سرخوں کا جھنڈا اور یوم آزادی
سرخوں کا جھنڈا اور یوم آزادی

سرخوں کا جھنڈا اور یوم آزادی

افغانستان کا موجوہ جھنڈا صرف 8 سال پرانا ہے اور اگست 2013ء میں ڈیزائن کیا گیا۔ افغانستان کی 300 سالہ تاریخ میں کم از کم 30 بار اس کا جھنڈا تبدیل کیا گیا ہے۔

افغانستان کا پہلا جھنڈا یا ہوتکی سلطنت کا جھنڈا سیاہ تھا۔ اس کے بعد درانی سلطنت جن کو افغانستان کے اصل معمار کہا جاتا ہے ان کا جھنڈا سبز اور سفید تھا۔ پھر 1926ء تک افغانستان کا جھنڈا سیاہ رہا۔

افغانستان کے جھنڈے میں سرخ رنگ کا اضافہ سرخوں کے جد امجد غازی امان اللہ نے 1928ء میں ہٹلر کے سرخ جھنڈے سے متاثر ہوکر کیا۔ اس رنگ کو خون کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ امان اللہ افغانستان کا پہلا حکمران تھا جس نے افغانستان کو لبرل بنانے کی کوشش کی تھی۔ اسلام اور شعائر اسلام کا اعلانیہ مذاق اڑاتا تھا۔ اس کے بعد سے لبرل سرخے افغانستان پر چھائے رہے۔ انہوں نے بار بار جھنڈے میں تبدیلی کی لیکن سرخ رنگ جھنڈے کا حصہ رہا۔

احمد شاہ ابدالی یا احمد شاہ بابا کا سفید رنگ دوبارہ کبھی اس جھنڈے کا حصہ نہیں بن سکا حتی کہ سٹوڈنٹس وہ سفید جھنڈا دوبارہ لے کر آئے۔ سرخ رنگ اگر خون کی علامت ہے تو سفید رنگ امن اور صلح کی۔ سرخے اس پر زور دے رہے ہیں کہ ہماری شکست کے باؤجود ہمارا سرخ جھنڈا ہی افغانستان میں لہرانا چاہئے۔

افغان جھنڈا کیسا ہوگا ؟؟؟ یہ تو وہاں کی حکومت خود طے کرے گی۔ لیکن کیا یہ بہتر نہیں کہ جھنڈے میں سے سیاہ اور سبز رنگ رہنے دیا جائے لیکن خون اور جنگ و جدل کی علامت سرخ رنگ کو نکال کر اس کی جگہ امن و صلح کی علامت بانی افغانستان احمد شاہ ابدالی کا سفید رنگ شامل کیا جائے ؟؟؟

سرخوں کے ہر دور میں افغانستان میں جنگ و جدل جاری رہا لیکن سٹوڈنٹس ہر بار امن لے کر لائے۔ امید ہے سفید رنگ کو افغان عوام بھی قبول کرے گی۔

سرخے پاکستان اور افغانوں کے دشمن ہیں۔ دونوں طرف شرارتیں کرتے ہیں۔ یہ نسل پرست لبرلز سوائے نفرت پھیلانے کے کچھ نہیں کرتے۔ اسلام اور دونوں ممالک کی ثقافت و روایات کے بھی دشمن ہیں۔ انہوں نے آج تک پاکستان یا افغانستان کی کوئی خدمت نہیں کی۔

پاکستان میں دہشتگردانہ پراکسیز چلاتے رہے تو افغانستان پر پہلے روس سے حملہ کرایا پھر امریکہ کو خوش آمدید کہا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات برباد کرنے والے یہی سرخے ہیں۔ افغانیوں کو پاکستان دشمنی کی پٹیاں یہی پڑھاتے ہیں۔

جھنڈے جیسا حال سرخوں کی یوم آزادی کا بھی ہے۔ وہ بھی امان اللہ کا ہی تحفہ تھا اور اس نے اعلان کیا تھا کہ اب برٹش راج افغانستان میں مداخلت نہیں کرے گا لہذا ہم اس کو یوم آزادی کے طور پر مناتے ہیں۔

اس کے بعد سرخوں نے پہلے روس پھر امریکہ کا براہ راست افغانستان پر قبضہ کروایا۔ جو چند دن پہلے 15 اگست کو سٹوڈنٹس نے چھڑایا۔

اگر افغانستان پر کسی بیرونی طاقت کا قبضہ کبھی نہیں رہا تو پھر سرخوں کا یوم ازادی منانا بےمعنی ہے۔

اگر قبضہ تسلیم کیا جائے تو افغانستان کو حقیقی آزادی سٹوڈنٹس کی 20 سالہ جدوجہد کے بعد 15 اگست کو ملی اور اسی دن کو یوم آزادی منانی چاہئے۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here