The Godfather 10

'دی گاڈفادر' ایک مشہور زمانہ ناول ہے، جسے اطالوی امریکن ماریو پوزو نے 60ء کی دہائی میں لکھا تھا۔ اس ناول کی شہرت کو چار چاند لگائے 1972ء میں اسی نام سے جاری ہونے والی فلم نے، جسے تاریخ کی بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب عدالت ‏عظمیٰ نے 'پاناما اسکینڈل' کا فیصلے سنایا اور اس کا آغاز گاڈ فادر کے مشہور زمانہ جملے سے کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مہم کے طور پر لے کر اسے حکمران خاندان کے خلاف استعمال کیا اور سابق وزیراعظم کو گاڈ فادر سے تشبیہ دی۔ عدلیہ نے اس ناول کا حوالہ کیوں دیا؟ اردو دان طبقےکو یہ جاننے کا شوق ہوا۔ ' پاکستانی ' اپنے ایسے ہی قارئین کے لیے 'دی گاڈفادر' کا اردو ترجمہ پیش کررہا ہے۔ اس سے جہاں اس تاریخی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں علم ہوگا وہیں جدید ادب کے ایک شاہکار کا مطالعہ بھی ہوگا۔ ناول کا اُردو ترجمہ محمود احمد مودی نے کیا ہے، ان کے

0
506

گاڈ فادر 10

ٹام ہیگن نے جمعرات کے روز اپنے آفس پہنچ کر سب سے پہلے کچھ کاموں کے سلسلے میں کاغذی کارروائیاں مکمل کیں۔ جمعہ کو روز جل سولوزو سے ڈان کارلیون کی ملاقات طے ہوچکی تھی اور ہیگن چاہتا تھا کہ اس ملاقات سے پہلے وہ چھوٹے موٹے کاموں اور کاغذی کارروائیوں سے فارغ ہوچکا ہو۔ ڈان سے سولوزو کی یہ ملاقات ہیگن کے اندازے کے مطابق نہایت اہم ثابت ہونے والی تھی۔ اسے معلوم ہوچکا تھا کہ سولوزو درحقیقت ’’فیملی‘‘ کے ساتھ کاروباری شراکت داری کی کوئی تجویز لے کر آرہا تھا۔

پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی

ڈان کو اس وقت کوئی خاص حیرت یا افسوس نہیں ہوا تھا جب ہیگن نے لاس اینجلس سے واپس آکر اسے بتایا تھا کہ فلمی دنیا کے بہت بڑے آدمی جیک والز سے اس کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور اس نے کسی بھی قیمت پر جونی کو اپنی فلم میں کاسٹ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

ڈان نے ہر بات تفصیل سے پوچھی تھی اور ہیگن نے تمام جزئیات بیان کی تھیں۔ ان ماں بیٹی کا ذکر بھی آیا تھا جنہیں ہیگن نے والز کے فارم ہاؤس سے رخصت ہوتے دیکھا تھا۔ ہیگن نے اس وقت کمسن لڑکی کی جو حالت دیکھی تھی، وہ بھی بیان کی تھی۔ اس پر ڈان نے دانت پیسے تھے اور نہایت ہی ناگواری سے بڑبڑایا: ’’خبیث۔۔۔!‘‘

اس سے زیادہ اس نے کسی ردِعمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔ مجموعی طور پر وہ اسی طرح پُرسکون رہا تھا جیسے ناکامی کی اس خبر نے اسے کوئی خاص دھچکا نہ پہنچایا ہو۔ ان کے درمیان یہ گفتگوپیر کے روز ہی ہوچکی تھی۔ پھر بدھ کو ڈان نے ہیگن کو ملاقات کے لیے بلایا تھا۔ وہ ہشاش بشاش اور مطمئن نظر آرہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس نے مسئلے کا حل تلاش کرلیا ہو، تاہم اس نے ہیگن کو اس سلسلے میں کچھ نہیں بتایا۔ اس نے کچھ کاموں کے بارے میں ہیگن کو ہدایات دیں، پھرسرسری انداز میں گویا پیش گوئی کی کہ جلد ہی والز کا فون آئے گا اور وہ انہیں بتائے گا کہ وہ جونی کو اپنی فلم میں مرکزی کردار کے لیے کاسٹ کرنے کو تیار ہے۔

