The Godfather 1

'دی گاڈفادر' ایک مشہور زمانہ ناول ہے، جسے اطالوی امریکن ماریو پوزو نے 60ء کی دہائی میں لکھا تھا۔ اس ناول کی شہرت کو چار چاند لگائے 1972ء میں اسی نام سے جاری ہونے والی فلم نے، جسے تاریخ کی بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب عدالت ‏عظمیٰ نے 'پاناما اسکینڈل' کا فیصلے سنایا اور اس کا آغاز گاڈ فادر کے مشہور زمانہ جملے سے کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مہم کے طور پر لے کر اسے حکمران خاندان کے خلاف استعمال کیا اور سابق وزیراعظم کو گاڈ فادر سے تشبیہ دی۔ عدلیہ نے اس ناول کا حوالہ کیوں دیا؟ اردو دان طبقےکو یہ جاننے کا شوق ہوا۔ ' پاکستانی ' اپنے ایسے ہی قارئین کے لیے 'دی گاڈفادر' کا اردو ترجمہ پیش کررہا ہے۔ اس سے جہاں اس تاریخی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں علم ہوگا وہیں جدید ادب کے ایک شاہکار کا مطالعہ بھی ہوگا۔ ناول کا اُردو ترجمہ محمود احمد مودی نے کیا ہے، ان کے

0
612

گاڈ فادر 1

بونا سیرا اس وقت نیویارک کی فوجداری عدالت نمبر تین میں بیٹھا تھا اور انصاف کا منتظر تھا۔ اس کے دل میں اس وقت صرف ایک ہی خواہش تھی۔۔۔ اور وہ یہ کہ ان دو نوجوانوں کو قرار واقعی سزا ملے، جنہوں نے بری نیّت سے اس کی بیٹی پر حملہ کیا تھا اور جب وہ کسی طرح ان کے قابو میں نہیں آئی تھی تو انہوں نے مار مارکر اس کا برا حال کردیا تھا۔ اس کا جبڑا توڑدیا تھا۔

دی گاڈفادر 2 بھی پڑھیں

لڑکی ابھی تک ہسپتال میں تھی۔ اس کا جبڑا چاندی کے تاروں کے ذریعے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کی چوٹیں اور زخم ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئے تھے۔ اس کی حالت دیکھ کر بونا سیرا کے دل پر گزرتی تھی، وہ وہی جانتا تھا۔

جج صاحب بھاری بدن کے آدمی تھے۔ ان کے چہرے پر پسینہ تھا۔ انہوں نے آستینیں چڑھاکر اپنے سامنے کھڑے ہوئے دونوں نوجوان ملزموں کو اس طرح گھورا جیسے اُٹھ کر، اپنے ہاتھوں سے انہیں عدالت میں ہی سزا دینے کا ارادہ کررہے ہوں۔ ان کے چہرے پر وہی جلال تھا جو کسی ایسے منصف کے چہرے پر ہوسکتا تھا جس کا خون کسی کی زیادتی اور ظلم کی تفصیل سن کر کھول رہا ہو۔

پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی

یہ سب کچھ اپنی جگہ تھا، لیکن نہ جانے کیوں بونا سیرا کا دل کسی انجانے اندیشے اور خوف سے گویا ڈوبا جارہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے عدالت میں کوئی چیز کچھ مصنوعی سی ہے۔ جیسے وہاں کچھ کمی ہے۔ جیسے اس کے ساتھ کوئی دھوکا ہونے والا ہے۔

’’تم نے جو حرکت کی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تم انسان نہیں، درندے ہو۔۔۔‘‘ جج صاحب گرجے۔

’’بالکل۔۔۔ بالکل۔۔۔‘‘ بوناسیرا نے دل ہی دل میں جج صاحب کی تائید کی۔

’’بلکہ درندوں سے بھی بدتر۔۔۔!‘‘

وہ نفرت سے ان دونوں نوجوانوں کو گھور رہا تھا جن کے چہروں سے خوشحالی کی چمک عیاں تھی۔ جن کے تراشیدہ بال سلیقے سے جمے ہوئے تھے۔ جن کے لباس صاف ستھرے تھے۔ وہ گویا ایک انتہائی سنگین جرم کے سلسلے میں ملزم نامزد ہوکر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے، بلکہ کسی تقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے گویا، بادل نخواستہ، تھوڑی سی شرمندگی کے اظہار کے لیے جج صاحب کے سامنے ایک لمحے کے لیے سر جھکایا۔

