فیس بک کی پابندی عائد کیے جانے پر ترجمان طالبان کا ردعمل آگیا۔

ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک آزادی اظہار رائے کی بات کرتا ہے مگر ہماری پوسٹ ڈیلیٹ کردیتا ہے۔

ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ میڈیا آزاد ہے تمام ادارے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، ہماری 3 تجاویز ہیں، غیرجانبداری ہونی چاہیے، نشریات اسلامی اقدار سے متصادم نہیں ہونی چاہئیں، قومی مفادات کے خلاف کوئی چیز نشرنہ کی جائے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات کے لیے کام کریں گے، مضبوط اسلامی حکومت افغان عوام کا خواب ہے جو حقیقت بنے گا۔

فیس بک نے کہا ہے کہ اس نے اپنے تمام پلیٹ فارمز بشمول انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر افغان طالبان اور ان کی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ اس نے امریکا کی خطرناک تنظیموں سے متعلق پالیسی کے پیش نظر طالبان کو اپنی خدمات کو فراہم کرنا بند کر دیا ہے۔

فیس بک کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ایپلی کیشن نے اپنے پلیٹ فارمز سے طالبان اور ان کی حمایت کرنے والے تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے۔

فیس بک کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہیں اس لیے اس گروپ کے ساتھ منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغان ماہرین کی ایک ٹیم مخصوص کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ طالبان اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کئی برسوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں

ترجمان فیس بک کا کہنا تھا کہ ہم طالبان کے اکاؤنٹس کو ہٹا دیں گے جب کہ طالبان کی حمایت یا ان کی نمائندگی کرنے والے اکاؤنٹس پر بھی پابندی عائد کردی جائے گی۔

فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پر افغان طالبان پر پابندی لگا دی ہے۔

طالبان کی جانب سے افغانستان پر تیزی سے کنٹرول کے بعد ٹیکنالوجی کمپنیوں بشمول فیس بک کو اس گروپ سے متعلق مواد سے نمٹنے کے لیے نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

فیس بک کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے طالبان کی جانب سے یا ان کی حمایت میں بنائے گئے تمام اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا ہے اور تمام پلیٹ فارمز پر طالبان کی تعریف، حمایت اور نمائندگی کرنے پر پابندی لگا دی ہے

فیس بک کے مطابق افغانستان کے دری اور پشتو بولنے والے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو اس کے پلیٹ فارمز پر طالبان کے حوالے سے مسائل کی شناخت اور آگاہی فراہم کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here