ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی حصہ دوم

0
220
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی حصہ دوم 

۔ 2 ۔ کے پی کے خاص طور پر مالاکنڈ ڈیوژن کی عوام سرکاری سکولوں کی تعمیر کے لیے زمین مفت فراہم کرتی تھی۔ اس معاملے میں مقامی پیش امام بھی مدد کرتے تھے۔ بدلے میں زمین کے مالک کو اسی سکول میں گریڈ چار کی ملازمت اور پیش امام صاحب کو اسلامیات ٹیچر کی نوکری ملتی تھی۔ 

اس پالیسی کے نتیجے میں تعلیم کو تیز رفتار فروغ ملا۔ اسکا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ 1962ء میں پورے دیر ( اپر اور لوور دیر) میں صرف 2 گریجویٹ اور کل 14 میٹرک پاس تھے۔ لیکن 1990ء تک انکی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ اؤل )۔

لیکن اس سسٹم کو چند مغربی این جو اوز کی فنڈنگ اور مدد سے پہلے پشاور ھائی کورٹ اور اس کے بعد اسلام آباد سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے ( اپیل نمبر 228۔ 1989ء منور خان ورسز نیاز محمد اور سات دوسرے، ۔ 93 PLC (CS) page 797 ) زمین مالکان کو حاصل وہ جاب سیکیورٹی ختم کر دی۔

۔ 3 ۔ مغربی قوتیں پاکستان میں تعلیمی نصاب کو تبدیل کرنے کے لیے حکومتوں پر مسلسل دباؤ ڈالتی رہی ہیں۔ خاص طور پر جہاد افغانستان میں روس کی شکست کے بعد تعلیم سے اسلامی مضامین خاص طور پر جہاد کے حوالے سے قرآنی احکام کو ہٹانے پر اصرار کرتی رہی ہیں۔ یہ دباؤ خاص طور پر این جی اوز کی مدد سے ڈالا جاتا رہا۔ لیکن عوامی ردعمل کے خوف سے نصاب میں تبدیلی کی یہ تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور نصاب پر ریاست کا کنٹرول برقرار رہا۔

اس کے بعد پہلی بار پاکستان میں پرائیویٹ سکولوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ 1985ء تک پورے مالاکنڈ ڈیوژن میں کوئی ایک پرائیویٹ سکول نہیں تھا اور اسی سال الفاروق پبلک سکول اور سوات مینگورہ پبلک سکول کے نام سے پہلے پرائیویٹ سکولز کی بنیاد رکھی گئی۔

پرائیویٹ سکولوں کو این جی اوز کی مدد سے فنڈز فراہم کر کے انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ان پرائیوٹ سکولوں کے نصاب پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ نتیجے میں 85ء سے 95ء تک صرف 10 سال کے مختصر عرصے میں پرائیویٹ سکولوں کی شکل میں تعلیم کا ایک متوازی نظام سامنے آیا۔

نہ صرف پرائیوٹ سکولز میں پڑھنا ایک فیشن بن گیا بلکہ ایک پرکشش کاروبار بھی۔ نتیجے میں وہاں کے بڑے ٹرانسپوٹرز اور سیاست دان اس کاروبار میں تیزی سے سرمایہ کاری کرنے لگے جیسے جمال ٹریول سروس اور ان جیسے کئی اور بڑے نام۔

سرکاروں سکولوں کو مختلف طریقوں سے کم تر اور بے وقعت ثابت کیا گیا۔ اور پرائیویٹ سکولز کے مالکان بورڈ میں اپنے طلباء کے لیے ٹاپ پوزیشنز پیسوں سے خریدنے لگے۔ یوں تعلیمی بورڈ میں کرپشن کا ایک طوفان آیا۔ ان ٹاپ پوزیشنز کو پرائیویٹ سکول مالکان زیادہ سے زیادہ طلباء کو اپنے سکولوں میں داخلہ لینے کے لیے استعمال کرنے لگے۔

نیشنل ٹسٹنگ سروس کا قیام عمل میں لایا گیا جو پیسہ بنانے کی اور ایک مشین ثابت ہوئی۔ این ٹی ایس کا کنٹرول بھی سیاست دانوں ہی کے پاس تھا جو یہاں سے بھی پیسے بنانے لگے۔