دی گاڈفادر 1 بھی پڑھیں

اسی اثناء میں فون کی گھنٹی بج اُٹھی اور ہیگن کی دھڑکن اس احساس سے تیز ہونے لگی کہ کیا واقعی والز کا فون آگیا تھا؟ لیکن وہ فون کالز کا نہیں، بلکہ بوناسیرا کا تھا۔ اس کی آواز تشکر اور ممنونیت سے لرز رہی تھی۔ وہ ہیگن سے درخواست کررہا تھا کہ اس کا شکرئیے کا پیغام ڈان کو پہنچادیا جائے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا دل ٹھنڈا ہوگیا تھا اور ڈان نے اس کی درخواست قبول کرکے گویا اسے بن مول خریدلیا تھا۔ اس نے نہایت جذباتی ہوکر یہ بھی کہا کہ ڈان کو اگر زندگی میں کبھی اس کے خون کی بھی ضرورت پڑی تو وہ صرف ایک آواز دے کر دیکھے، بونا سیرا اس کے پسینے کی جگہ اپنا خون بہادے گا۔

ہیگن نے نہایت تحمل سے اس کا شکریہ ادا کیا اور مربیانہ انداز میں اسے تسلی دی کہ اس کے جذبات ڈان تک پہنچادئیے جائیں گے۔ وہ ’’ڈیلی نیوز‘‘ میں خبر اور تصویریں دیکھ چکا تھا کہ کس طرح جیری اور کیون سڑک پر نیم مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ تصویروں میں ان کی حالت عبرت ناک نظر آرہی تھی۔ وہ خون اور گوشت کا ملغوبہ دکھائی دے رہے تھے۔ اخبار نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ شاید انہیں مہینوں ہسپتال میں رہنے اور پلاسٹک سرجری کرانے کی ضرورت پڑے گی اور اس کے بعد بھی وہ شاید پہلے جیسے نظر نہ آسکیں۔ ہیگن نے خبر پڑھ کر طمانیت سے سر ہلایا تھا اور ایک کاغذ پر نوٹ کیا تھا کہ گیٹو ایک خصوصی بونس کا مستحق ہوچکا تھا۔ اس کے ذمے جو کام لگایا گیا تھا، اس نے عمدگی سے انجام دیا تھا۔

ہیگن اگلے تین گھنٹوں تک کاغذات میں اُلجھا رہا۔ اس نے ڈان کی ان تین کمپنیوں کی آمدنی کی رپورٹس کا جائزہ لیا جن میں سے ایک جائیداد کا کاروبار کرتی تھی اور تیسری کنسٹرکشن کا کام کرتی تھی۔ جنگ کے دوران تینوں کے کاروبار زیادہ اچھے نہیں رہے تھے لیکن اب جنگ کے بعد اُمید تھی کہ وہ تیزی سے پھلے پھولیں گے۔

دی گاڈفادر 2 بھی پڑھیں

کاغذات میں اُلجھ کر وہ جونی والے مسئلے کو تقریباً بھول ہی چکا تھا مگر اچانک اس کی سیکرٹری نے اسے بتایا کہ لاس اینجلس سے اس کے لیے کال تھی۔ اس کا دل انجانی توقعات سے دھڑک اُٹھا تاہم اس نے ریسیور اُٹھاکر پُرسکون اور باوقار لہجے میں کہا:

’’ہیگن بول رہا ہوں۔۔۔ فرمائیے!‘‘

دوسری طرف سے جو چنگھاڑتی ہوئی آواز سنائی دی، اسے پہلے تو ہیگن پہچان ہی نہیں سکا۔ پھر اس کی سمجھ میں آیا کہ والز تھا جو اسے گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہا تھا:
’’میں تم سب کو سو سال کے لیے جیل بھجوادوں گا۔۔۔ چاہے اس کے لیے مجھے اپنی آخری پینی تک خرچ کرنی پڑجائے۔ میں تم لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا اور اس جونی کے بچے کو تو میں زندگی بھر کے لیے ہیجڑا بنوادوں گا۔ تم میری بات سن رہے ہو۔۔۔ ناسور کے بچے؟!‘‘

ہیگن نے سنبھلتے ہوئے متانت سے کہا:
’’میں سور کا بچہ نہیں۔۔۔ جرمن، آئرش والدین کی اولاد ہوں۔‘‘

دی گاڈفادر 3 بھی پڑھیں

دوسری طرف ایک لمحے خاموشی رہی، پھر فون بند کردیا گیا۔ ہیگن مسکراتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ والز نے بلاشبہ خوب گالیاں دی تھیں اور بکواس کی تھی، لیکن اس نے براہِ راست ڈان کارلیون کا نام لے کر کوئی دھمکی نہیں دی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آدمی بہرحال ذہین تھا!


