ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی  آخری حصہ 

0
552

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی  آخری حصہ 

۔ 14۔ ضیاالدین یوسف زئی (ملالہ کے والد) نے ریاست پاکستان کے خلاف کھیلے جانے والے اس سارے کھیل میں اہم کردار ادا کیا۔

اس نے اپنی بیٹی سی آئی اے کو پیش کی۔ جنہوں نے دنیا کے دو بڑے میڈیا چینلز پر اس کےنام کی جعلی ڈائریاں نشر کر کے سوات میں ملٹری آپریشن یا دوسرے لفظوں میں جنگ کے لیے زمین ہموار کی۔

جب پاک فوج نے دہشت گردوں سے مزاکرات کا فیصلہ کیا تو اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے تقریر کی کہ اگر پاکستان نے آپریشن نہیں کیا تو افغانستان سوات میں دہشت گردوں کے خلاف خود کاروائی کرے گا۔ حامد کرزئی کی اس تقریر کو پوری دنیا کی میڈیا نے زبردست کوریج دی اور پاکستان پر عالمی دباؤ بڑھا دیا گیا۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ اؤل )۔

دوسری طرف پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی پر ملالہ کی جعلی ڈائریز اور پاکستان کے اپنے میڈیا کا ڈھنڈورا جاری تھا۔

بلاآخر جب پاک فوج نے آپریشن راہ راست کا فیصلہ کیا تو ملالہ کو اپنا کردار کامیابی سے ادا کرنے پر ھالینڈ نے امن کے ایوارڈ سے نوازا۔

پاکستان کی بہادر افواج کے ہاتھوں شکست کے بعد سوات کے ان دہشت گردوں کو امریکہ اور نیٹو نے اپنی آغوش میں لے لیا جن کے خلاف حامد کرزئی نے بیان جاری کیا تھا اور ان کو کنڑ اور نورستان میں پناہ گاہیں فراہم کیں۔

دہشت گردوں کی محفوظ جنت افغانستان میں پناہ حاصل کرنے کے بعد دہشت گردوں نے پاکستان میں ٹارگٹڈ کاروائیاں شروع کیں اور جنرل ثناءاللہ نیازی کو ایسی ہی ایک کاروائی میں شہید کر دیا گیا۔

۔ 15۔ دنیا بھر میں قومی سطح کے انعامات دینے کا ایک طریقہ کار اور قواعد و ضوابط ہوتے ہیں۔

اس وقت کی پیپلز پارٹی حکومت نے ہلال امتیاز نرگس سیٹھی کو دیا اور ستارہ امتیاز ملالہ کو محض میڈیا کوریج سے متاثر ہوکر۔ اور اس کے لیے تمام تر قواعد و ضوابط کو نظر انداز کر دیا گیا۔

اس میڈیا کوریج میں پاکستان کے متنازعہ ترین صحافی حامد میر اور متنازعہ ترین چینل جیو نے اہم کردار ادا کیا۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ دوم )۔

۔ 16۔ پاکستان میں عام طور پر سب سے قابل بچہ میڈیکل، انجنیرنگ، پاک فوج یا پھر سول سروس میں جاتا ہے۔
اوسط درجے کا بچہ ٹینیکل شعبے یا پھر ٹیچنگ میں جاتا ہے۔

نالائق ترین بچے کو یا مدرسے بھیج کر عالم بنایا جاتا ہے یا پھر وہ ایل ایل بی کر کے وکیل اور جج بنتا ہے اور ” انصاف ” کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ علماء کی اکثریت کو کسی معقول بات پر اکھٹا کرنا محال اور عدلیہ سے انصاف کا حصول ناممکن ہو چکا ہے۔

فیل ہوجانے والے یا ان پڑھ بچے سیاست میں حصہ لیتے ہیں۔ یا سیاسی کارکن بنتے ہیں یا سیاست دان اور ملک کا نظم و نسق چلاتے ہیں، قانون سازی کرتے ہیں۔ نتائج آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔

خلاصہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

بیان کیے گئے تمام حقائق کی روشنی میں باآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ اس سارے کھیل کی بنیاد 1988ء میں رکھی جائی جب افغانستان اور افغان امور کے ماہر پاک فوج کے سپاہ سالار کو اس کے 17 ساتھیوں سمیت بہالپور میں ایک طیارے میں شہید کر دیا گیا۔ یہ کام پاکستان پیپلز پارٹی اور سی آئی اے نے ملکر کیا۔

