باچا خان مرکز کی فخریہ پیشکش

باچا خان مرکز کی فخریہ پیشکش

فقیر ایپی، پشتون زلمی، ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم وغیرہ کی ناکامی کے بعد اب شائد سرخوں نے گانے گا کر پاکستان توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چند دن پہلے اے این پی کے ایمل ولی عرف ‘ساروے’ نے اعلان کیا کہ باچا خان مرکز میں گانے بجانے کی باقاعدہ تربیت دی جائیگی۔

یہ گانا شائد اسی سلسلے کی پہلی کوشش ہے جس میں وہ سارا زہر ہے جس کی جگالی سرخے 70 سال سے کر رہے ہیں۔ اس گانے نما بکواس کا آسان مفہوم پیش خدمت ہے ۔

بول شروع ہوتے ہیں ‘دا لاہور دا منارو نا’ سے

لاہور سے یعنی پنجاب سے ہمارے خلاف اعلان جنگ ہوا ہے جس میں وہ ہمارے گھر، مساجد، ہجرے جلا رہے ہیں اور ہمارے سکول مٹا رہے ہیں۔

لاہور سے یعنی پنجاب سے ہمارے خلاف اعلان جنگ ہوا ہے جس میں وہ ہمارے گھر، مساجد، ہجرے جلا رہے ہیں اور ہمارے سکول مٹا رہے ہیں۔” (اس جنگ کے مراکز وزیرستان میں، لیڈر شپ مقامی وزیرستانی اور پشت پناہی افغانستان کر رہا تھا۔ حملے کے پی کے سے زیادہ پنجاب اور سندھ میں کئے۔ اس کو شکست پنجابیوں نے پشتونوں کے ساتھ ملکر دی۔ جس کے بعد مقامی علاقوں میں ایسی ایسی مارکیٹیں، سکول اور سڑکیں بنائی کہ پہلے کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ تو جنگ لاہور سے کیسے ؟؟؟ برسبیل تذکرہ لاہور کی 30 فیصد آبادی پشتون ہے)

پشتون اپنی خوشحال خان خٹک کی تلوار جھنکار بھول چکا اور پرائے ترانوں (پاکستان کے) میں اپنی غیرت بھول گیا۔

کون سی غیرت بھول گیا ؟؟؟

وہ جو علی وزیر اور منظور پسکین عورت آزادی مارچ منا کر واپس لانا چاہتے ہیں ؟؟؟

اور پاکستان یا پاکستان کی زمین یا پاکستان کا ترانہ کیسے پرایا ہے جس کے ایک ایک حصے میٰں پشتون آباد ہے ؟؟؟

میں دوسروں کے لیے کل بھی مر رہا تھا اور آج بھی مر رہا ہوں۔” (وہ سارے پشتون جو لوئے افغانستان بنانے کے چکر میں افغانیوں کے لیے خود کو مروا رہے ہیں)

میں یعنی پشتون مر رہا ہوں باقی سب مزے کر رہے ہیں، سب کے گھر آباد ہیں اور پشتون کا گھر برباد ہے۔

کراچی کی آدھی آبادی پشتون، پنڈی اسلام آباد کی آدھی آبادی پشتون، لاہور کی تہائی آبادی پشتون، کوئٹہ اور پشاور کی ساری آبادی پشتون۔ یعنی پاکستان کے وہ مرکزی شہر جن میں پاکستان کے سارے وسائل اور بجٹ صرف ہوتا ہے پشتونوں پر مشتمل ہیں۔ کے پی کے اور فاٹا کا بجٹ بلحاذ آبادی پنجاب اور سندھ سے زیادہ ہے۔ پشتون پاکستان بھر میں ہر کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں تو پھر یہ رونا دھونا اور ڈرامے بازی کاہے کی ؟؟؟

اے پشتون کے مشرانو میں کب تک اپنی لاشیں گنونگا ؟؟؟

جب تک افغان سرخوں کے اشاروں پر ناچ کر خود اپنی ہی ریاست کے خلاف جنگ کرتے رہو گے اور دوسروں کو مارتے رہو گے

اب ہمیں حوصلہ پکڑ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ لکیر کھینچنی ہوگی اور اس ناکام ریاست (پاکستان) کا مزید بوجھ نہیں اٹھانا۔ ان کالے چہروں والے لشکروں سے اور نہیں ڈرنا اور پرائے پرچم (سبز ہلالی پاکستانی پرچم) کو مزید اپنی لاشیں نہیں دینی۔

یہی وہ پٹی ہے جو فقیر ایپی سے منظور پسکین تک تمام سرخے پشتونوں کو پڑھاتے رہے ہیں۔ جنگ کے لیے بڑھکاتے ہیں۔ خود اپنی ہی ریاست کے خلاف لڑوا کر مرواتے ہیں۔ پھر ان کی لاشوں پر بین بھی کرتے ہیں۔ اور رنڈی رونا کہ ہماری لاشیں کیوں گریں ؟؟؟ اور یہ نسل پرست نفرت انگیز سرخے اس پنجابی کو کالا کہہ رہے ہیں جو سینکڑوں ہزاروں سال سے پشتون کا سب سے قریبی ساتھی اور ہمدم ہے

اب اور کوئی چارہ نہیں سوائے آزادی کے یعنی پاکستان کو توڑنے کے۔ میں ساری دنیا کو خبر دونگا اور اپنی زمین کسی کو نہیں دونگا۔ نہ اپنے شہیدوں کا خون معاف کرونگا۔

یہ ہے اصل کیڑا یعنی پاکستان توڑنے کا خواب جس کے لیے یہ سرخے قیام پاکستان سے آج تک شرارتیں کر رہے ہیں۔ عوام میں زہر پھیلاتے ہیں۔ نہ افغانستان کو سکھ کا سانس لینے دیتے ہیں نہ پاکستان کو۔ اس بدبخت سے کوئی پوچھے کہ کس نے تمہاری زمین پر قبضہ کیا ہے ؟؟؟ کون سا پشتون اپنی زمین کی ملکیت سے محروم ہوا ؟؟؟ البتہ وہ پشتون جو صرف اپنے بےاب گیاہ خشک پہاڑوں تک محدود تھا آج سندھ اور پنجاب کی سرسبز زمینوں پہ راج کررہا ہے پاکستان کی بدولت

پاکستان توڑنے کے اعلانات کرنا غداری ہے یا نہیں؟کسی آئین یا قانون کی خلاف ورزی ہے یا نہیں؟اس پر کوئی سزا ہے یا نہیں؟اگر ہے تو کب ان کو گرفتار کیا جائیگا ؟؟؟

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here