بین الاقوامی میگزین دی اکانومسٹ نے نام نہاد بھارتی جمہوریت کی قلعی کھول دی۔

بین الاقوامی جریدے دی اکانومنسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بھارت قومیت کے نشے میں آمریت کی جانب گامزن ہے، مودی ہندوستان کو یک جماعتی ریاست بنانے میں مگن ہیں۔

جریدے کا کہنا ہے کہ مودی حکومت میں ہندوتوا کے پیروکاروں کو اعلیٰ حکومتی عہدوں سے نوازا جارہا ہے، بھارتی فوج کو بھی سیاست میں گھسیٹا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مودی نے قومی اداروں کو سیاسی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی، حکومت پشت پناہی پر میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے گئے۔

جریدے نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ حال ہی میں بھارتی حکومت کے وزرا نے ایک متنازع بھارتی صحافی ارنب گوسوامی کی ضمانت منظور کروائی، گوسوامی کیس ہر گز آزادی اظہار رائے کی نمائندگی نہیں کرتا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال اگست میں مودی نے کشمیر پر ظالمانہ اور غاصبانہ براہ راست حکمرانی مسلط کی اور ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کو حراست میں لیا۔ اس حوالے سے مقدمات کی سماعت بھارت کی عدالتیں بھول چکی ہیں۔

جریدے نے انکشاف کیا کہ اپنا متنازعہ قانون جس کے تحت سیاسی جماعتوں کو لامحدود عطیات ملنے کی اجازت دی گئی تھی،اسے منظور کرانے کے لیے 2017ء میں مودی نے راجیہ سبھا کے اختیارات کم کروائے۔

دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق اعلی عدلیہ ابھی تک کشمیر کو نظر انداز کیے ہوئے ہے۔ متنازعہ سی اے اے کے خلاف 140سے زائد اپیلوں کی سماعت مسلسل التوا کا شکار ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here