پاکستان کے خلاف طوائفوں کا استعمال حصہ اول

0
282
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے خلاف طوائفوں کا استعمال  حصہ اول 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخری حصہ

۔ 1988ء سے 2000ء کے درمیانی عرصے میں مغربی این جی اوز افواج پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے پاکستان کے دفاعی بجٹ کے بارے میں مسلسل پراپیگینڈا کرتی رہیں۔ اس دور میں شدومد سے یہ جھوٹ پھیلایا گیا کہ فوج 80 فیصد بجٹ کھا جاتی ہے۔ یہ جھوٹ اراکین پارلیمنٹ تک کی زبانوں پر چڑھ گیا اور کسی ایک شخص نے اس کو چیک کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
یہ این جی اوز مختلف لڑاکا طیاروں کی قیمتوں کا موازنہ تعلیم اور صحت کے لیے مختص بجٹ کے ساتھ کرتی تھیں اور رائے عامہ کو افواج پاکستان کے خلاف کرتی تھیں۔
اس بحث کو بل کلنٹن نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان پر اپنی ایک تقریر میں مزید تقویت دی جب اس نے کہا کہ پاکستانی قوم کو مونگ پھلی، جوار اور گندم کی زیادہ ضرورت ہے نہ کہ ایف 16 طیاروں کی۔ یاد رہے کہ ان طیاروں کی پاکستان قیمت ادا کر چکا تھا اور امریکہ طیارے دینے پر آمادہ نہ تھا۔ بل کلنٹن نے یہ تقریر 2000ء میں اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر کی تھی۔

تاہم ان کوششوں کو کوئی خاص عوامی پزیرائی نہ مل سکی۔ 2000ء کے بعد انہوں نے افواج پاکستان کے مورال اور سالمیت کو نشانہ بنانے کے لیے طوائفوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

مغرب میں طوائف ہونا کوئی خاص جرم نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ پورن انڈسٹری کی ترقی کے بعد ان کو سیلیبریٹیز کی حیثیت دی جاتی ہے۔ طوائفوں کے ساتھ ملوث ہونے کو افراد کا ذاتی فعل قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مغرب میں عورت کی عزت لوٹنا بھی بہت زیادہ گھناؤنا جرم نہیں سمجھا جاتا۔

اس کے برعکس پاکستان میں کسی طوائف کا کسی شخص پر محض الزام لگا دینا ہی اس شخص کی ذات، خاندان، قبیلے حتی کہ اس ادارے تک کو متاثر کرتا ہے جہاں وہ کام کر رہا ہے۔

ریاستی معاملات میں طوائفوں کا استعمال تقسیم سے قبل بھی تھا اور برطانیہ ان کو اپنی گرفت مضبوط رکھنے اور مقامی قیادتوں کو عوام کی نظروں مین گرانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔

اگر آپ پشتون ہیں تو شائد آپ یقین نہ کریں کہ “بڈہ بیرے کا زبیر” بھی اسی چال کا شکار ہونے والا ایک کردار تھا۔

زبیر پشاور کے علاقے بڈہ بیر سے تعلق رکھنے والا ایک غیرت مند پشتون تھا۔ یہ انگریزوں کے خلاف کام کرنے والا ایک غیر سیاسی کردار تھا جس کا کافی بڑا حلقہ اثر تھا۔

جب برطانوی راج اسکی سرگرمیاں روکنے میں ناکام رہی تو اس مضبوط شخص کے خلاف مقامی برطانوی نمائندوں نے ایک سازش تیار کی۔ اس وقت جب زبیر کی عمر 60 کا ہندسہ عبور کر چکی تھی برطانیہ نے کمار گلا نامی ایک طوائف کو زبیر کے خلاف ھائر کیا۔

۔ 21 ستمبر 1935ء کو کمار گلا کی شکایت پر زبیر کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ دائر کیا گیا اور 10 جنوری 1936ء کو زبیر کو ڈھائی سال قید اور 15 روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔
بحوالہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
FIR No.34, Ellat No.109 Dated 21-9-1935 A.D, Thana Badabera

