔ پچھلے ایک ہفتے سے شادی کی تیاریوں اور مختلف رسوم کی ریہرسل کے دوران وہ سنی سی اچھی خاصی بے تکلفی سے بات کرتی رہی تھی اور صبح چرچ کی رسم کے دوران میں اس نے موقع پاکے چپکے سے سنی کا ہاتھ بھی پکڑلیا تھا۔

دی گاڈفادر 10 بھی پڑھیں

سنی کے بارے میں عام خیال یہی تھا کہ اس میں باپ والی بیشتر خصوصیات نہیں تھیں۔ گوکہ وہ فراخ دل اور مستعد آدمی تھا، مگر اس میں باپ جیسا تحمل اور معاملہ فہمی نہیں تھی۔ وہ غصہ ور اور جلد مشتعل ہوجانے والا آدمی تھا۔ اسی جلدبازی اور تند مزاجی میں وہ غلط فیصلے کرجاتا تھا۔ گوکہ اس وقت وہ باپ کے کاروبار میں ہاتھ بٹارہا تھا لیکن اس کے بارے میں یہ اُمید نہیں رکھی جاتی تھی کہ وہ صحیح معنوں میں باپ کا جانشین یا اس کا صحیح وارث ثابت ہوسکے گا۔

ڈان کے دوسرے بیٹے کا نام فریڈریکو تھا جسے پیار سے فریڈ کہا جاتا تھا۔ اکثر اطالوی اپنے ہاں اس قسم کا بیٹا پیدا ہونے کی دُعا مانگتے تھے۔ وہ آنکھیں بند کرکے باپ کے حکم پر چلنے والا، ہر حال میں اس کا وفادار اور خدمت گار تھا۔ تیس سال کی عمر میں بھی وہ باپ کے ساتھ ہی رہتا تھا۔

وہ سنی جتنا دراز قد اور خوبرو تو نہیں تھا لیکن بہرحال جسمانی طور پر اس کی طرح مضبوط تھا۔ اس کی صورت میں بھی کیوپڈ کی جھلک تھی، تاہم اس کی آنکھوں اور چہرے کی ساخت سے سرد مہری جھلکتی تھی۔ وہ کبھی اپنے باپ سے اختلاف نہیں کرتا تھا، اور نہ ہی کبھی عورتوں کے بارے میں اس کا کوئی اسکینڈل بنا تھا، جس سے اس کے باپ کو شرمندگی اُٹھانا پڑتی۔ اس کی یہ خوبیاں اپنی جگہ تھیں، مگر اس میں بھی وہ طاقت، وہ خوداعتمادی اور وہ قائدانہ صلاحیتیں نظر نہیں آتی تھیں جو ڈان کارلیون جیسے آدمی کی روایات اور وراثت کو مکمل سنبھالنے کے لیے ضروری تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   گاڈ فادر (8)

ڈان کا تیسرا بیٹا مائیکل کارلیون تھا۔ وہ اس وقت اپنے باپ اور دونوں بھائیوں سے الگ تھلگ، باغ کے ایک گوشے میں میز پر بیٹھا تھا، لیکن وہاں بھی وہ بہت سے مہمانوں کی توجہ کا مرکز تھا۔ وہ ڈان کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا اور اپنے باپ کا سب سے کم فرمانبردار تھا۔ وہ اپنے بھائیوں کی طرح مضبوط اور قدرے بھاری بھر کم سی شخصیت کا مالک نہیں تھا۔ اس کے بال بھی گھنے، سنہرے اور گھنگھریالے نہیں، بلکہ سیدھے، سیاہ اور ریشمی تھے۔ وہ چھریرے جسم کا تھا اور بال ذرا لمبے رکھتا تھا۔ اس کی زیتونی جلد میں ہلکی سی زردی تھی۔ ایسی جلد اگر کسی عورت کی ہوتی تو بہت اچھی ہوتی۔

مائیکل بھی ایک وجیہہ نوجوان تھا لیکن اس کی شخصیت میں کچھ نزاکت تھی۔ جب وہ چھوٹا تھا، اس وقت تو ڈان کو یہ نزاکت کسی حد تک نسوانیت محسوس ہوتی تھی اور اسے اندیشہ تھا کہ شاید اس کے بیٹے میں وہ وجاہت اور مردانگی نہ ہو جو اس کے خاندان کا خاصا تھی۔۔۔ لیکن جب مائیکل سترہ سال کا ہوا تو اس کے باپ کی یہ تشویش دور ہوگئی۔

دی گاڈفادر 11 بھی پڑھیں

اس وقت بھی مائیکل گویا اپنے اور اپنی فیملی کے درمیان کچھ فاصلہ ظاہر کرنے کے لیے سب سے ہٹ کر، الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ لیکن اکیلا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ اس کی دوست۔۔۔ ایک امریکی لڑکی موجود تھی جس کا نام کے ریڈمز تھا۔ کارلیون فیملی کے جاننے والوں نے اس لڑکی کے بارے میں سن تو رکھا تھا لیکن آج وہ پہلی بار اسے دیکھ رہے تھے۔

