عورت مارچ پر مستقل پابندی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر

عورت مارچ پر مستقل پابندی کیلئے شہدافاؤنڈیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا، اور کہا عورت مارچ کے نام پر پاکستان کی عورت کو گھٹیا نعروں سے اکسایا جا رہا ہے۔

شہدا فاؤنڈیشن نےعورت مارچ پرمستقل پابندی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا دی، درخواست میں کہا گیا کہ کچھ اسپانسراین جی اوزمغربی ایجنڈے کو پاکستان میں پھیلارہی ہیں، عورت مارچ کےنام پر پاکستان کی عورت کو گھٹیا نعروں سے اکسایا جا رہا ہے۔

شہدا فاؤنڈیشن کا درخواست میں کہنا تھا کہ 8 مارچ کوعورت مارچ کرایا گیا جس پر فنڈنگ سے اربوں روپے خرچ کیے گئے، عورت مارچ میں زیادہ ترخواتین بظاہر اجرت پرلائی گئی تھیں۔

درخواست گزار نے کہا کہ مارچ میں پلے کارڈز پر مقدس شخصیات کے خلاف نعرے درج تھے اور گینگسٹرز نے عورت مارچ کے لیے اجازت نامہ بھی حاصل نہیں کیا تھا۔

شہدا فاؤنڈیشن نے اپنے مؤقف میں کہا کہ متعدد این جی اوزفارن فنڈنگ پرمعاشرےمیں بدامنی پھیلارہی ہیں جبکہ اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن جس کا بانی جارج سوروس ان سب کی فنڈنگ کررہاہے اور ڈیجیٹل رائٹ فاؤنڈیشن پاکستان کوبھی اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن اسپانسرکررہا ہے ، ڈیجیٹل رائٹ کی سربراہ عورت مارچ کی ورکرنگہت داد ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ پاکستان اسلامی نظریےپربنایاگیااس میں ایسی سازش کیوں کی جارہی ہے، استدعا ہے کہ عورت مارچ کو مستقل طور پر فوری بند کیا جائے۔

دائر  درخواست میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل تعین کرے پاکستان میں عورتوں کوقانونی حقوق حاصل ہیں یانہیں؟ وزارت دفاع کو ہدایت دی جائے، فارن این جی اوزکی فنڈنگ کی تحقیقات کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here