لیاقت پور: تیزگام کی 3 بوگیوں میں آگ لگ گئی، 74 افراد جاں بحق

0
20

صوبہ پنجاب کے شہر لیاقت پور کے قریب تیز گام ٹرین کی 3 بوگیوں میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 74 افراد جاں بحق ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ٹرین کی 3 بوگیوں میں آگ لگ گئی، حادثے میں 74 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 12 مسافروں کی حالت تشویش ناک ہے۔

ڈی سی رحیم یار خان کے مطابق آگ سلینڈر پھٹنے کے باعث لگی، 40 سے زائد مسافر زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے احمد پور شرقیہ، بہاولپور اسپتال منتقل کیا گیا۔

ایم ایس ڈی ایچ کیو لیاقت پور کے مطابق شدید زخمیوں کو شیخ زید اسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈی سی رحیم یار خان کے مطابق تیز گام ایکسپریس کی بوگیوں میں لگنے والی آگ بجھا دی گئی، کولنگ کا عمل جاری ہے۔ ریسکیو 1122 کی 10 گاڑیوں نے آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیا۔

آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے جوان تیزگام حادثے کے مقام پر پہنچ گئے، پاک فوج کے جوان سول انتظامیہ سے مل کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک فوج کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس اسٹاف بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹربھی حادثےکی جگہ پہنچ گیا، آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

شیخ رشید احمد نے حادثے کی رپورٹ طلب کرلی

ریلوے حکام کے مطابق ٹرین سلینڈر لے جانے کی اجازت نہیں ہے اور تحقیقات کے بعد اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ کس کی غفلت کے باعث مسافر ٹرین میں سلینڈر لے کر سوار ہوئے۔ وفاقی وزیرے ریلوے شیخ رشید احمد نے ٹرین حادثے کی رپورٹ طلب کرلی۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 9 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے، ٹرین کے اکانومی کلاس میں آگ لگی ہے، تبلیغی جماعت کے لوگ اجتماع میں جا رہے تھے۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ دو گھنٹے میں ٹریک کو بحال کردیا جائے گا، جاں بحق ہونے والوں میں تبلیغی جماعت والوں کے لوگ شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے کی جانب سے چولہے وغیرہ لے جانے پر پابندی ہے، ٹرین میں کھانے سے متعلق اشیا پربہت سختی ہونی چاہیے۔

سی ای او ریلوے کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت کے مسافر کھانا بنانے کا سامان لے کر جاتے ہیں، متاثرہ بوگیوں کو الگ کر دیا گیا تھا اس لیے بڑا نقصان نہیں ہوا۔

سی ای اور یلوے اعجاز بریرو نے کہا کہ آگ بجھانے کا سامان ہوتا ہے مگر وہ زیادہ تعداد میں نہیں ہے، چلتی ٹرین میں ہوا کے باعث سلینڈر کی آگ پھیلی۔

ڈی سی او جنید اسلم نے کہا کہ متاثرہ 3 بوگیوں میں 207 مسافرسوار تھے، اکانومی کلاس کی 2 بوگیوں میں مسافر زیادہ تر حیدرآباد سے سوار ہوئے، اکانومی کلاس کی 2 بوگیاں امیر حسین اینڈ جماعت کے نام سے بک تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ اکانومی کی ایک بوگی میں77، دوسری میں 76 مسافرسوار تھے، متاثرہ تیسری بزنس کلاس کی بوگی میں 54 مسافر سوار تھے۔

ڈویژنل کمرشل آفیسر کا کہنا تھا کہ معلومات کے لیے کراچی ڈویژن نے 02199213506 نمبر جاری کیا ہے، کراچی سے ٹرین شیڈول متاثر نہیں ہے، وقت پر روانہ ہوں گی۔

وزیرصحت پنجاب یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ بہاولپور،رحیم یارخان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، زخمی افراد کے بہترین علاج کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ جاں بحق و زخمی افراد کی فہرستیں آویزاں کی جائیں، شدید زخمی مسافروں کو ملتان برن یونٹ منتقل کیا جا رہا ہے۔

ایم ایس ڈی ایچ کیو لیاقت پور ندیم ضیا نے بتایا کہ 12 مسافروں کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 14 مسافروں کی لاشیں نا قابل شناخت ہیں۔

مسافروں کی تفصیل

کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ٹرین کی 3 بوگیوں میں سوار مسافروں کی تفصیل سامنے آگئی، ریزرویشن لسٹ کے مطابق 54 مسافر 11 نمبر بوگی میں سوار تھے، 78مسافر بارہ نمبر بوگی میں سوار تھے۔

ریزرویشن لسٹ کے مطابق 78مسافر ہی 13 نمبر بوگی میں سوار تھے، کراچی سے راولپنڈی تک 3 مسافروں کی بکنگ تھی، کراچی سے لاہور تک 3، ٹنڈوآدم سے اوکاڑہ تک 3 مسافر سوار تھے۔

ریزرویشن لسٹ کے مطابق ٹنڈوآدم سے رائیونڈ تک کے 27 مسافر سوار تھے، حیدر آباد سے رائیونڈ تک کے 10 اور صادق آباد سے رائیونڈ کے 2 مسافر سوار تھے، روہڑی سے رائیونڈ تک کے 3 مسافر سوار تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here