ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی  حصہ سوئم 

0
517

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی  حصہ سوئم 

۔۔ 6 ۔ متحدہ عرب امارات خاص طور پر کویت نے پرائمری سکولوں سے نکالے گئے اسلامیات ٹیچرز کو مدارس بنانے کے لیے فنڈز جاری کرنے شروع کیے۔ یوں ان ٹیچرز کو دوبارہ ملازمت مل گئی۔

ان مدارس میں وہابی مسلک اور کچھ مخصوص نظریات کا پرچار کیا گیا۔ کویت اور متحدہ عرب امارات کے اس پروگرام کی پشت پناہی امریکہ براہ راست کرتا رہا۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ اؤل )۔

اسکا اعتراف ہیلری کلنٹن نے اپنی ایک تقریر میں بھی کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی گردش کرتی رہی کہ ” ہم نے وہابی مسلک کے فروغ کے لیے مدد فراہم کی “

( یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ وہابی مسلک کوئی امریکی پیداوار نہیں نہ ہی انہیں وہابیوں سے کوئی ہمدردی ہے نہ ہی وہابی امریکہ کے دوست ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ان میں جذبہ جہاد پایا جاتا ہے اور اہل تشیع سے شدید نفرت جسکو بعد میں استعمال کیا گیا جیسے داعش کی شکل میں مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو خود مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال کیا گیا۔ اس کی دوسری مثال یوں ہوگی کہ آج اگر آپ کہیں کہ ” میں چین میں اسلام کو فروغ دینا چاہتا ہوں” تو سب سے زیادہ حمایت امریکہ آپ کی کرے گا لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ اس کو اسلام یا مسلمان سے کوئی لگاؤ ہوگیا ہے )

اسلامیات ٹیچرز کی تنخواہیں اور مدارس کے دیگر اخراجات ان این جی اوز کے ذمے تھے جن کی فنڈنگ کویت اور متحدہ عرب امارات کر رہے تھے۔

۔۔ 7 ۔ 1990ء سے پہلے مالاکنڈ کے لوگ اپنی حب الوطنی اور ریاست سے وفاداری کے لیے مشہور تھے اور یہاں کا امن مثالی تھا۔ اس امن کو بڑے سسٹمیٹک طریقے سے تباہ کیا گیا۔

جسکے لیے دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ غیر ملکی طاقتوں نے پاکستانی عدالتی کمزوریوں اور غلطیوں کا بھی خوب فائدہ اٹھایا۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ دوم )۔

” پاٹا ” کے حوالے سے 1988ء میں سپریم کورٹ کا کیا گیا فیصلہ بھی ایسی ہی ایک غلطی تھی۔ اس فیصلے نے وہاں ایک ایسا خلا پیدا کیا جس میں کئی ملک دشمنوں کو اپنا ایجنڈا پورے کرنے کا موقع ملا۔

اس فیصلے کے بعد “تحریک نفاذ شریعت محمدی” کو جنم ملا جس نے بعد میں پورے سوات میں انارکی اور بلاآخر دہشت گردی کو جنم دیا۔

۔۔ 8 ۔ یہ امر نوٹ کیا جانا چاہئے کہ پورے سوات اور مالاکنڈ ڈیوژن میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی کے دوران کوئی ایک بھی پرائیویٹ سکول تباہ نہیں کیا گیا۔ نہ ہی کسی ایک پرائیویٹ سکول کی بچی یا بچے کو قتل یا زخمی کیا گیا۔ (سوائے ملالہ کے 🙂 )

جب کہ اسی عرصے میں صرف لوور دیر میں 100 سرکاری سکول ( 61 لڑکوں کے اور 39 لڑکیوں کے ) تباہ کیے گئے۔ جبکہ سرکاری سکولوں کے بچوں کو بھی شہید کیا گیا۔ 10 فروری 2010ء کو لوور دیر کے صرف ایک سکول کی آٹھ بچیوں کو شہید کیا گیا۔ ( ان کو عالمی میڈیا نے کوئی اہمیت نہیں دی)

حالات اس بات پر شاہد ہیں کہ دہشت گرد، سرکاری سکولوں کے نکالے گئے چوکیدار اور پرائیویٹ سکولز مالکان سب ایک ہی کشتی کے سوار تھے اور ایک ہی کمانڈ کے نیچے کام کرتے رہے۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ چہارم )۔

اس بحث کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ جن سرکاری سکولوں کے اسلامیات ٹیچرز یو ایس ایڈ کا شکار ہونے سے بچ گئے، یا وہاں کے چوکیدار سپریم کورٹ کے فیصلے سے بچ گئے یا وہاں پرائیویٹ سکولز ہی موجود نہیں تھے وہ محفوظ رہے۔ جیسے کے کاروباغ، چنارگی، ٖڈبونو، ڈھری میدان لوور دیر وغیرہ۔

حالانکہ ان میں سے بعض علاقے طالبان کے مضبوط گڑھ تھے۔ یہاں ان کی طاقت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ 2009ء میں لانچ کیے گئے آپریشن راہ راست کے تحت جب پاک فوج دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے لال قلعہ میدان کی طرف بڑھ رہی تھی تو ان پر پہلا آر پی جی یہیں سے فائر ہوا تھا۔ اس علاقے کو دہشت گردوں سے خالی کروانے کے لیے پاک فوج کو برگیڈیر ندیم کی قیادت میں فل سکیل ملٹری آپریشن کرنا پڑا تھا۔ جس کو ائر فورس کی مدد بھی حاصل تھی۔

یہاں کے سکول محفوظ رہنے کی واحد وجہ یہی تھی کہ سرکاری سکولوں کی تباہی کے لیے یہاں کے اسلامیات ٹیچرز، سکول چوکیدارز اور پرائیویٹ سکولز کے مالکان کا کوئی مشترکہ مفاد موجود نہیں تھا۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( آخری حصہ )۔

دور جدید کی سب سے بڑی اور انجنیرڈ جعل سازی “ملالہ یوسف زئی” اور سوات میں ہونے والی تباہی کے اصل کردار کون ہیں، یہ سارا کام کیسے کیا گیا، اس بارے میں جاننے کے لیے بقیہ حصوں کا اتنظار کیجیے۔

تحقیق محمد یوسف
تحریر شاہدخاں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here