ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی  حصہ چہارم 

0
286
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی  حصہ چہارم 

۔ 9۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاالدین یوسفزئی بطور چیرمین پرائیویٹ سکولز سوات اپنے سکول کے کاروبار کو فروغ دینے اور سستی شہرت کی حرص میں ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے پر آمادہ ہوگئے۔

اس کے لیے وہ وائس آف امریکہ اور بی بی سی کی فرمائش پر انہی کے بھیجے گئے من گھڑت، مبالغہ آمیز اور انجنیرڈ خطوط کو ڈائریوں کے نام سے اپنی بیٹی کے ہاتھوں دوبارہ لکھنے پر تیار ہوگئے۔ اوپر پوائنٹ نمبر 5 میں انہی کا تذکرہ ہے۔

یہ جعلی خطوط یا ڈائریاں درحقیقت دہشت گردوں کی کامیابیوں پر رننگ کمنٹری تھی تاکہ پاکستان کی قومی یکجہتی اور سالمیت میں دراڑ ڈالی جا سکے۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ اؤل )۔

ملالہ کی لکھنے کی صلاحیت پر ایک اور دلچسپ دلیل بھی دی جاسکتی ہے۔

ملالہ خود تسلیم کرتی ہے کہ اسکی کتاب ” آئی ایم ملالہ ” اس کے لیے کرسٹینا لیمب نے لکھی۔ اور زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرسٹینا لیمب کو پاکستان میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر بین کیا گیا تھا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کرسٹینا لیمب پاکستان میں کب نمودار ہوئیں؟ ۔۔۔ جی ہاں 1988ء جب اس سارے کھیل کی بنیادیں ڈالی جا رہی تھی۔ 🙂

۔ 10۔ ان من گھڑت، مبالغہ آمیز، انجنیرڈ خطوط یا جعلی ڈائریوں کو بی بی سی اور وائس آف امریکہ نے گل مکئی کا نام دیا اور این جی اوز کی تیار کردہ ایک بچی سے منسوب کیا۔

ملالہ کے ان جعلی ڈائریوں کو حسب معمول سپریم کورٹ نے سوموٹو کے ذریعے مزید تقویت دی۔

اسی وقت اسلام آباد میں ایک اور خطرناک کھیل کھیلا گیا جس سی ڈی اے میں موجود بعض ملک دشمن عناصر نے اسلام میں مختلف مقامات پر موجود 7 مساجد کو گرانے کا فیصلہ کیا۔ یہ معاملہ بلاآخر لال مسجد ردعمل اور پھر آپریشن تک پہنچا۔

دنیا کو پیغام دیا گیا کہ دہشت گرد پاکستان کے درالخلافہ تک میں موجود ہیں۔ جبکہ دہشت گردوں کو پیغام دیا گیا کہ پاک فوج کے خلاف جنگ نہ صرف جائز بلکہ فرض ہے۔

مقصد حاصل کر لیا گیا اور پاکستان کی فوج اور ہتھیاروں کو ان کی اپنی ہی سرزمین پر استعمال کرنا پڑگیا۔ اسلام آباد اور مالاکنڈ میں پاک فوج کو جنگ میں الجھا دیا گیا۔

میڈیا کے ذریعے پاک فوج اور سول آبادی کے مابین عدم اعتماد پیدا کیا گیا۔
پاکستان کے نظام تعلیم کے خلاف سازش کی گئی۔
اور مجموعی طور پر قومی سلامتی پر حملہ کیا گیا۔

ہالینڈ میں ” گل مکئی ” کا تعارف ملالہ یوسف زئی کی حیثیت سے کرایا گیا اور پاکستان کے خلاف اسکی کامیابیوں پر اس کو انعام دیا گیا۔

حامد میر نے اپنے غدار باپ وارث میر کے تقش قدم پر چلتے ہوئے تمام تر حالات و واقعات اور حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے پروگرام کیپٹل ٹاک میں 2009ء میں ملالہ کا تعارف ایک قومی ہیروئین کے طور پر کرایا۔

وزیراعظم پاکستان نے فوری طور پر ملالہ کے لیے ستارہ امتیاز کا اعلان کیا۔

۔ 11۔ ملالہ یوسف زئی عرف گل مکئی کا دوسرا استعمال سی آئی اے کی اس ظالمانہ عادت کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے لے آیا یعنی بوقت ضرورت اپنے ہی تخلیق کردہ ہیروز کو قتل کرنا۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ دوم )۔