مائیکل اسے ساتھ لیے سب سے الگ تھلگ ضرور بیٹھا تھا لیکن اس نے بدتہذیبی یا ناشائستگی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ اس نے ’’کے‘‘ کو پہلے تمام مہمانوں اور اپنے خاندان کے افراد سے ملوادیا تھا اور اس کا تعارف بھی کرادیا تھا۔ اس کے خاندان کے افراد اس سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوئے تھے۔ ان کے خیال میں وہ بہت نازک انداز اور بہت دبلی تھی۔ اس کے چہرے سے بہت زیادہ ذہانت جھلکتی تھی۔۔۔ اور مائیکل کے خاندان میں عورت کا زیادہ ذہین نظر آنا خوبی نہیں، خامی تھی۔ انہیں تو اس کا نام بھی پسند نہیں آیا تھا۔۔۔ ’’کے‘‘۔۔۔! بھلا یہ بھی کوئی نام ہوا؟!!

ہر مہمان محسوس کررہا تھا کہ ڈان کارلیون اپنے اس بیٹے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے رہا تھا۔ دوسری جنگ عظیم شروع ہونے سے پہلے مائیکل ہی ڈان کا سب سے چہیتا بیٹا تھا اور لوگوں کا خیال تھا کہ مناسب وقت آنے پر ڈان اسے ہی اپنا جانشین قرار دے گا، کیونکہ اس میں ایک خاموش ذہانت اور باپ جیسی معاملہ فہمی نظر آتی تھی۔ وہ صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرنے کا اہل نظر آتا تھا اور اس میں کوئی ایسی بات تھی کہ لوگ اس کی عزت کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔ اس کی یہ خوبیاں ظاہر کرتی تھیں کہ اس میں باپ کی زبردست شخصیت کی جھلک موجود تھی۔ خواہ اس کا سراپا باپ سے مختلف نظر آتا تھا۔۔۔ مگر جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو مائیکل نے باپ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی مرضی سے اپنا نام فوج میں لکھوادیا۔

ڈان ابھی تک امریکیوں کو ایک غیرقوم ہی محسوس کرتا تھا۔۔۔ اور وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا سب سے چھوٹا اور سب سے لاڈلا بیٹا ایک غیرقوم کے محافظ کے فرائض انجام دیتے ہوئے کسی دور افتادہ محاذ پر مارا جائے۔ ڈان نے اسے فوج میں جانے سے روکنے کے لیے خفیہ طورپر کوششیں بھی کی تھیں۔ ڈاکٹروں کو رشوت دی گئی تھی کہ وہ اسے فوج کے لیے نااہل قرار دے دیں۔۔۔ دوسرے کئی طریقے اختیار کرنے کے لیے بھی بہت رقم خرچ کی گئی تھی، لیکن مائیکل کی عمر اکیس سال تھی۔۔۔ یعنی قانونی طور پر وہ خودمختار تھا اور رضاکارانہ طور پر فوج میں جانے کے لیے تیار تھا۔۔۔ اس لیے اسے روکنے کی تمام ظاہری اور خفیہ کوششیں ناکام رہیں۔

فوج میں مائیکل نے کیپٹن کا عہدہ حاصل کیا اور کئی محاذوں پر شجاعت کے ساتھ نمایاں کارنامے انجام دئیے۔ 44ء میں اس وقت کے امریکا کے سب سے بڑے میگزین ’’لائف‘‘ میں جنگی ہیرو کی حیثیت سے اس کی تصویر بھی چھپی۔ ڈان کی اپنی فیملی میں سے تو کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ تصویر اسے دکھاتا، البتہ ڈان کے ایک دوست نے اسے وہ میگزین پیش کیا۔ اس کا خیال تھا کہ ڈان اپنے بیٹے پر فخر محسوس کرے گا۔ ’’لائف‘‘ میں اس طرح تصویر اور کارناموں کا تذکرہ چھپنا بہت بڑا اعزاز تھا۔

لیکن ڈان نے یہ سب کچھ ناگواری سے۔۔۔ سرسری انداز میں دیکھا اور میگزین ایک طرف ڈالتے ہوئے بولا: ’’کیا فائدہ۔۔۔؟ اس احمق نے یہ کارنامے غیروں اور اجنبیوں کے لیے انجام دئیے ہیں۔‘‘

مائیکل کو جنگ میں ایک ایسا زخم بھی آیا تھا جس نے اسے تقریباً معذور کردیا۔ 45ء میں جب اسے فوج سے ڈسچارج کردیا گیا تو وہ یہی سمجھا کہ اسے طبی بنیادوں پر سبکدوش کیا گیا ہے۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کے باپ نے اسے فوج سے واپس بلوانے کا بندوبست کیا تھا۔ گھر آکر چند ہفتوں بعد جب وہ صحت یاب ہوگیا تھا تو اس نے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے نیوہمپشائر کے ایک کالج میں داخلہ لے لیا۔ اس وجہ سے وہ ایک بار پھر باپ کا گھر چھوڑکر چلا گیا۔ اب وہ بہن کی شادی میں شرکت کے لیے خاص طور پر آیا تھا اور اپنے ساتھ اپنی ہونے والی بیوی کو بھی لے آیا تھا تاکہ اسے خاندان کے افراد سے ملواسکے۔۔۔ مگر کسی نے بھی اس لڑکی کو پسند نہیں کیا تھا۔

