پاکستان ائیر فورس کی رافال طیاروں کے خلاف تیاری بھارت خوفزدہ


اناطولین ایگل فضائی مشقوں کے حوالے سے ہے جس میں تین اہم لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا ہے۔ جن میں ترکش ایف سولہ , قطر کے رافال اور پاکستان کے جے ایف سترہ بلاک ٹو شامل۔ یہ مشقیں ترکی میں ہو رہی ہیں۔ اناطولین ایگل مشقیں جہاں پاکستان ائیر فورس کیلئے بہت فائدے مند ثابت ہونگی وہاں بھارتی ائیر فورس کیلئے مشکلات بھی پیدا کریں گی کیونکہ بھارت جس رافال طیارے کو پاکستانیوں کی پہنچ سے دور رکھنا چاہتا تھا پاکستان ائیر فورس اسی کے خلاف فرضی لڑائی میں حصہ لے رہی ہے۔

JF 17 Missile test

فضائی مشقوں کا مقصد نئے جنگی حربوں کو سیکھنا، انھیں آزمانا، نئی ٹیکنالوجی کے خلاف لڑنے کیلئے تیاری کرنا اور اپنے طیاروں کو بہتر سے بہتر بنانا ہوتا ہے۔ پاکستان ائیر فورس نے جے ایف سترہ کو خود ڈیزائن کیا ہے۔ اور اس لڑاکا طیارے کو کم سے کم ایف سولہ کا ہم پلّہ طیارہ بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جاتے رہے۔ جے ایف سترہ کی شمولیت کے بعد پاکستان ائیر فورس نے اسے ایف سولہ کے مختلف بلاکس کے ساتھ فرضی لڑائی میں لڑایا، اور اسے جدید طیاروں کے خلاف لڑنے کے قابل بنایا۔ آج بلاک ٹو اس قابل ہو چکا ہے کہ ایف سولہ کے بلاک 50/52 سے جب فرضی لڑائی لڑتا ہے تو جیت کبھی جے ایف سترہ کے حصے میں آتی ہے اور کبھی ایف سولہ کے۔ اس بات کی تصدیق ائیر مارشل ریٹائرڈ شاہد لطیف کر چکے ہیں۔

فضائی مشقوں میں پاکستانی ایف سولہ طیاروں سے جہاں تک فرضی لڑائی کا تعلق ہے تو ان مشقوں سے جے ایف سترہ کی ٹیکنالوجی کو بہتر کرنے میں بہت مدد ملی ہے، جے ایف سترہ کو صرف ایف سولہ کے خلاف نہیں آزمایا جاتا رہا۔ اسے چینی و مغربی طیاروں کے ساتھ بھی فرضی لڑائیوں میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ جن میں پاکستانی پائلٹس اس طیارے کو استعمال کرتے ہوئے نئی ٹیکنالوجی کے حامل طیاروں سے لڑے۔ اس وقت جے ایف سترہ بھارت کے ایس یو تھرٹی ایم کے آئی اور میراج طیاروں سے مقابلے کیلئے پوری طرح سے تیار ہے۔

جے ایف سترہ اور رافال نے کبھی بھی ایک ساتھ کسی جنگی مشق میں حصہ نہیں لیا ہوا، لہذا ترکی میں ہونے والی اناطولین ایگل 2021 مشقوں میں یہ دونوں طیارے حصہ لے رہے ہے۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جے ایف سترہ نا صرف رافال کے مقابلے میں میدان میں اترنے جا رہا ہے بلکہ ترکی کے ان ایف سولہ طیاروں کے ساتھ مقابلے کیلئے بھی تیار ہے جو پاکستان ائیر فورس کے پاس موجود ایف سولہ طیاروں سے زیادہ جدید ہیں۔ یعنی اب تک جے ایف سترہ بلاک 50/52 کے ساتھ لڑایا گیا تھا مگر اب اسے ایک طرف رافال کا مقابلہ کرنا ہوگا اور دوسری طرف ترکی کے ایڈوانسڈ ایویونکس سے لیس ایف سولہ سے۔

