پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کردی

پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا، دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ رپورٹ زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکی رپورٹ پاکستان کے زمینی حقائق کے برعکس ہے، رپورٹ کے نتائج اس کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکی رپورٹ میں مخصوص ممالک کونشانہ بنایا گیا ، رپورٹ کےمذہبی آزادی کےفروغ کیلئےمعاون ثابت نہ ہونےکا امکان ہے جبکہ پاکستان میں مختلف مذاہب کےلوگوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ نےمذہبی آزادی کیلئے ٹھوس کاوشیں کیں، اعلیٰ عدلیہ نےاقلیتوں کےمذہبی مقامات کےتقدس کیلئےاہم فیصلے بھی کیے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکی کانگریس نے کشمیر کی صورتحال پر دو بار اجلاس منعقد کیے جن میں 70 سے زائد امریکی قانون سازوں نے صورتحال پر  تشویش کا اظہار بھی کیا جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور یورپی پارلیمنٹ نے بھی اظہار تشویش کیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں سےتعلق رکھنے والے افراد کو سرعام قتل کیا گیا، جبکہ اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھا گیا جس کی تازہ مثال متنازع شہریت قانون ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی رپورٹ غیرجانبدارانہ نہیں کیونکہ اس میں بھارت شامل نہیں ہے، بھارت  مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والا سب سےبڑاملک ہے، پاکستان نے امریکا سمیت مغربی ممالک  میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے جحان پر تشویش کااظہارکیا، مذہبی آزادی کےفروغ کیلئے اعتماد کے ماحول میں مل کرکام  کرنےکی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here