سندھ پولیس کا اعلیٰ‌ افسر مجرمانہ ذہینت کا حامل قرار، کاروائی کا حکم

 شہر قائد کی مقامی عدالت نے ایس ایس پی گلشن کو مجرمانہ ذہنیت کا حامل شخص قراردیتے ہوئے محکمانہ کارروائی کا حکم جاری کردیا۔

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں 4 پولیس اہلکاروں کے خلاف شہری سے لوٹ مار  کیس کی سٹی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

عدالت نے پولیس اہلکاروں کے خلاف درج مقدمے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ایس پی گلشن کو مجرمانہ ذہنیت کا حامل قرار دیا ۔

جج نے ایس پی معروف عثمان کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کر کے قانونی کاروائی کا حکم دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایس پی نے ماتحت اہلکاروں پر شہری سے لوٹ مار کا جھوٹا مقدمہ کرایا تھا، پولیس نے شہری سے لوٹ مار کے معاملے میں کوئی گواہ پیش نہیں کیا۔

عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ تفتیشی افسر نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل نہیں کی جبکہ تفتیشی افسر نے خود تحقیقات کے بجائے افسران بالا کے کہنے پر عدالت میں چالان پیش کیا،بادی النظر میں تفتیشی افسر  افسران بالا کے دباؤ کے زیر اثر ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق تفتیشی افسر نے افسران بالا کے کہنے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور پولیس اہلکاروں کو ذاتی رنجش کی بنا پر نشانہ بنایا گیا کیونکہ ایس پی گلشن اور ایس ایچ او ملزمان سے تنگ تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بظاہر لگ رہا ہے ایس پی گلشن نے غیرقانونی احکامات پر نہ ماننے پر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا، ایس پی گلشن کیخلاف اختیارات کےناجائز استعمال پرمحکمانہ انکوائری اور کاروائی کی جائے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایس پی گلشن معروف عثمان مجرمانہ ذہنیت رکھتا ہے،ایسے افسر کی خدمات صوبے اور پولیس کے لئے مناسب نہیں ہیں۔

جج نے حکم دیا کہ عدالتی فیصلے کی کاپی آئی جی سندھ، سیکریٹری داخلہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھیجی جائے اور افسر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here