والد کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہیں، لاش تلاش کی جائے، ساجد سدپارہ

وزیراعظم اور آرمی چیف کوہ پیماعلی سدپارہ کےمعاملےکو خود دیکھ رہےہیں۔ زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ’سدپارہ کو تلاش کرنے کے لیے کل صبح سے پھر آپریشن شروع کیا جائے گا‘۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری نے کہا ہے کہ کوہ پیما محمد علی سد پارہ کی گمشدگی کا معاملہ وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف خود دیکھ رہے ہیں۔

پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے صاحبزادے ساجد سدپارہ نے اسکردو پہنچنے پر آپ بیتی بیان کردی۔

کے ٹو پر پاکستان کے لاپتا کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کی تلاش کیلئے  جاری سرچ آپریشن دوسرے دن بھی جاری رہا مگر تاحال کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

ایسی صورتحال میں علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کا کہنا ہے کہ 8 ہزار میٹر کی بلندی پر دو دن تک زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ کوہ پیما ساجد سدپارہ نے اسکرو پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ٹیم نے کے ٹو سر کرلیا ہے، لگ رہا ہے واپسی پر کوئی حادثہ ہوا ہے، والد کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہیں، لاش تلاش کی جائے۔

علی سدپارہ کے کوہ پیما بیٹے سمجھتے ہیں کہ ان کے والد کی تلاش کیلئے آپریشن جاری رہنا چاہیے۔

گزشتہ دنوں پاکستان کے کوہ پیما علی سدپارہ  اور 2 غیر ملکی کوہ پیما پر مشتمل اپنی ٹیم کے ساتھ موسم سرما  میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے  اور دو دن سے جاری ریکسیو آپریشن میں بھی ان کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔

علی سدپارہ کے ساتھ سرمائی مہم میں ان کے بیٹے ساجد سدپارہ بھی  شامل تھے لیکن ساجد سدپارہ کو آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونےکے باعث واپس آنا پڑا تھا اور اب دو دن بعد وہ اسکردو پہنچے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل میں ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ دو دن سے ہیلی کاپٹرکے ذریعے میرے والد علی سدپارہ کی تلاش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ’والد کی میت کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن ہو تو ٹھیک ہے، باقی ان کے بچنے کے چانسز 8 ہزار میٹر کی بلندی پر سردی میں 2 تین دن سے غائب ہیں تو زندہ بچنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر  ہیں‘۔ 

خیال رہے کہ گزشتہ روز آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 7 ہزار میٹر کی بلندی تک لاپتہ کوہ پیماؤں کو تلاش کیا گیا تھا لیکن خراب موسم اور تیز ہواؤں کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات پیش آئیں۔

ساجد سدپارہ نے بتایا کہ ہم نے آخری بار 5 فروری کو رات 11 بجے مہم جوئی شروع کی تھی، میں آکسیجن کے بغیر بوٹل نیک پہنچا تھا، 8 ہزار 200 میٹر پر احساس ہوا کہ بغیر آکسیجن کے مہم جوئی ممکن نہیں رہی، اس دوران آکسیجن استعمال کرنے کی کوشش کی مگر ریگولیٹر لیک کرگئے تھے۔

کوہ پیما نے کہا کہ میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگیا تھا، والد اور جان اسنوری نے مجھے واپسی کا مشورہ دیا پھر میں بوٹل نیک سے واپس آگیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here