دی گاڈفادر 3 بھی پڑھیں

 –  جج صاحب نے غیظ وغضب کی گھن گرج کے ساتھ سلسلہ کلام جاری رکھا:

’’تمہارا طرزِعمل جنگل کے درندوں سے بھی بدتر تھا۔ تمہاری قسمت اچھی ہے کہ تم اس مظلوم لڑکی کی عزت لوٹنے میں کامیاب نہیں ہوئے ورنہ میں تم دونوں کو کم ازکم بیس سال کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھجوادیتا۔‘‘

انہوں نے خاموش ہوکر گھنی بھنویں اُچکاتے ہوئے غمزدہ بونا سیرا کی طرف دیکھا۔ دوسرے ہی لمحے انہوں نے گویا اس سے نظر چراتے ہوئے اپنے سامنے رکھے ہوئے کاغذات کی موٹی سی گڈی کی طرف دیکھا۔ وہ اس مقدمے سے متعلق مختلف نوعیت کے کاغذات تھے۔ جج صاحب کی پیشانی پر شکنیں اور موٹے موٹے نقوش میں خفیف سا کھنچاؤ تھا۔ ان کے اندر گویا ایک زبردست کشمکش جاری تھی۔

چند لمحے کی خاموشی کے بعد آخر وہ کھنکارکر گلا صاف کرتے ہوئے بولے:

دی گاڈفادر 4 بھی پڑھیں

’’بہرحال۔۔۔ تمہاری نوجوانی اور نادانی کی عمر کو دیکھتے ہوئے، تمہارے اعلیٰ خاندانی پس منظر اور صاف ستھرے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اور حقیقت کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئےکہ قانون کا وقار، انتقام لینے میں پوشیدہ نہیں۔ میں تمہیں تین سال کی سزائے قید کا حکم سناتا ہوں۔۔۔ لیکن اس حکم پر عملدرآمد اس وقت تک معطل رہے گا جب تک عدالت اسے مناسب سمجھے۔‘‘

بونا سیرا تکفین وتدفین کاکام کرتا تھا۔ بنیادی طور پر وہ ایک گورکن تھا، لیکن برسوں کی محنت کے بعد اپنے پیشے کو زیادہ باعزت صورت دینے میں کامیاب ہوا تھا۔ اس کے پاس جو مردے تکفین وتدفین کے لیے لائے جاتے تھے، ان سے ان کا کوئی رشتہ یا قرابت داری نہیں ہوتی تھی، لیکن اپنے پیشے کے تقاضوں کو زیادہ بہتر طور پر پورا کرنے کے خیال سے بونا سیرا مرنے والوں کے لواحقین کے غم میں شریک ہوجاتا تھا۔ دکھاوے کے لیے وہ بھی ان کے سامنے غمزدہ صورت بنالیتا تھا اور کبھی کبھار کوشش کرکے دوچار آنسو بھی بہالیتا تھا۔

دی گاڈفادر 5 بھی پڑھیں

لیکن آج وہ سچ مچ غمزدہ تھا۔ غم کی شدت سے اس کا دل پھٹا جارہا تھا اور جج صاحب کا فیصلہ سننے کے بعد تو اس کا جی چاہا کہ وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، اپنا سر پیٹ لے، اپنے بالوں میں خاک ڈال لے۔ اس کی آنسوؤں سے دھندلائی ہوئی آنکھوں میں بیٹی کا چہرہ نقش تھا، جو درحقیقت زندگی سے بھرپور ایک خوبصورت لڑکی تھی، لیکن اس وقت بگڑا ہوا چہرہ اور مضروب جسم لیے ہسپتال کے بیڈ پر پڑی تھی۔

بونا سیرا نے بمشکل خود کو اپنے جذبات کے اظہار سے باز رکھا اور اپنے آپ پر ضبط کیے، عدالت کا منظر دیکھتا رہا۔ دونوں نوجوانوں کے والد اُٹھ کر اپنے چہیتوں کے قریب آگئے تھے اور انہیں پیار کررہے تھے۔ وہ سب بہت خوش نظر آرہے تھے، مسکرا رہے تھے۔