دس سال پہلے جیک والز کی پہلی بیوی کا انتقال ہوا تھا تب سے وہ اپنے بیڈ روم میں اکیلا ہی سوتا تھا۔ اس کا بیڈروم اتنا بڑا تھا کہ اس میں کسی کلب کے منظر کی شوٹنگ ہوسکتی تھی اور بیڈ اتنا بڑا تھا کہ اس پر دس آدمی سوسکتے تھے، تاہم وہ تنہا ہی سوتا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ پہلی بیوی کے انتقال کے بعد اس کی زندگی میں کوئی عورت نہیں آئی تھی۔ اس نے دوسری شادی بھی کی تھی لیکن جس دوران یہ شادی برقرار تھی، ان دنوں بھی اس کا اور اس کی بیوی کا بیڈروم الگ تھا۔ بیوی کے ساتھ اس کا رویہ ایسا ہی تھا جیسے وہ بھی ضروریاتِ زندگی کی طرح محض ضرورت کی ایک چیز ہو اور وہ صرف بوقتِ ضرورت ہی اس کے پاس جاتا تھا۔

شاید اسی لیے وہ جلد ہی اسے چھوڑگئی تھی۔ والز کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ اس کے لیے عورتوں کی کوئی کمی نہیں تھی اور ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے کے باوجود وہ ایک توانا آدمی تھا، مگر کچھ عرصے سے اس کا معاملہ کچھ ایسا ہوگیا تھا کہ نہایت خوبصورت مگر کمسن لڑکیاں اس کی کمزوری بن گئی تھیں۔ وہ پہلے ہی کچھ زیادہ اچھی فطرت کا مالک نہیں تھا، لیکن اب تو فطرت میں کج روی کا کوئی ایسا پہلو بھر آیا تھا کہ کمسن لڑکیوں کو دیکھ کر ہی اسے خوشی ہوتی تھی۔

دی گاڈفادر 4 بھی پڑھیں

جمعرات کی اس صبح نہ جانے کیوں اس کی آنکھ جلدی کھل گئی تھی۔

صبح کا اُجالا اس کے طویل وعریض بیڈروم میں صرف اس حد تک ہی پہنچ پارہا تھا کہ وہاں ملگجے اندھیرے کا سا سماں تھا۔ اسے اپنے بیڈ کی پائنتی کوئی مانوس سی چیز رکھی دکھائی دے رہی تھی۔ لیکن کمرے میں روشنی کم اور ذہن پر غنودگی کا غلبہ ہونے کی وجہ سے اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا چیز تھی۔

اسے بہتر طور پر دیکھنے کے لیے وہ ایک کہنی کے بل ذرا اونچا ہوا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا دیکھ رہا تھا۔ اسے وہ چیز کسی گھوڑے کے سر سے مشابہ لگ رہی تھی۔ شاید اس کی آنکھیں اسے دھوکا دے رہی تھیں۔ اس چیز کو صحیح طور پر دیکھنے کے لیے اس نے بڑا سا ٹیبل لیمپ روشن کیا۔

دوسرے ہی لمحے اسے کچھ یوں لگا جیسے کسی نے اس کے سر پر ہتھوڑا رسید کردیا ہو۔ اس کا دل گویا اُچھل کر حلق میں آگیا جس کی وجہ سے اسے قے آگئی۔ خوبصورت، نفیس اور ریشمی چادر سے آراستہ اس کا بستر آلودہ ہوگیا۔

دی گاڈفادر 5 بھی پڑھیں

اس کے پائنتی واقعی ایک گھوڑے کا کٹا ہوا سر رکھا تھا اور وہ سر دنیا کے اب تک کے بیش قیمت ترین گھوڑے کا تھا۔ وہ اس کے اپنے ’’خرطوم‘‘ کا سر تھا جسے خریدنے کے بعد سے وہ گویا خوشی سے پھولا نہیں سماتا تھا۔ جہاں سے گھوڑے کی گردن کاٹی گئی تھی، وہاں سے موٹی پتلی نسیں بھیانک انداز میں جھانک رہی تھیں اور بستر پر خون پھیلا نظر آرہا تھا۔ اس کی سیاہ ریشمی کھال جو چمکتی دکھائی دیتی تھی، زندگی سے محروم ہوکر گویا دھندلی پڑگئی تھی۔