پاکستان ائیر فورس رافال کو بہت عرصے سے سٹڈی کر رہی ہے۔ جہاں تک ممکن ہو سکا پاکستان ائیر فورس نے رافال کے خلاف تیاری کی، مگر جب تک اس طیارے کو اپنے طیاروں کے خلاف جانچیں نا، ہمیں وہ معلومات حاصل نہیں ہو سکتیں جو کافی ہوں۔ قطر نے جب رافال خریدے تھے تو بھارت نے فرانس سے درخواست کی تھی کہ کسی بھی صورت پاکستانیوں سے رافال کو دور رکھا جائے۔ حالانکہ بھارت کو رافال کی فراہمی سے اسکی تیکنیکی معلومات پاکستان ائیر فورس تک پہنچ چکی تھیں۔

بھارت کا ہاتھ پاوں مارنا کسی کام نہیں آ سکا آور بالا آخر وہ وقت آ چکا ہے کہ پاکستانی پائلٹس رافال سے فرضی لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ صورتحال یقیناً بھارتیوں کیلئے بہت پریشان کن ہے۔ مگر بھارت اس وقت کچھ نہیں کر سکتا اور نا ہی فرانس بھارت کیلئے مددگار ثابت ہوتا نظر آ رہا ہے۔

اب ذرا آسان لفظوں میں آپ کو بتانا چاہوں گا کہ پاکستان ائیر فورس اس مشق میں کیا سیکھنے جا رہی ہے ؟؟؟

سب سے پہلے انٹرسپشن
جب جے ایف سترہ کو میدان میں اتارا جائے گا تو پاکستان ائیر فورس اس فرضی لڑائی میں رافال کے ریڈار کی اصل رینج جان سکے گی۔ یہ بھی جان سکے گی کی رافال کتنی دوری سے جے ایف سترہ کو دیکھ سکتا ہے ؟؟؟ اور جے ایف سترہ کا ریڈار اس سیمی سٹیلتھ طیارے کو کتنے فاصلے سے دیکھ سکتا ہے؟؟؟ جے ایف سترہ کا ریڈار اس طیارے کو انٹرسپٹ کرنے کیلئے کتنا موثر ہے؟؟؟

الیکٹرانک وارفیئر
یہ بھی جانچا جائے گا کہ جو جیمنگ پوڈذ جے ایف سترہ پر استعمال کی جا رہی ہیں رافال کی ٹیکنالوجی کے خلاف کتنی موثر ہیں؟؟؟ کیا رافال کے ریڈار کو دھوکا دیا جا سکتا ہے؟؟؟ رافال سے کتنے فاصلے پر رہتے ہوئے خود کو محفوظ سمجھا جا سکتا ہے؟؟؟ اور کتنی رینج پر کیا کیا خطرات ہو سکتے ہیں ؟؟؟
رافال کا حفاظتی نظام “سپیکڑا ” کتنا موثر ہے ؟؟؟ اسکی خوبیاں اور خامیاں کیا ہیں ؟؟؟ کیا رافال اپنی اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے جے ایف سیونٹین کو اندھا کر سکتا ہے ؟؟؟

یقین کیجئے یہ ساری معلومات پاکستان ائیر فورس حاصل کرنے جا رہی ہے، اور جب یہ ساری معلومات پاکستان ائیر فورس حاصل کرلے گی تو رافال کا خطرہ بھی بہت حد تک ختم ہو جائے گا۔ یاد رہے اس وقت جے ایف سترہ بلاک تھری تیار ہو رہے ہیں۔ رافال کی معلومات بلاک تھری کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہونگی۔ جب ہم بلاک تھری کو خاص طور پر اس تیارے کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں تو ہمیں علم ہونا چاہیے کہ اس کا مقابلہ جس طیارے سے ہونے جا رہا ہے وہ کن صلاحیتوں کا حامل ہے۔

ایک طرف پاکستانی پائلٹس رافال سے متعلق معلومات رکھتے ہونگے تو دوسری طرف بھارتی پائلٹس جے ایف سیونٹین کی قابلیت سے نا واقف ہونگے، فضائی لڑائی میں پائلٹس انھیں معلومات کا فائدہ اٹھا کر اپنے طیارے سے بہتر طیاروں کو شکست دیتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here