عمرشریف کے انتقال پر رمیز راجہ سمیت دیگر کرکٹرز کا اظہار افسوس

 ایشئین کامیڈین لیجنڈ اور دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کرنے والے پاکستانی فنکار عمر شریف اپنے کروڑوں مداحوں کو اداس چھوڑ کر جہان فانی سے کوچ کرگئے، انہوں نے 66 برس کی عمر پائی۔

 وزیراعظم عمران خان نے کامیڈین اداکار عمرشریف کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتی بیان جاری کیا ہے ان کا کہا ہے کہ عمرشریف بےشمار صلاحیتوں کے مالک تھے، فن کے شعبے میں عمرشریف  کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔

 عمر شریف کے قریبی ساتھی شکیل صدیقی (تیلی) نے کہا کہ عمر شریف میرے استاد تھے میں نے ان کے ساتھ 20سال ساتھ کام کیا، میں ان کے ساتھ بچوں کی طرح رہا ہوں، عمر شریف کے انتقال کی خبر سن کر بہت رنجیدہ ہوں۔

معروف اداکار فیصل قریشی نے کہا کہ عمر شریف کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں، ان کے انتقال کا سن کرافسوس ہوا، عمر شریف کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔

عمر شریف کی اہلیہ نے بھی ان کے انتقال کی تصدیق کر دی۔ عمر شریف کے انتقال پر معروف سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کے بلند درجات کے لیے دعا کی جا رہی ہے۔معروف صحافی وسیم بادامی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اداکار عمر شریف کو 28 ستمبر کی دوپہر ایئر ایمبولینس میں کراچی سے امریکا روانہ کیا گیا تھا۔

انہیں لے جانے والی ایئر ایمبولینس نے مختلف ملکوں میں تین اسٹاپ اوور کرنے تھے جن میں سے پہلا اسٹاپ اوور کمپنی کے ہیڈ کوارٹر جرمنی کے نیورمبرگ ایئرپورٹ کا تھا۔ایئر ایمبولینس طیارہ نیورمبرگ پہنچا تو تھکاوٹ اور ہلکے بخار کا کہہ کر عمر شریف کو مقامی اسپتال میں داخل کرا دیا گیا تھا۔ جس کے اگلے روز ایئر ایمبولینس میں نقص ظاہر کیا گیا۔

عمر شریف اب تک اسی اسپتال میں داخل تھے۔ قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ کراچی سے علاج کے لیے امریکا جانے کے دوران 4 دن سے جرمنی کے اسپتال میں داخل پاکستانی اداکار عمر شریف کی ڈائیلاسز کے دوران صحت بہتر رہی تو آئندہ24 گھنٹوں میں نیورمبرگ سے امریکا روانگی کا امکان ہے۔

امریکا میں عمر شریف کے علاج کے انتظامات کرنے والے ان کے معالج اور پاکستانی اداکارہ ریما خان کے شوہر ڈاکٹر طارق شہاب تمام صورتحال میں رابطے میں تھے۔ڈاکٹر طارق شہاب نے اس ضمن میں بتایا کہ جرمنی کے نیورمبرگ سائوتھ اسپتال میں عمر شریف کا بہت خیال رکھا جا رہا ہے۔ اسپتال کے ڈاکٹروں سے رابطے میں ہوں، روزانہ کی بنیاد پر ٹیلی کانفرنس کرتے ہیں تاہم عمر شریف آج جرمنی میں انتقال کر گئے۔

 پاکستانی کرکٹرز نے معروف اداکار عمر شریف کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ عمر شریف کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

اسٹیج کے بے تاج بادشاہ کامیڈی کنگ عمر شریف جرمنی میں انتقال کرگئے، چیئرمین پی سی بی اور پاکستانی کرکٹرز کی جانب سے عمر شریف کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا گیا۔

رمیز راجہ

چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کامیڈی کنگ کے انتقال پر کہا کہ عمر شریف کا حسِ مزاح کمال تھا جسے کسی صورت بھلایا نہیں جاسکتا۔

بابر اعظم

کپتان بابر اعظم نے لیجنڈری اداکار کی دنیا سے رخصت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ عمر شریف کے انتقال کی خبر سے دل شدید رنجیدہ ہے، بلاشبہ عمر شریف مزاح کے بےتاج بادشاہ تھے۔

