صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں مندر کو نقصان پہنچانے کے کیس میں ملوث جے یو آئی رہنما سمیت 24 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں مندر کو نقصان پہنچانے کے کیس میں ملوث مرکزی ملزم شریف کو حراست میں لے لیا گیا، ایس پی انویسٹی گیشن ظاہر شاہ کا کہنا ہے کہ جے یو آئی رہنما رحمت سلام خٹک کو بھی گھر سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایس اپی انویسٹی گیشن کے مطابق مرکزی ملزم شریف ایف آئی آر میں نامزد ہیں۔

واضح رہے چیف جسٹس گلزار احمد نے کرک میں مندر کو آگ لگانے کے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے 4 جنوری کو واقعے کی رپورٹ طلب کی۔

چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری ، آئی جی کے پی اور ایک رکنی اقلیتی حقوق کمیشن کو متاثرہ مندر کے دورے کا حکم بھی دیا تھا۔

قبل ازیں وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، واقعہ بین المذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔

علاوہ ازیں چیئرمین ہندو کونسل رمیش کمار کا کہنا تھا کہ کرک واقعے میں ملوث 24 افراد گرفتار ہوچکے ہیں، عدلیہ پر اعتماد ہے کمیشن بنا دیا گیا ہے امید ہے مندر دوبارہ بحال ہوگا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں مشتعل ہجوم نے ہندو بزرگ کی سمادھی مزار میں توڑ پھوڑ کی اور اسے نذر آتش کردیا تھا، واقعہ کرک کے دور دراز علاقے ٹیری ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here