اسی سال میڈیا کی شہزادی اور ملالہ کی اتالیق کرسٹینا لیمپ پہلی بار پاکستان میں نمودار ہوئیں۔

عدلیہ اور پارلیمنٹ مسلسل میڈیا اور این جی اوز کے ہاتھوں میں کھلونوں کی طرح کھیلتی رہیں۔ جن کی مشترکہ غلطیوں نے پہلے دہشت گردی اور پھر عدم استحکام کو جنم دیا اور پاکستان عملاً اپنے کئی علاقے کھو بیٹھا۔

ضیاالدین یوسفزئی، دہشت گردوں اور سرکاری سکولوں کے چوکیداروں کے مقاصد الگ الگ لیکن منزل ایک تھی۔ دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی دوسرے لفظوں میں تعلیم کی تباہی۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ سوئم )۔

سرکاری سکولوں سے نکالے گئے ٹیچر یواےای اور کویت فنڈڈ این جی اوز کی مدد سے مدارس قائم کرنے کے بعد دہشت گردوں کے ساتھ مل گئے اور سرکاروں سکولوں سے اپنا ذاتی انتقام بھی لیا۔

سب سے زیادہ نقصان میں پاکستان اور فائدے میں ضیاالدین رہا جس کے پرائیویٹ سکول بزنس کو مزید استحکام ملا اور بعد میں انعام و اکرام کی بارش۔

سی آئی اے نے سرکاری سکولوں کو دہشت گردوں کے ذریعے نصاب سے اسلامی مواد خاص طور پر جہاد سے متعلق قرآنی احکام نہ ہٹانے کی سزا دی۔ اس مواد پر ملالہ نے اپنی کتاب ” آئی ایم ملالہ ” میں بھی تنقید کی ہے۔

ملالہ اور اس کے والد ضیا الدین کو ان کی خدمات سے بڑھ کر انعام دیا گیا اور پوری دنیا میں ان کو غداری کرنے والوں کے لیے ایک پرکشش مثال بنایا گیا۔ جس نے خاص طور پر پاکستان میں غداروں کی ایک نئی کھیپ تیار کی اور ہر دوسرا تیسرا اسلام، پاکستان، نظریہ پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ کر کے مغرب سے انعام کا طلب گار بن گیا۔ شکیل آفریدی، وقاص گورایا، سلمان حیدر جیسے ناسور پیدا ہوئے۔ سنا ہے مشال کی مبینہ گستاخیاں بھی ملالہ بننے کا عزم اور نوبل انعام حاصل کرنے کے لیے تھیں۔

ضیاالدین کا حوصلہ بڑھا تو اس نے اپنی بیٹی کو آنے والے وقت میں وزیراعظم پاکستان کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ اس کے لیے ابھی سے اس کو اعزازی ڈگریوں اور انعامات سے لدھا جا رہا ہے۔

ملالہ اور دہشت گرد ایک ہی سکے کے دو رخ تھے۔ دونوں نے سوات میں دہشت گردی اور سرکاروں سکولوں کی تباہی ( تعلیم کی تباہی ) میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔

کسی کو گمان نہیں تھا کہ پاک فوج ناقابل یقین انداز میں یکے بعد دیگر یہ تمام علاقے نہ صرف دہشت گردوں سے چھڑا لےگی بلکہ یہاں مستقل امن بھی قائم کر لے گی۔

اسی لیے اب قوم پرستی ( عصبیت) کے جھنڈے تلے اس کھیل کا دوسرا فیز لانچ کیاجا رہا ہے۔ امریکی چینلز کی پراپگینڈا مہم ایک بار پھر زوروں پر ہے۔ حقوق کے نام پر پشتونوں کو پھر سے ایک بڑی جنگ اور آگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے کہ ” وہاں تمھاری جنت ہے”

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ چہارم )۔

پاکستان پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ جو مرضی ہوجائے پاکستان کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ ان شاءاللہ

مضمون ختم ہوا لیکن جنگ جاری ہے!

تحقیق محمد یوسف
تحریر شاہدخاں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here