اس وقت یکایک پوری امت مسلمہ میں امریکہ کے خلاف نفرت کا ایک طوفان اٹھا۔ اسکی فوری وجہ ایک گستاخانہ ویڈیو کی اشاعت تھی۔ کئی ممالک میں امریکی ایمبیسیز پر حملے ہوئے۔ اور تازہ تازہ فتح کیے گئے لیبیا میں امریکی سفیر کو زندہ جلا دیا گیا۔

تب سی آئی اے نے ساری دنیا کی توجہ ہٹانے اور دنیا کے سامنے مسلمانوں اور اسلام کا ظالمانہ چہرہ پیش کرنے کے لیے اپنے ہی تیار کردہ ہیروئین ملالہ یوسفزئی پر حملے کا منصوبہ بنایا۔ چاہے مرے یا بچے۔ یہ منصوبہ بندی اسد آباد افغانستان میں کی گئی۔

اس حملے کے ذریعے سی آئی اے نے تین مقاصد حاصل کیے۔

الف ۔ گستاخانہ ویڈیو پر احتجاج کرنے والے مسلمانوں کی توجہ ہٹانا۔

ب۔ دنیا بھر میں موجود گستاخان رسول بشمول تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی اور آزادی اظہار کے نام نہاد علمبرداروں کی ہمدردیاں حاصل کرنا۔ کیونکہ ملالہ پر حملے کو آزادی اظہار پر حملے کی شکل میں پیش کیا گیا۔

ج۔ ڈرون حملوں کے خلاف وزیرستان کی جانب پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو غیر موثر کرنا۔ جو اس حملے کے بعد کہیں پس منظر میں چلا گیا۔
تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے پر کام جاری رہ سکے۔

۔ 12۔ ملالہ پر ہونے والے اس حملے کو پوری دنیا کی میڈیا پر یک لخت اور نہایت جارحانہ انداز میں پیش کیا گیا۔ تقریباً تمام دوسری خبریں میڈیا سے غائب ہوگئیں۔ یوں معلوم ہورہا تھا جیسے یہ میڈیا مہم پہلے سے تیار کی گئی تھی۔

پاکستانی وزیرعظم، ایم کیو ایم چیف الطاف حسین اور سمیت تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان ملالہ والے معاملے پر بڑھ چڑھ کر سامنے آئے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ملالہ کی خیریت دریافت کرنے خود پہنچے۔

ایک ایسے وقت میں جب ساری دنیا کی نظریں سوات پر تھیں پاکستان کی سیکیورٹی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل کیانی کا منظر سے غائب رہنا ممکن نہ تھا۔ پاک فوج نے ملالہ کے علاج کے لیے اپنا ہیلی کاپٹر اور خدمات پیش کیں۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ سوئم )۔

ایک مستند غدار کو قومی ہیرو قرار پائی۔

یہ امر نوٹ کیا جانا چاہئے کہ جن دنوں ملالہ طالبان کے خلاف لکھ رہی تھی ان دنوں طالبان کی طاقت کا عالم یہ تھا کہ ان سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد تک محفوظ نہ تھے۔ لیکن ان کے گڑھ سوات میں موجود ملالہ یوسف زئی ” انکی پہنچ سے دور ” تھی۔ ان چار پانچ سالوں میں ملالہ پر کبھی حملے کی جرات نہیں کی گئی جب تک سی آئی اے کو اسکی ضرورت نہیں پڑی۔ حالانکہ ہر تھوڑے عرصے بعد ملالہ کا والد طالبان کی طرف سے ان کے گھر میں پھینکی گئی پرچی میڈیا کے سامنے پیش کرتا اور ساتھ ہی ڈٹے رہنے کا اعلان کرتا۔ 🙂

۔ 13۔ اسی دن دہشت گردوں کے گڑھ لال قلعے کی جانب مارچ کرنے والے پاک فوج کے میجر غلام رسول نے اپنے سر میں گولی کھائی اور اس کے 7 جوانوں کو نہایت بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔

ان بے مثل اور بہادر جوانوں کے لیے پورے میڈیا پر کوئی ایک آواز نہیں اٹھی۔ ان کی جوان بیواوؤں اور چند ماہ کے یتیم ہو جانے والے بچوں کے لیے کہیں بھی ہمدردی کا ایک جملہ تک نہیں بولا گیا۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( آخری حصہ )۔

دور جدید کی سب سے بڑی اور انجنیرڈ جعل سازی “ملالہ یوسف زئی” اور سوات میں ہونے والی تباہی کے اصل کردار کون ہیں، یہ سارا کام کیسے کیا گیا، اس بارے میں جاننے کے لیے بقیہ حصوں کا اتنظار کیجیے۔

تحقیق محمد یوسف
تحریر شاہدخاں


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here