دی گاڈفادر 6 بھی پڑھیں

بونا سیرا کے حلق میں ایک زہریلی سی کڑواہٹ گھل گئی۔ اس کے سینے میں ایک چیخ بگولے کی طرح چکرا رہی تھی۔ اس چیخ سے وہ عدالت کے درودیوار ہلادینا چاہتا تھا۔ جج صاحب کے کانوں کے پردے پھاڑ ڈالنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر اس نے اس چیخ کا گلا گھونٹنے کے لیے دانت سختی سے بھینچ لیے اور جیب سے رومال نکال کر منہ پر رکھ لیا۔ دونوں نوجوان اس کے قریب سے گزرتے ہوئے، مسکراتے ہوئے اپنے والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ عدالت کے کمرے سے باہر کی طرف چل دیے۔ انہوں نے بونا سیرا کی طرف ایک نگاہِ غلط انداز ڈالنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی۔ وہ گویا ان کے نزدیک نہایت حقیر اور قطعی غیر اہم تھا۔ ان کے چہروں پر دھیمی لیکن فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔

تب گویا بونا سیرا مزید ضبط نہ کرسکا۔ وہ ان جاتے ہوئے لوگوں کی طرف منہ کرکے پھٹی پھٹی سی آواز میں چلا اُٹھا:

دی گاڈفادر 7 بھی پڑھیں

’’تم بھی ایک روز اسی طرح روؤ گے جس طرح میں رویا ہوں۔ تمہیں بھی اسی طرح رنج اور صدمہ اُٹھانا پڑے گا جس طرح تمہارے بچوں کی وجہ سے مجھے اُٹھانا پڑا ہے۔ دیکھ لینا میں تمہیں رونے پر مجبور کردوں گا‘‘ وہ ان لڑکوں کے والدین سے مخاطب تھا۔

کرب اور غصے کی شدت سے اس کی آواز اس کا ساتھ چھوڑگئی۔ وہ رومال آنکھوں پر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔ حالانکہ وہ اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں تھا، لیکن مضبوط جسم کا ایک عدالتی اہلکار، یوں اس کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا جیسے اسے اندیشہ ہو کہ وہ رُخصت ہوتے ہوئے ملزمان کے والدین پر حملہ کردے گا۔ لڑکوں اور ان کے والدین نے گردنیں گھماکر ترحم آمیز سے انداز میں اس کی طرف دیکھا۔ ان کے ساتھ ان کے وکیلوں کا پورا ایک گروپ تھا۔ ان وکیلوں نے یوں انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا جیسے وہ ان کے قانونی ہی نہیں، جسمانی محافظ بھی ہوں۔

دی گاڈفادر 8 بھی پڑھیں

بونا سیرا امریکی نہیں تھا۔ وہ اطالوی تھا اور سسلی سے امریکا آیا تھا، لیکن سالہاسال سے یہیں آباد ہونے کی بنا پر وہ یہاں اجنبیت محسوس نہیں کرتا تھا۔ وہ امریکی معاشرت میں رچ بس گیا تھا۔ اس نے یہاں انصاف ہوتے دیکھا۔ یہاں کے قانون اور نظامِ انصاف پر اس کا یقین بڑا پختہ ہوچکا تھا لیکن آج اس کے اعتماد کو جس طرح ٹھیس پہنچی تھی، اس کے بعد اس کا یقین ریت کے گھروندے کی طرح بکھرگیا تھا۔

اس کے ذہن میں نفرت کی آندھیاں سی چل رہی تھیں اور اس کے حواس پر غیظ وغضب کی سرمئی دھند سی چھاگئی۔ اس کی رگ وپے میں چنگاریاں دوڑ رہی تھیں۔ اس نے چشم تصوّر سے اپنے آپ کو کہیں سے ایک پستول خریدتے اور پھر ان دونوں نوجوانوں کے جسم گولیوں سے چھلنی کرتے دیکھا۔ تاہم وہ جلد ہی اس خواب کے اثر سے نکل آیا، وہ جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ اپنی بیوی کی طرف مڑا جو ایک سادہ سی عورت تھی اور ابھی تک دم بخود بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں میں حزن وملال اور چہرے پر مایوسی تھی۔ بونا سیرا گویا اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولا:

