عبید اللہ کاسی کا قتل اور ویڈیو تحریر شاہد خان

0
38

عبید اللہ کاسی کا قتل

کچھ دن پہلے تاؤان کے لیے اغواء اور قتل ہونے والے عبیداللہ کاسی کی ایک ویڈیو سرخے سرکولیٹ کر رہے ہیں جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ “ان ایف سی والوں کے مطالبات پورے کرو۔” سرخے اس ویڈیو کو لے کر ایف سی کے خلاف خوب زہر اگل رہے ہیں۔

ویڈیو پر بات کرنے سے پہلے آپ کو پورا واقعہ بتاتے ہیں۔

عبیداللہ کاسی اے این پی بلوچستان کے راہنما تھے۔ وہ 26 جون کو کچلاک سے اغواء ہوئے۔ عبیداللہ نے انہی دنوں گیارہ بارہ کروڑ روپے کی جائداد بیچی تھی اور اغواء کار وہی پیسے مانگ رہے تھے۔

یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ اغواء کرنے والے اس کے رشتےدار یا جاننے والے ہیں۔

۔5 اگست کو ان کی لاش ملی۔ ان کی موت اور جنازے کو بی بی سی اور وائس آف امریکہ نے خوب کوریج دی۔ بڑی تعداد میں اے این پی کارکن جنازے میں شریک ہوئے اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

پولیس نے سائنسی بنیادوں پر تفتیش کی اور جمعہ گل نامی ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی۔ جمعہ گل نے نہ صرف اعتراف جرم کر لیا بلکہ باقی ساتھیوں کے نام اور چھپنے کی جگہ بھی بتا دی۔

۔7 اگست کو پولیس نے جمعہ گل کی بتائی ہوئی جگہ پر پشین میں ریڈ کیا۔ وہاں چھپے ہوئے اغواکاروں کو سرنڈر کرنے کو کہا۔ انہوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں 5 اغواء کار ہلاک ہوگئے اور باقی رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں کی شناخت کی گئی جو مندرجہ ذیل تھے۔

۔1۔ محمد حنیف ولد عبدلباقی قوم اچکزئی رہائش قلعہ عبداللہ

۔2۔ شاہ فہد ولد عبدلقاہر قوم اچکزئی رہائش پشین تراٹھا

۔3۔ جمعہ گل ولد رحمت اللہ قوم نورزئی رہائش کلی برات کچکلاک

۔4۔ محمد اکرم ولد اللہ داد قومی کاسی رہائش کچلاک

۔5۔ محمد سلیم ولد محمد نذیر قومی خلجی رہائش پشین ظریف وارث نامی اغواء کار کچھ دیگر ساتھیوں کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب رہا۔

اہم بات یہ ہے کہ چند ایک کا تعلق محمود اچکزئی کی پارٹی سے تھا۔ وہی محمود اچکزئی جس پر عثمان کاکڑ کے قتل کا شبہ کیا جاتا ہے۔

اغواء کاروں کے پاس سے اسلحہ، دستی بم اور وہ گاڑی بھی برآمد ہوئی جس میں عبیدالہ کاسی کو اغواء کیا گیا تھا۔

پولیس کی اس کاروائی کے بعد عبیداللہ کاسی کے نام پر سرخوں جو شور ڈالا ہوا تھا وہ سارے یکلخت ٹھنڈے پڑ گئے۔ حتی کہ انہوں نے باقی اغواء کاروں کی تلاش کا مطالبہ کرنا بھی بند کر دیا۔

لیکن کل اچانک سرخوں نے وٹس ایپ گروپس میں عبیداللہ کاسی کی ویڈیو سرکولیٹ کرنی شروع کی جس میں وہ مغویوں کے قبضے میں تھا اور کہہ رہا تھا کہ ” ان ایف سی والوں کے مطالبات پورے کرو میری بہت بری حالت ہے۔”

آپ کسی بھی شخص کو اغواء کر کے اس سے کچھ بھی کہلوا سکتے ہیں۔

ویڈیو کے شروع میں وہ کہتا ہے کہ “بتاؤں” جس کے بعد اسے “ہوں” کہہ کر اجازت دی جاتی ہے اور وہ طوطے کی طرح چند رٹے ہوئے جملے دہراتا ہے۔

دنیا میں کوئی اغواء کار نہیں چاہتا کہ اس کی شناخت ظاہر ہو۔ بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ عبیداللہ کاسی کے اغؤاء کاروں نے وارثین اور تفتیشی اداروں کو گمراہ کرنے کے لیے یہ ویڈیو بنوائی تھی۔

اور جب اغواء کار محمود اچکزئی کے پارٹی کے ہوں تو پاک فوج یا ایف سی کو بدنام کرنے سے بہتر کیا ہوسکتا ہے ؟؟؟

اگر ایف سی اغواء کرتی تو کیا وہ الو کے پٹھو کی طرح اس سے ویڈیو بیان جاری کرواتی کہ مجھے ایف سے نے اغواء کیا ہے ؟؟؟

یہ بھی نوٹ کریں کہ اغواء کار پشتو بولنے والے تھے۔

شائد اغواء کاروں کو بلوچستان میں متحرک کسی ایجنسی کی پشت پناہی بھی حاصل تھی تبھی ایف سی کا نام لیا گیا۔ پولیس آپریشن کامیاب نہ ہوتا تو شائد اس کو پکا ثبوت بنایا جاتا۔

کیا یہ بات دلچسپ نہیں کہ ویڈیو سرخوں کے پاس سے ہی برآمد ہوئی اور وہی اس کو سرکولیٹ کر رہے ہیں ؟؟؟

آپ یہ بھی دیکھ لیجیے گا کہ شام تک بی بی سی اور وائس آف امریکہ زہریلی سرخیوں کے ساتھ اس ویڈیو کو لے کر پاک فوج کے خلاف پراپگینڈے پر مبنی مضامین شائع کر رہے ہونگے۔

ایف سی بلوچستان میں متحرک تمام شرپسندوں اور ملک دشمن عناصر کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاؤٹ ہے۔ ایف سی بلوچستان میں امن کی ضامن ہے۔ ایف سی کو بدنام کرنے کے لیے وہ اس قسم کے ڈرامے کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here