شمالی وزیرستان + جنوبی وزیرستان

سٹریٹیجک ڈیپتھ کا ڈھکوسلہ

آج تک پاکستان نے افغانستان کے ایک انچ پہ دعوی نہیں کیا، اپنا ایک فوجی افغانستان نہیں بھیجا، افغانستان پر کبھی ایک حملہ نہیں کیا، سوائے سفارت خانے کے افغانستان میں کوئی ٹھکانہ نہیں بنایا، فوجی نقل و حرکت کے لیے نہ کوئی سڑک بنائی، نہ پل نہ بنکرز نہ کوئی گولہ بارود وغیرہ پاک افغان سرحد پر پہنچایا، آج تک پاکستان نے یہ نہیں کہا کہ وہ افغانستان میں اپنا کوئی فوجی اڈا بنانا چاہتے ہیں

پھر کاہے کی ‘سٹریٹیجک ڈیپتھ ؟؟؟

سٹریٹیجک ڈیپتھ’ سرخوں کی پسندیدہ اصطلاح ہے جس کا استعمال وہ کثرت سے کرتے ہیں۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ پاکستان اپنی کم چوڑائی کی وجہ سے انڈیا کے نشانے سے دور جانے کے لیے افغانستان کو اپنے فوجی اڈے یا محفوظ ٹھکانے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے افغانستان میں مجاہدین کو سپورٹ کر کے اپنی طفیلی حکومت بنانا چاہتا ہے۔ نیز یہ فوج کی پالیسی ہے اور ہر فساد کی جڑ ہے۔

سرخوں کے اس دعوے پر تبصرہ کرنے سے پہلے ‘سٹریٹیجک ڈیپتھ’ کا مفہوم سمجھ لیں پھر آگے بات کرینگے۔

سٹریٹیجک ڈیپتھ’ کے معنی ہیں تزویراتی گہرائی۔ اس کا فوجی مفہوم یہ ہے کہ آپ اپنا دفاع، اپنی کمانڈ و کنٹرول اور اہم سازوسامان دشمن کی پہنچ سے دور رکھیں۔

پاکستان پر 1974ء تک افغانستان میں مداخلت کا الزام نہیں لگا تھا۔ تب تک پاکستان انڈیا کے خلاف اپنی دونوں بڑی جنگیں لڑ چکا تھا۔ اس وقت تک پاکستان نے ایٹم بم اور لانگ رینج میزائل بھی نہیں بنائے تھے۔ تب ان 27 سالوں میں پاکستان کو ‘سٹریٹجک ڈیپتھ’ حاصل کرنے کا خیال کیوں نہیں آیا ؟؟؟

یہ خیال تب کیوں آیا ؟؟؟ جب روس افغانستان میں دھر آیا اور پاکستان نے ایٹم بم بنا لیا جس کے بعد سٹریٹیجک ڈیپتھ بےمعنی ہوگئی۔

سچ یہ ہے کہ اس خطے میں سارے فساد کی جڑ ‘سٹریٹیجک ڈیپتھ’ نہیں بلکہ ‘لوئے افغانستان’ یا ‘لوئے پشتونستان’ نامی افغان سرخوں کا نظریہ یا پالیسی ہے

جس کے تحت

افغانستان آدھے پاکستان پر دعوے دار ہے، افغانستان کا ہر حکمران اٹک پر جھنڈا لہرانے کے اعلانات کرتا رہا، افغانستان نے بارہا پاکستان پر فوجی حملے کیے، افغانستان نے پاکستان میں 1974ء تک درجن بھر شورشوں اور دہشتگردانہ تحریکوں کو سپورٹ کیا

جمعہ خان صوفی کے مطابق 1974ء میں بھی افراسیاب خٹک، لطیف آفریدی اور اجمل خٹک وغیرہ افغانستان کے پہاڑوں میں دہشتگردی کی تربیت لے رہے تھے اور افغان سرخے ‘پشتون زلمی’ کے نام سے پاکستان میں نئی دہشتگردانہ تحریک لانچ کرنے کی تیاری میں تھے،

(آج بھی ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور پی ٹی ایم وغیرہ افغان سرخوں کی ہی پراکسیز ہیں)

تب اس وقت کے سولین حکمران ذولفقار علی بھٹو نے پہلی بار افغانستان کو جواب دینے کا فیصلہ کیا اور مجاہدین کی مدد کرنے کا حکم دیا۔ اگر افغانستان میں مجاہدین کی مدد ‘سٹریٹیجک ڈیپتھ’ ہے تو اس کا معمار کوئی فوجی نہیں بلکہ جمہوریت کا چیمپئن اور سرخوں کا پسندیدہ لیڈر ذولفقار علی بھٹو تھا۔

پاکستان نے صرف اور صرف افغانستان کی پاکستان میں دراندازی روکنے اور روسی خطرے سے خود کو بچانے کے لیے مجاہدین کی مدد کی۔ پاکستان کبھی بھی افغانستان میں طفیلی حکومت نہیں چاہتا بلکہ ہمیشہ دوست حکومت چاہی۔

اگر حمداللہ محب کہے کہ ‘ہم پاکستان کے دشمنوں کو افغانستان میں بسا کر پاکستان کے خلاف استعمال کرینگے۔ سٹوڈنٹس کہیں کہ ‘ہم اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونگے دینگے۔

تو پاکستان کو کس کی حمایت کرنی چاہئے ؟؟؟

پاکستان دو دشمنوں کے درمیان سینڈویچ نہیں بننا چاہتا۔ پاکستان چاہتا ہے کہ مغربی سمت میں افغانستان کے ساتھ اس کی 2640 کلو میٹر طویل سرحد محفوظ رہے۔ پاکستان کی پالیسی صرف یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین اس کے خلاف کسی بھی طرح استعمال نہ ہو بس۔

سٹریٹیجک ڈیپتھ’ نامی کوئی پالیسی موجود نہیں۔ یہ بھی سرخوں کے 80٪ فوجی بجٹ جیسا پراپیگینڈا ہے۔ یہ اصطلاح صرف ایک بار جنرل مرزا اسلم بیگ نے استعمال کی وہ بھی تجویز کی صورت میں اگر ہم افغانستان کی سپورٹ حاصل کریں تو انڈیا سے فیصلہ کن جنگ کی صورت میں کچھ فوجی کمک کو افغانستان کے راستے پاکستان کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں بھیج سکیں گے۔ لیکن یہ تجویز فوری طور پر رد کر دی گئی تھی۔

پاکستان افغانستان میں ‘سٹرٹیجک ڈیپتھ’ چاہتا تو پاک افغان سرحد پر باڑ لگاتا کیا ؟؟؟

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here