’’تم فکر نہ کرو ‘‘ وہ گویا دل ہی دل سے کسی فیصلے پر پہنچ چکا تھا۔

’’ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے دنیا کے سامنے ہمارا تماشا بنایا ہے، ہمارا مذاق اُڑایا ہے۔ انصاف حاصل کرنے کے لیے ہم ڈون کارلیون کے پاس جائیں گے۔ ہمیں عدالت سے انصاف نہیں ملا لیکن ڈون سے ہمیں ضرور انصاف ملے گا۔‘‘


لاس اینجلس کے ایک اعلیٰ درجے کے ہوٹل کا وہ سویٹ قدرے شوخ سے انداز میں آراستہ تھا۔ اس سویٹ کے ڈرائنگ روم میں ایک کاؤچ پر جونی فونٹانے نیم دراز تھا۔ وہ نشے میں دھت تھا اور بوتل اب بھی اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے ایک اور گھونٹ بھرا۔ اس کے سینے میں گویا ایک بار پھر آگ سی لگ گئی مگر یہ اس آگ سے کہیں کمتر تھی جو پہلے سے پہلے ہی اس کے وجود کو جلارہی تھی۔

وہ رقابت کی آگ تھی۔

اپنی اداکارہ بیوی مارگوٹ ایشٹن کے بارے میں سوچتے ہوئے یہ آگ اس کے ہر مسامِ جاں سے پھوٹنے لگتی تھی۔ اس وقت صبح کے چار بج رہے تھے اور اسے نہیں معلوم تھا کہ گزشتہ شام اس کی بیوی کہاں تھی؟ خمار سے دھندلائے ہوئے ذہن کے ساتھ وہ سوچ رہا تھا کہ مارگٹ جب واپس آئے گی تو وہ اسے قتل کردے گا۔ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ مارگوٹ کب واپس آئے گی، اور آئے گی بھی یا نہیں؟

اس کی پہلی بیوی، جسے اس نے چھوڑ دیا تھا، اس وقت تو وہ اسے بھی فون کرکے نہیں پوچھ سکتا تھا کہ اس کے دونوں بچوں کا کیا حال تھا؟ رات کے پچھلے پہر وہ اپنے دوستوں اور جاننے والوں میں سے بھی کسی کو فون کرکے تسلی کا کوئی لفظ سننے کی اُمید نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس وقت تو شاید کوئی اس کا فون ریسیو ہی نہ کرتا اور اگر کرتا بھی تو وہ یقیناً بیزاری یا غصے کا اظہار کرتا کیونکہ جونی اب ایک زوال زدہ شخص تھا۔

کچھ زیادہ پرانی بات نہیں تھی کہ وہ ہالی ووڈ کا صفِ اول کا گلوکار تھا۔ وہ بے حد مقبول راک سنگر تھا۔ بے حد وجیہہ بھی تھا۔ عورتیں اس پر مرتی تھیں۔ اسے فلموں میں بھی کام کرنے کی پیشکشیں ہوتی تھیں۔ اس نے چند ایک فلموں میں کام بھی کیا لیکن اسے خود ہی احساس ہوا کہ وہ زیادہ اچھا اداکار نہیں تھا۔ اس لیے اس نے دوبارہ گلوکاری پر ہی توجہ مرتکز کردی۔

پھر کچھ ایسے عوامل پیدا ہوئے کہ بطورِ گلوکار بھی اس پر بہت تیزی سے زوال آگیا۔ اب وہ نشے میں دھت ہونے کے باوجود صبح کے چار بجے کسی کو فون کرنے کی خود میں ہمت نہیں پاتا تھا۔ کوئی وقت تھا کہ اگر وہ رات کے اس پہر بھی کسی کو فون کرتا تو وہ اس پر فخر محسوس کرتا۔ وہ اپنے حلقہ احباب میں بیٹھ کر بظاہر سرسری لیکن درحقیقت فخریہ لہجے میں بتاتا کہ جونی فونٹا نے رات کے چار بجے اسے فون کیا تھا۔

