ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی حصہ اؤل

0
892

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ اؤل )۔

ضیاء الدین یوسفزئی (ملالہ کے والد)، دہشت گرد اور سرکاری سکولوں کے چوکیدار ایک ہی کمانڈ کے نیچے کام کرتے رہے۔ جب کہ بظاہر ان کے ہاتھوں سرکاری سکولوں کی تباہی کے مقاصد الگ الگ تھے۔ اسی دوران پاکستان کی عدلیہ نے غیرملکی این جی اوز اور میڈیا کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے کچھ ایسے فیصلے کیے جس نے مالاکنڈ اور سوات میں دہشت گردی کے لیے ماحول تخلیق کیا۔

حقائق حسب ذیل ہیں۔ 

۔1۔ ملالہ یوسف زئی ولد ضیاالدین یوسف زئی ولد روح الامین کا تعلق پشتون قبیلے ملاخیل، یونین کاؤنسل کانرا، تحصیل شاہ پور، ڈسٹرک شانگلا سے ہے۔ وہ ضیاالدین کی بیوی امینہ عرف پنکئی سے ہیں۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ دوم )۔

ملالہ کے دادا کو گل مکئی بھی کہا جاتا تھا اور لوگ ان کو والی سوات کے خفیہ مخبر کی حیثیت سے جانتے تھے۔

ملالہ کے والد ضیاالدین نوے کی دہائی میں لنڈی خاص مینگورہ ڈسٹرک سوات منتقل ہوئے۔ ضیاالدین یوسف زئی نے وہاں ایک این جی او کے توسط سے خوشحال پبلک سکول کی بنیاد رکھی اور خود اسکے پروپرائیٹر اور پرنسپل بن کر اپنے پرائیویٹ سکول بزنس کا آغاز کیا۔

انہی این جی اوز نے ان کو کچھ عرصے بعد سوات ڈسٹرک میں پرائیویٹ سکولز کا چیرمین بنا دیا۔ خیال رہے کہ ان این جی اوز کو بعد میں پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر حکومت پاکستان نے بین کر دیا۔

ملالہ بھی اپنے والد کے سکول کی ایک طالبہ تھی۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ سوئم )۔

پاکستان کی سول آبادی اور پاک فوج دونوں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے دفاع کی آخری لکیر سمجھتے ہیں۔ جبکہ امریکہ اور اس کی لے پالک صہیونی ریاست اسرائیل کے لیے کسی اسلامی ملک خاص طور پر پاکستان کے ہاتھوں میں ایٹمی ہتھیار ناقابل برداشت ہیں۔

اسی لیے پاکستان دشمن خفیہ ایجنسیوں را، سی آئی اے اور موساد نے کچھ دیگر ایجنسیوں کے ساتھ ملکر پاکستان کے اندر ایک پراکسی جنگ شروع کی۔ اس مقصد کے لیے سائنٹفک طریقے سے این جی اوز کی فنڈنگ، میڈیا پراپیگینڈے اور عدلیہ کے غلط فیصلوں کی مدد سے طالبان تخلیق کیے گئے اور پاکستان کی آرمی اور ائرفورس دونوں کو ان طالبان برانڈ سی آئ اے ایجنٹس کے خلاف پاکستان کی اپنی ہی سرزمین پر جنگ میں الجھا دیا گیا۔

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( حصہ چہارم )۔

این جی اوز نے میڈیا پراپیگینڈے کے لیے جعلی مواد تیار کرنا شروع کیا جس کو میڈیا نے خوب اچھالا۔ خاص طور پر وائس آف امریکہ اور بی بی سی نے جعلی ڈائریاں نشر کرنی شروع کیں۔ 2004 ء سے 2006ء تک پاوانڈا کے نام سے اور 2006ء سے 2009ء تک گل مکئی کے نام سے۔
سوات میں پاک فوج کے آپریشن راہ راست کے بعد اگست 2009ء میں ہالینڈ میں ان ڈائریوں کا مصنف ملالہ یوسف زئی کو قرار دیا گیا۔
(مذہب کے نام پر بی بی سی اور وائس آف امریکہ کی یہ جنگ ناکام ہونے کے بعد انہوں نے قومی پرستی کے نام پر اسکا پلان بی لانچ کیا ہے جس میں امریکہ ہی کی فنڈنگ سے چلنے والے چینلز ” مشال ” اور ” ڈیوا ” کو استعمال کیا جا رہا ہے)

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دور جدید کی سب سے بڑی اور انجنیرڈ جعل سازی “ملالہ یوسف زئی” اور سوات میں ہونے والی تباہی کے اصل کردار کون ہیں، یہ سارا کام کیسے کیا گیا، اس بارے میں جاننے کے لیے بقیہ حصوں کا اتنظار کیجیے۔

تحقیق محمد یوسف
تحریر شاہدخاں

ملالہ یوسفزئی، دہشت گردی اور سرکاری سکولوں کی تباہی ( آخری حصہ )۔

نوٹ ۔۔ ۔

۔ Related Pakistan ۔ 

 ایپ انسٹال کیجیے۔ اس کہانی کے آخری دو حصے وہاں شیر کیے جائنگے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here