پرائیویٹ سکولز نے نہ صرف تعلیم کو بذات خود تباہ کیا بلکہ اس کو ایک کاروبار میں تبدیل کر دیا اور نصاب کو تبدیل کرنے کا مغربی ایجنڈا بھی پورا ہوگیا۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ سوئم )۔

۔ 4 ۔ 1990ء سے پہلے پورے مالاکنڈ ڈیوژن میں کوئی ایک مدرسہ نہ تھا۔ لیکن 90ء سے 95ء تک صرف پانچ سال کے عرصے میں مدارس برساتی کھمبیوں کی طرح یکایک پورے مالاکنڈ میں نمودار ہوگئے۔

انہی مدارس کو بعد میں ملک دشمن ایجنسیوں نے ریکروٹمنٹ سنٹرز کے طور پر استعمال کیا۔

دہشت گردوں کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے مغربی ممالک اور انکی فنڈنگ سے چلنے والی این جی اوز سزائے موت ختم کرنے کے لیے پاکستان پر مسلسل دباؤ بڑھاتی رہیں۔ حتی کہ یورپ نے پاکستان کے ساتھ تجارت تک ختم کرنے کی دھمکی دی۔ اسی دباؤ کی وجہ سے 2005ء سے 2014ء تک پاکستان میں کسی کو موت کی سزا نہیں دی گئی۔

اس دوران مغربی فنڈنگز سے چلنے والا میڈیا عوام کے دلوں میں دہشت بڑھانے کے لیے دہشت گردی کی تمام کاروائیاں ممکن حد تک براہ راست نشر کرتا رہا۔ اور نہ صرف دہشت گردوں کے انٹرویوز نشر کیے جاتے تھے بلکہ ان کے بیانات اور عوام کو دی جانے والی دھمکیاں براہ راست عوام تک پہنچائی جاتی تھیں۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ چہارم )۔

۔ 2004ء سے 2006ء اور پھر 2006ء سے 2009ء تک ( گل مکئی ) تک بی بی سی اور وائس آف امریکہ نے جو جعلی ڈائریاں نشر کیں وہ درحقیقت دہشت گردی پر رننگ کمنٹری تھی جس کے ذریعے بیک وقت کئی مقاصد حاصل کیے گئے۔

۔ 5۔ دہشت گردوں ( کوڈ نام طالبان) کو پاکستان دشمن ایجنسیوں نے خیبر پختونخواہ میں بہت طریقے تخلیق کیا۔ جس کے لیے زمین یو ایس ایڈ پروگرام برائے پرائمری سکولز 1990ء تا 2000ء کے ذریعے ہموار کی گئی۔
بظاہر پراجیکٹ کا مقصد سرکاری پرائمری سکولز کی چاردیواریاں تعمیر کرنا، ان کو فرنیچر دینا اور کتابیں فراہم کرنا تھا۔ بدلے میں انہوں نے سکولوں سے اسلامیات ٹیچر کی ویکنسیز ختم کرنے کی فرمائش کی۔ نتیجے میں اسلامیات ٹیچروں کی اکثریت بےروزگار ہوگئی۔ زیادہ تر مقامی مساجد کے پیش امام تھے جہاں وہ سکولز قائم تھے۔

یو ایس ایڈ کے اس پراجیکٹ کی منظوری اس وقت کے چیف سیکٹری خالد عزیز صاحب نے دی اس شرط پر کہ سکولوں کو فرنیچر اور کتابیں فراہم کرنے کا ٹھیکا اس کی بیوی کو ملے۔ اس کے لیے نیب ریفرنس 2002 موجود ہے “خالد عزیز اور دیگر” کے عنوان سے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دور جدید کی سب سے بڑی اور انجنیرڈ جعل سازی “ملالہ یوسف زئی” اور سوات میں ہونے والی تباہی کے اصل کردار کون ہیں، یہ سارا کام کیسے کیا گیا، اس بارے میں جاننے کے لیے بقیہ حصوں کا اتنظار کیجیے۔

تحقیق محمد یوسف
تحریر شاہدخاں

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( آخری حصہ )۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here