شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے جوانوں پر سرحد پار سے فائرنگ، 6 جوان شہید

شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر پاک فوج کے جوانوں پر سرحد پار سے فائرنگ کی گئی، فائرنگ سے پاک فوج کے 6 جوان شہید ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر پاک فوج کے جوانوں پر سرحد پار سے فائرنگ کی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ پٹرولنگ کرنے والے پاک فوج کے جوانوں پر کی گئی، فائرنگ سے پاک فوج کے 6 جوان شہید ہوگئے۔ شہدا میں حوالدار خالد، سپاہی نوید، سپاہی بچل، سپاہی علی رضا، سپاہی ایم بابر اور سپاہی احسن شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے پاک افغان سرحد پر باڑھ لگانے کے اقدامات جاری رہیں گے اور سرحد کی نگرانی کا عمل سخت رکھا جائے گا۔

اس سے قبل رواں برس یکم مئی کو شمالی وزیرستان میں سرحد پر باڑھ لگانے والی پاک فوج کی ٹیم پر سرحد پار سے حملہ کیا گیا تھا، الوڑہ کے مقام پر 60 سے 70 دہشت گردوں نے افغانستان کی حدود سے حملہ کیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں کئی دہشت گرد مارے گئے جبکہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کے 3 جوان شہید اور 7 زخمی ہوگئے تھے۔ شہدا میں لانس نائیک علی، لانس نائیک نذیر اور سپاہی امداد اللہ شامل تھے۔

گزشتہ برس 10 اکتوبر کو بھی دہشت گردوں نے سرحد پار سے شمالی وزیرستان میں موجود پاکستانی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کے حملے کو پسپا کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 7 دہشت گرد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے تھے۔

گزشتہ برس آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑھ لگانے کا عمل جاری ہے۔ دسمبر 2019 تک پاک افغان سرحد پر باڑھ کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ 843 قلعوں میں سے 233 قلعوں اور 1200 کلو میٹر میں سے 802 کلو میٹر باڑھ پر کام مکمل کر دیا گیا ہے۔ باڑھ لگانے سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود کی جا سکے گی۔

یاد رہے کہ پاک افغان سرحد پر خاردار تاریں لگانے کا عمل کچھ عرصے سے جاری ہے، 5 مئی 2018 تک شمالی وزیرستان میں 70 کلو میٹر رقبے تک باڑھ لگائی گئی تھی۔

جون 2017 میں پاک افغان سرحد پر باڑھ لگانے کا پہلا مرحلہ مکمل کیا گیا تھا، پہلے مرحلے میں باجوڑ، مہمند اور خیبر ایجنسی میں باڑ لگائی گئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here