کوئی وقت تھا کہ وہ ہالی ووڈ کی کئی سپر اسٹارز کے سامنے اپنی پریشانیوں یا مسائل کا بھی تذکرہ کرتا تھا تو وہ نہایت دلچسپی اور حیرت سے آنکھیں پھیلا پھیلاکر سنتی تھیں لیکن اب اگر وہ ان سے رسمی باتیں بھی کرنے کی کوشش کرتا تو وہ شاید اس کے منہ پر ہی کہہ دیتیں کہ وہ انہیں بور کررہا تھا۔

اس نے وہسکی سے لتھڑے ہوئے اپنے ہونٹوں کو اُلٹے ہاتھ سے صاف کیا اور وقت اور حالات کے اس تغیّر کے بارے میں سوچتے ہوئے افسردگی سے مسکرادیا۔

آخر اسے دروازے کے تالے میں چابی گھومنے کی آواز سنائی دی۔ اس کی بیوی واپس آگئی تھی۔ اس وقت بھی بوتل جونی کے ہونٹوں سے لگی ہوئی تھی۔ اس نے اسے ہٹانے کی کوشش نہیں کی، حتیٰ کہ مارگوٹ کمرے میں آگئی اور اس سامنے آن کھڑی ہوئی۔ وہ بے پناہ خوبصورت عورت تھی۔ اس کا سراپا قیامت تھا۔ بہت سے خوبصورت لوگ فلم اسکرین پر زیادہ خوبصورت نظر نہیں آتے، لیکن وہ اسکرین پر بھی اصل سے خوبصورت دکھائی دیتی تھی۔ کیمرہ اس کے حسن میں چار چاند لگادیتا تھا۔ اس کے سراپا میں گویا کچھ اور جان پڑجاتی تھی۔

دی گاڈفادر 9 بھی پڑھیں

جونی کے لیے مشکل یہ تھی کہ وہ اب بھی اس حسنِ بلاخیز کا دیوانہ تھا۔ مارگوٹ کی فلمیں دیکھنے والوں میں سے کم ازکم دس کروڑ مرد اس پر دل وجان سے مرتے تھے اور جونی محسوس کرتا تھا کہ شاید وہ بھی انہی دس کروڑ مردوں میں سے ایک تھا۔ وہ اس کا شوہر نہیں، اس کا پرستار، اس کا عاشق زار تھا۔ وہ جب اس کے سامنے آتی تھی، تو وہ اپنا سارا غصہ، برہمی اور نفرت بھول جاتا تھا۔ بالکل بے بس ہوجاتا تھا۔
’’کہاں تھیں تم اب تک؟‘‘ جونی نے اپنی لڑکھڑاتی آواز میں غصہ سمونے کی کوشش کی لیکن اسے اس میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔
’’باہر۔۔۔ عیش کر رہی تھی۔‘‘ مارگوٹ نے بے خوفی سے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ وہ گویا اسے چھیڑ رہی تھی۔ چڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔
اس نے جونی کی مدہوشی کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ شاید جونی میں اپنی جگہ سے ہلنے کی بھی سکت نہیں ہے مگر وہ اُچھل کر اُٹھ کھڑا ہوا اور اس نے مارگوٹ کا گلا دبوچ لیا لیکن اتنے قریب سے اس حسین چہرے کو دیکھ کر وہ جیسے بالکل ہی بے بس ہوگیا اور پھر کچھ نشے کی زیادتی کے باعث بھی اس کے ہاتھوں میں جان نہیں تھی۔ مارگوٹ کے گلے پر اس کی گرفت ذرا بھی سخت نہیں تھی۔ وہ استہزائیہ انداز میں مسکرارہی تھی۔
جونی نے گویا اس کے اس انداز سے ذرا چڑکر دوسرا ہاتھ گھونسا رسید کرنے کے لیے بلند کیا تو وہ دونوں ہاتھ اُٹھاتے ہوئے چلا اُٹھی:
’’دیکھو! میرے چہرے پر گھونسا ہرگزنہ مارنا۔ ابھی میری شوٹنگ چل رہی ہے۔ فلم ختم نہیں ہوئی۔ ابھی میں اپنے چہرے پر ذرا سا بھی نشان افورڈ نہیں کرسکتی۔‘‘
جونی کا ہاتھ اُٹھا رہ گیا۔ وہ اسے گھونسا رسید کرنے سے باز رہا۔ بے بسی اس پر پہلے ہی غالب تھی۔ مارگوٹ گویا اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہنسنے لگی۔ تب جونی نے اسے قالین پر گرادیا اور اس کے جسم کے ایسے حصوں پر گھونسے رسید کرنے لگا جہاں اوّل تو نشان پڑ نہیں سکتے تھے اور اگر پڑتے بھی تو نظر نہیں آسکتے تھے۔ درحقیقت خمار حد سے زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھوں میں اتنی طاقت ہی نہیں تھی کہ وہ مارگوٹ کو کوئی گزند پہنچاسکتا۔