جبکہ کمار گلا کو نہ صرف 15 روپے انعام سے نوازا گیا بلکہ اس کو تاج برطانیہ کی آفیشل طوائف کی حیثیت بھی دی گئی۔
یہ انعام کمار گلا کی مبینہ عزت لٹنے کی قیمت تھی یا زبیر کو خاموش کرنے کا معاوضہ ؟

کمار گلا کے اس کیس کو اس وقت خوب اچھالا گیا۔ زیبر کو حاصل تمام تر عوامی حمایت یکلخت ختم ہوگئی اور وہ مکمل طور پر تنہائی میں چلا گیا۔ پشتونوں میں ایک نئے محاورے نے جنم لیا کہ ” غم بہ ی دا بڈہ بیرے زیبر کوی ” ۔۔۔۔۔۔۔۔

مغرب کی یہ پریکٹس آج بھی جاری ہے۔

ماضی قریب میں مظفر گڑھ سے تعلق رکھنےو الی ایک تجربہ کار طوائف مختاراں مائی کے زریعے یہ کھیل کھیلا گیا اور پھر اپنے طاقتور میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں اسکی بھرپور تشہیر کی گئی۔ مختاراں مائی کو بے پناہ دولت اور شہرت ملی جبکہ پاکستان کو عالمی سطح پر زبردست بدنامی۔
آپ کو کیا لگتا ہے کہ مختاراں مائی کو جس دولت سے نوازا گیا وہ اسکی عزت لٹنے کی قیمت تھی یا پاکستان کے نام پر دھبہ لگانے کا انعام؟

آخری حصہ

حقیقی معنوں میں مختاراں مائی والے تجربے کے بعد مغرب کے ہاتھ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور افواج پاکستان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا ایک اہم ٹول ہاتھ آگیا۔

ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر شازیہ بھی ایسا ہی ایک کیس تھا۔ ڈاکٹری کے معزز پیشے سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر شازیہ مغربی این جی اوز کے ہاتھوں طواف بننے پر تیار ہوگئیں۔
ڈاکٹر شازیہ کے ذریعے نہ صرف افواج پاکستان کو دھچکا دیا گیا بلکہ بلوچستان میں بغاوت برپا کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔

ڈاکٹر شازیہ کو پاکستان کے حساس ترین مقام ڈیرہ بگٹی بلوچستان میں افواج پاکستان کے خلاف ھائر کیا گیا۔ پاک فوج کے کیپٹن حماد کے خلاف ریپ کا ایک فیک ڈراما تیار کیا گیا۔ ڈاکٹر شازیہ نے وہی کھیل کھیلا جو 1935ء میں کمار گلا نے بڈہ بیرے کے زبیر کے خلاف کھیلا تھا۔

نتیجہ بھی بلکل ویسا ہی رہا۔

اس جعلی ڈرامے کے فوراً بعد پاکستان میں موجود مغربی سپانسرڈ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اس واقعے کو بے پناہ کوریج دی اور خوب اچھالا۔ اس ڈرامے نے افواج پاکستان کی ساکھ کو بالعموم اور بلوچستان میں بلخصوص متاثر کیا، بلوچستان کا امن تباہ کیا اور نواب اکبر بگٹی کی جان بھی لی۔ تاہم سرفراز بگٹی کا دعوی ہے کہ نواب اکبر بگٹی ڈاکٹر شازیہ والے اس کھیل سے نہ صرف واقف تھا بلکہ اسکا حصہ بھی تھا۔
کیا یہ بات دلچسپ نہیں کہ ڈاکٹر شازیہ اس ڈرامے سے پہلے ہی خواتین کے لیے کام کرنے والی کچھ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں سے وابستہ تھیں۔ 🙂

ڈاکٹر شازیہ کو دنیا بھر کی ہمدردیاں، مغرب کا پاسپورٹ اور بے پناہ انعام و اکرام سے نوازا گیا جس نے اس کو فکر معاش سے آزاد کر دیا۔

کیا یہ انعام و اکرام اس لیے تھا کہ مبینہ طور پر اس کی عزت لٹی تھی؟ یا یہ اس خدمت کی قیمت تھی جس نے پورے بلوچستان میں زلزلہ برپا کر دیا تھا؟

طوائفیں جن کی عزتیں لوٹ لی گئیں ان کی کہانیاں ابھی جاری ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

تحقیق محمد یوسف
تحریر شاہدخان

آخری حصہ


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here