اس کی بڑی بڑی آنکھیں جو موتیوں کی طرح جھلملاتی تھیں، اب وہ بھی چمک سے محروم تھیں۔ آنکھیں کھلی تھیں مگر اب ان میں پھیلی ہوئی موت کی ویرانی نے انہیں دھندلا اور خوفناک بنادیا تھا۔ دنیا کے عظیم ترین گھوڑے کا کٹا ہوا سر کسی حقیر سی چیز کی طرح اس کے پیروں سے ذرا دور پڑاتھا۔

ایک عجیب سا خوف اور وحشت اس پر اس طرح حملہ آور ہوگئی کہ وہ بے اختیار چیخیں مارنے اور اپنے ملازموں کو پکارنے لگا۔ ملازم دوڑے آئے۔ اسی وحشت کے عالم میں والز نے ہیگن کو نیویارک فون کرڈالا۔ اس کا بٹلر اس کی حالت دیکھ کر کچھ تشویش زدہ تھا۔ آخر اس نے اس کے ذاتی معالج کو فون کردیا تاہم اس کی آمد سے پہلے والز نے کافی حد تک اپنی حالت پر قابو پالیا۔

اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اس پر اس پہلو سے بھی حملہ ہوسکتا ہے۔ اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ سے ذرا بھی خبردار کیے بغیر کوئی اس سفاکی سے دنیا کے خوبصورت ترین اور کارآمد ترین گھوڑے کو ہلاک کرسکتاتھا۔ والز نے اپنے اصطبل کی سیکیورٹی کے لیے اپنی دانست میں جو فول پروف انتظامات کیے ہوئے تھے، وہ سب دھرے کے دھرے رہ گئے تھے۔

دی گاڈفادر 6 بھی پڑھیں

اس نے سیکیورٹی اسٹاف سے پوچھ گچھ کی تو رات کی ڈیوٹی دینے والوں نے حلفیہ بتایا کہ انہوں نے کسی قسم کی آواز تک نہیں سنی، نہ ہی انہوں نے کسی قسم کی غفلت برتی اور نہ ہی انہیں کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔ والز فیصلہ نہیں کرسکا کہ وہ جھوٹ بول رہے تھے۔۔۔ انہیں خریدلیا گیا تھا یا پھر ان کے ساتھ کوئی ایسی چال چلی گئی تھی کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوسکا تھا کہ درحقیقت کیا ہوا تھا؟

وہ سوچ رہا تھا کہ شاید وہ پولیس کو اس بات پر آمادہ کرسکے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ اتنی سختی کریں کہ وہ سچ اُگل دیں۔۔۔ لیکن یہ سب بعد کی باتیں تھیں۔ فی الحال تو یہ بھیانک حقیقت سامنے تھی کہ خرطوم کو ذبح کیا جاچکا تھا اور وارننگ کے طور پر اس کا سر اس کے قدموں میں پھینک دیا گیا تھا۔

بہرحال والز احمق نہیں تھا۔ اس جھٹکے نے اس کی اناپرستی کو کہیں دور لے جا پھینکا تھا۔ یہ پیغام اس کی سمجھ میں آگیا تھا۔ اس کی عقل میں یہ بات آگئی تھی کہ جو لوگ اس کی دولت، طاقت، اثرورسوخ، صدر مملکت سے اس کے مراسم۔۔۔ اور اس طرح کی دوسری کسی بھی بات کو خاطر میں نہیں لائے تھے۔ وہ اگر کرنے پر آتے تو کیا کچھ کرسکتے تھے۔ وہ اسے ہلاک بھی کرسکتے تھے۔ وہ محض اس بات پر اس کی جان لے سکتے تھے کہ وہ جونی کو اپنی فلم میں کاسٹ نہیں کررہا تھا۔