محمد حفیظ

محمد حفیظ نے کامیڈی کنگ کے انتقال پر اہل خانہ و مداحوں کو تعزیت پیش کی اور دعا کی پروردگار انہیں جنت میں جگہ عطا فرمائے۔

محمد رضوان

عمر شریف صاحب اور ان کی کارکردگی پاکستان کی محبت سے لبریز تھیں، یہ واقعی ہمارے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔

انہوں نے اللہ رب العزت سے عمر شریف کو جنت الفردوس عطا کرنے کی دعا کی اور مداحوں سے لیجنڈری اداکار کے لیے سورۃ فاتحہ اور درود پاک پڑھنے کی درخواست کی۔

وکٹ کیپر و بلے باز محمد رضوان نے ایشین کامیڈی کے گارڈ کہلائے جانے والے اداکار عمر شریف کے انتقال کی خبر شعر کے ذریعے غم کا اظہار کیا۔

ستم ظریفی ذرا تو دیکھو

ہنسانے والا رُلا کے اُٹھا

عمر گل

بے شک ہم اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے، مزاحیہ ڈراموں کے بے تاج بادشاہ کے انتقال کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔

عمر گل نے مداحوں سے عمر شریف کے لیے سورۃ فاتحہ درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اللہ ان کی آخرت آسان فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔

طنز و مزاح کے بادشاہ لیجنڈری اداکار عمر شریف کچھ دیر قبل طویل علالت کے بعد جرمنی کے اسپتال میں 66 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

لیجنڈری اداکار و کامیڈین عمر شریف کافی عرصے سے عارضہ قلب ، گردے اور دیگر مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔

 مشہور اداکار سہیل احمد کا کہنا تھا کہ عمرشریف کا بچھڑنا ہمارے ملک کا بڑا نقصان ہے، عمرشریف کا دنیا میں بڑا نام تھا، بہت پیارے انسان تھے، انہوں نے ہم سب کو ہمیشہ ہنسایا لیکن جاتے ہوئے رلا دیا۔

اداکار جاوید شیخ نے کہا کہ عمرشریف میرے پرانے ساتھی تھے، ان کے بیٹے سے رابطے میں تھا، عمرشریف جیسا فنکار صدیوں میں پیدا ہوتا ہے، ان کو دنیا کے ہر کونے میں لوگ جانتے تھے، دنیا کو ہنسانے والا آج ہمیں رلا گیا،

اداکار بہروزسبزواری کا کہنا تھا کہ عمرشریف سے ہمارا ساتھ 45برس سے بھی زائد تھا، ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے اہل خانہ سے رابطے میں رہتا تھا، عمرشریف ہمیشہ ہنستے مسکراتے ملتے تھے، عمر شریف ہمیشہ غریبوں کا اور خصوصاً اپنے ساتھی فنکاروں کا بہت خیال رکھتے تھے۔

اسماعیل تارا کا کہنا تھا کہ عمر شریف اسٹیج کا بادشاہ تھا اور بادشاہ ہی رہے گا، ان کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا، عمرشریف نے اپنی ہر ذمہ داری احسن طریقے سے بخوبی نبھائی۔

اسماعیل تارا نے کہا کہ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ کامیڈی کیا ہوتی ہے، عمر شریف سے لوگ محبت کرتے تھے یہ ان کیلئے سب سے بڑا ایوارڈ تھا۔ عمرشریف لوگوں کو ہنساتے ہنساتے خود بیمار ہوگیا۔،

امریکا میں مقیم ڈاکٹر طارق شہاب نے گزشتہ دنوں عمر شریف کی بیماری سے متعلق بتایا تھا کہ عمر شریف کے دل کے ایک والو کے مسلز کمزور ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے خون کی گردش میں رکاوٹ ہے جبکہ انہیں سانس لینے میں بھی تکلیف کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ اس تکلیف کا علاج اوپن ہارٹ سرجری سے ہی ہوسکتا ہے لیکن عمر شریف کی پہلے ہی ایک اوپن ہارٹ سرجری ہوچکی ہے جبکہ ان کے گردے بھی کمزور ہیں لہٰذا دوبارہ سرجری کرنا ان کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here