مگر ’’کے‘‘ کو اس بات کا احساس نہیں تھا۔ وہ بے چاری ہر ایک سے خوش خلقی سے مل رہی تھی۔ ہر مہمان کے بارے میں مائیکل سے کرید کرید کر پوچھ رہی تھی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر آنکھیں پھیلاکر حیران ہورہی تھی۔ شادی کے لیے اس قدر اہتمام اور تکلفات بھی اس کے لیے گویا انوکھی بات تھی۔

پھر اس کی نظر چند افراد کی ٹولی پر پڑی جو گھر میں تیار کی گئی شراب کے ایک بیرل کے پاس کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک تو تکفین وتدفین کا کام کرنے والا بونا سیرا تھا۔ دوسرا ایک بیکری کا مالک نیزورین تھا۔ تیسرے کا نام کپولا اور چوتھے کا براسی تھا۔ ’’کے‘‘ ایک ذہین لڑکی تھی اور اس کی قوتِ مشاہدہ تیز تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ چاروں آدمی اس طرح خوش دکھائی نہیں دے رہے تھے جس طرح شادی میں شرکت کرنے والے دوسرے لوگ نظر آرہے تھے۔ اس نے اس بات کا ذکر مائیکل سے بھی کردیا۔

’’ہاں۔۔۔ وہ واقعی خوش نہیں ہیں۔۔۔‘‘ مائیکل نے مسکراتے ہوئے اس کے خیال کی تایید کی۔

’’اس وقت شادی میں شرکت تو ان چاروں کے لیے ایک ضمنی کام ہے۔ حقیقت میں تو یہ اپنے کسی کام سے آئے ہیں۔ غالباً کوئی فریاد لے کر آئے ہیں اور تخلیے میں میرے والد سے ملاقات کے منتظر ہیں۔‘‘

مائیکل کی بات صحیح معلوم ہوتی تھی۔ ’’کے‘‘ دیکھ رہی تھی کہ ان چار آدمیوں کی نظریں مسلسل ڈان کے تعاقب میں تھیں۔ مہمان آتے تو ڈان آگے بڑھ کر گیٹ پر ان کا استقبال کرتا۔ اسی دوران سڑک کے دوسری طرف سیاہ رنگ کی ایک بڑی گاڑی آکر رُکی۔ اس میں موجود دونوں افراد گاڑی سے اُترنے کے بجائے اپنے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک ایک نوٹ بک اور قلم نکال کر بیٹھ گئے۔

انہوں نے وہاں موجود گاڑیوں کے نمبر نوٹ کرنا شروع کردئیے۔ انہوں نے اپنی اس کارروائی کو خفیہ رکھنے کا بھی تکلف نہیں کیا تھا۔ سنی نے گھوم کر باپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’یہ لوگ یقیناًپولیس والے ہیں۔‘‘

’’ان کا تعلق ایف بی آئی سے ہے۔۔۔‘‘ ڈان نے بے نیازی سے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’لیکن ہمیں ان سے کیا؟ سڑک تو میری ملکیت نہیں ہے۔ سڑک پر کھڑے ہوکر۔۔۔ جس کا جو دل چاہے، کرسکتا ہے۔‘‘

سنی کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ اس نے سیاہ کار والوں کو نیچی آواز میں گالی دی اور بولا: ’’ان لوگوں کی نظر میں کسی کی کوئی عزت نہیں ہے۔ انہیں موقع محل کا کوئی خیال نہیں ہے۔‘‘

پھر وہ غصیلے انداز میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا سیاہ کار تک پہنچا اور ڈرائیونگ سیٹ پر موجود شخص کی طرف جھک کر کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ اس نے ایک کارڈ جیب سے نکال کر اس کے سامنے لہرایا۔ ڈان کا اندازہ ٹھیک ہی تھا۔ ان لوگوں کا تعلق ایف بی آئی سے ہی تھا۔ سنی غالباً انہیں کھری کھری سنانے کے ارادے سے گیا تھا، تاہم کارڈ دیکھ کر اس نے ارادہ ملتوی کردیا۔

سیدھا ہوکر وہ ایک لمحے انہیں خونخوار نظروں سے گھورتا رہا، پھر اس نے نفرت سے بظاہر تو سڑک پر تھوکا۔۔۔ لیکن جان بوجھ کر گردن کو اس طرح جھٹکادیا کہ تھوک گاڑی کے دروازے پر جاگرا۔۔۔ پھر وہ گھوما اور واپس گھر کی طرف چل دیا۔ اس کا خیال تھا کہ ایف بی آئی والے اس کے پیچھے پیچھے آئیں گے، مگر وہ نہیں آئے۔۔۔ او رنہ ہی ان میں سے کسی نے ایک لفظ بھی کہا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here