دی گاڈفادر 10 بھی پڑھیں

وہ اس کے نیچے دبی اس طرح ہنس رہی تھی جیسے جونی اسے مارنے کے بجائے اس کے گدگدی کر رہا ہو۔ وہ نہایت نازک اندام نظر آتی تھی۔ اس کا بے داغ مرمریں سراپا گویا ذرا سی رگڑ بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن درحقیقت وہ اتنی نازک اندام بھی نہیں تھی۔
چند لمحوں بعد وہ اسے ایک طرف دھکیل کر اُٹھ کھڑی ہوئی اور استہزائیہ لہجے میں بولی:
’’تمہارا ہر کام ہی بچکانہ ہوتا ہے۔ تمہیں ڈھنگ سے کچھ بھی کرنا نہیں آتا حتیٰ کہ تم جو نشے بازوں جیسے فضول اور واہیات گانے گایا کرتے تھے، اب تو تم سے وہ بھی نہیں گائے جاتے‘‘
پھر اس نے گھڑی دیکھی اور لہجے میں بیزاری آگئی۔ ’’میں سونے جا رہی ہوں، خدا حافظ اور شب بخیر!‘‘

وہ بیڈروم میں چلی گئی اور دروازہ مقفّل کر لیا۔ جونی، سویٹ کے ڈرائنگ روم میں پڑا رہ گیا۔ چند لمحے بعد وہ اُٹھ بیٹھا اور اس نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ اس کا سر گھوم رہا تھا۔ ذلت اور شکستگی کے احساس سے اس کی آنکھیں کچھ اور دھندلائی جارہی تھیں۔

دی گاڈفادر 11 بھی پڑھیں

پھر دھیرے دھیرے اس کے دل کے کسی گوشے سے عزم اور ہمت کی ایک لہر سی اُبھری۔ وہ عزم اور ہمت جس کی مدد سے اس نے ہالی ووڈ کے ’’جنگل‘‘ میں اپنی بقا کی جنگ لڑی تھی اور اپنا مقام بنایا تھا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اب وہ ایک دلدل میں پھنس چکا تھا۔ دھیرے دھیرے نیچے جارہا تھا۔ ناکامیاں چاروں طرف سے اس پر حملہ آور تھیں۔ ہر قسم کی کامیابی اور ہر قسم کی خوشی گویا اس کی زندگی سے رُخصت ہوچکی تھی۔

مگر اسے زندہ رہنا تھا۔ کامیابیوں اور خوشیوں کے حصول کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے تھے۔ وہ اتنی آسانی سے شکست تسلیم نہیں کرسکتا تھا۔ اس دنیا میں ابھی ایک فرد موجود تھا جو اس کا ہاتھ تھام سکتا تھا، اسے حالت کی دلدل سے نکال سکتا تھا، اسے سہارا دے سکتا تھا۔ اسے دوبارہ کامیابیوں کے راستے پر ڈال سکتا تھا۔۔۔ اور وہ تھا اس کا مربّی اور سرپرست، اس کا گاڈفادر۔۔۔ ڈان کارلیون۔۔۔ جس کے لیے جونی منہ بولے بیٹے کی طرح تھا!

جونی نے فیصلہ کیا کہ وہ نیویارک جائے گا اور گاڈ فادر سے ملے گا۔ اس نے اسی وقت فون اپنی طرف کھسکایا اور نیویارک کے لیے جہاز پر ایک سیٹ بک کرانے کی غرض سے ایئرپورٹ کا نمبر ملانے لگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here