دی گاڈفادر 7 بھی پڑھیں

یہ احساس گویا اسے اس کی دنیا سے باہر لے آیا تھا جہاں اس نے ہمیشہ اپنے آپ کو طاقتور، بہت محفوظ محسوس کیا تھا۔ اسے اندازہ ہوا تھا کہ کچھ عناصر ایسی دیوانگی کی پیداوار ہوتے ہیں جن کے سامنے یہ سب باتیں بے کار ہوکر رہ جاتی تھیں کہ آپ کتنے اثرورسوخ والے تھے، آپ کتنی کمپنیوں اور کتنی دولت کے مالک تھے۔ کہاں کہاں آپ کا حکم چلتا تھا۔ اسے پہلی بار اندازہ ہوا تھا کہ کچھ لوگ اس جیسے افراد کو یہ احساس بھی دلاسکتے ہیں کہ وہ ہر کام اپنی مرضی کے مطابق نہیں کرسکتے۔ اس کے خیال میں یہ تو کمیونزم سے بھی زیادہ خطرناک چیز تھی۔

ڈاکٹر نے اسے کون آور دوا کا انجکشن لگادیا۔ اس سے اسے اپنے اعصاب پر قابو پانے میں مدد ملی اور وہ کافی حد تک پُرسکون انداز میں سوچنے کے قابل ہوگیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ جذباتی انداز می سوچنا قطعی مناسب نہیں رہے گا۔

دی گاڈفادر 8 بھی پڑھیں

جب اس نے قطعی غیرجذباتی انداز میں سوچنا شروع کیا تو احساس ہوا کہ اول تو یہ ثابت کرنا ہی تقریباً ناممکن تھا کہ اس کے گوڑے کو ڈان کارلیون کے اشارے پر ہلاک کیا گیا تھا اور اگر کسی معجزے کے تحت یہ ثابت ہو بھی جاتا تو بھلا ایک گھوڑے کو ہلاک کرنے کی زیادہ سے زیادہ سزا کیا ہوسکتی تھی؟

اس قسم کے مزید کچھ واقعات اسے ملک بھر میں تماشا بناسکتے تھے۔ اس کی طاقت اور اثرورسوخ کا بھرم ٹوٹ سکتا تھا۔ اس کی شخصیت کا سارا تاثر خاک میں مل سکتا تھا۔ عین ممکن تھا کہ وہ لوگ اسے ہلاک کرنے کے بجائے ایسے ہی طریقے آزماتے رہتے کہ وہ دنیا کے تمسخر کا نشانہ بن جاتا۔ اس کی شخصیت دو کوڑی کی ہوکر رہ جاتی۔ اس کا سارا وقار اور دبدبہ ہوا میں تحلیل ہوجاتا۔ یہ سب کچھ موت سے بھی بدتر تھا اور یہ محض اس لیے ہوتا کہ وہ ایک شخص کو اپنی فلم میں اس کردار میں کاسٹ نہیں کررہا تھا جس کے لیے وہ موزوں ترین تھا۔ اس نے ایک ایسی بات کو اَنا کا مسئلہ بنالیا تھا جس کے بارے میں دنیا کو کچھ پتا نہیں تھا۔

دی گاڈفادر 9 بھی پڑھیں

اس نے سوچا۔۔۔ بہت سوچا۔۔۔ گھنٹوں اس کے دل ودماغ میں دلائل کی جنگ جاری رہی۔ آخر کار وہ اہم فیصلے کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے اپنے اسٹاف کو بلالیا اور انہیں کچھ ضروری ہدایات دیں۔ پریس کو یہ اطلاع فراہم کرنے کا بندوبست کیا گیا کہ خرطوم کسی بیماری کے باعث مرگیا تھا۔ حقائق جاننے والے تمام افراد سے قسم لی گئی کہ وہ اس معاملے میں کہیں اصل بات کا بھولے سے بھی تذکرہ نہیں کریں گے۔ گھوڑے کی بیماری کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ شاید اسے انگلینڈ سے امریکا منتقلی کے دوران راستے میں کہیں لگی تھی۔ اس کی لاش کو رازداری سے والز نے اپنی جاگیر کی حدود میں دفن کرادیا۔

۔۔۔اور پھر اسی رات جونی کو نیویارک میں ایک فون کال موصول ہوئی جس میں اسے بتایا گیا کہ والز کی فلم میں کام شروع کرنے کے لیے اسے پیر کے روز اسٹوڈیو پہنچنا تھا۔

دی گاڈفادر 11 بھی پڑھیں

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here