۔1965، پاک بھارت

میجر عزیز بھٹی کی بہادری پاک فوج کو دفاعِ وطن کے عزم کو تقویت دیتی ہے

پاک فوج کے میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کا 56 واں یوم شہادت آج ہے۔

پوری قوم  میجر عزیزبھٹی شہید کو سلام پیش کرتی ہے، عزیزبھٹی شہید نے مثالی قیادت اور بہادری کا مظاہرہ کیا، انہوں نے 1965 کی جنگ میں بھارتی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا۔ ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار

میجر عزیز بھٹی کی قیادت میں بھارت کے لاہور حملے کو کامیابی سے پسپا کیا گیا، عزیز بھٹی کی بہادری ہمیں وطن کے دفاع  کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار

سنہ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر اگلے مورچوں پر تعینات میجر عزیز بھٹی شہید نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بہادری سے دشمن فوج کا مقابلہ کیا تھا۔

راجہ عزیز بھٹی کون تھے ؟؟؟

بھارتی افواج کے سامنے آہنی دیوار بن جانے والے میجر عزیز بھٹی شہید 6 اگست 1928 کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے، ان کا خاندان خاندان قیام پاکستان سے پہلے ہی گجرات کے نواحی گاؤں لادیاں آ کر آباد ہو گیا تھا۔

شہید راجہ عزیز بھٹی 6 اگست 1923 کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے ، وہ اکیس جنوری 1948 میں پاک فوج میں شامل ہوئے تو انہیں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن دیا گیا، انہوں نے بہترین کیڈٹ کے اعزاز کے علاوہ شمشیرِاعزازی و نارمن گولڈ میڈل حاصل کیا اور ترقی کرتے ہوئے انیس سو چھپن میں میجر بن گئے۔

سن 1965 میں بھارت نے پاکستان کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تو قوم کا یہ مجاہد سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوا، سترہ پنجاب رجمنٹ کے 28 افسروں اور سپاہیوں سمیت عزیز بھٹی شہید نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔

میجر عزیز بھٹی کی بہادری پاک فوج کو دفاعِ وطن کے عزم کو تقویت دیتی ہے

6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کی کمان کر رہے تھے۔ اس کمپنی کے دو پلاٹون بی آر بی نہر کے دوسرے کنارے پر متعین تھے۔ میجر عزیز بھٹی نے نہر کے اگلے کنارے پر متعین پلاٹون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

ان حالات میں جب کہ دشمن تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا اور اسے توپ خانے اور ٹینکوں کی پوری پوری امداد حاصل تھی۔ میجر عزیز بھٹی اور ان کے جوانوں نے آہنی عزم کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے۔

9 اور 10 ستمبر کی درمیانی رات کو دشمن نے اس سارے سیکٹر میں بھرپور حملے کے لیے اپنی ایک پوری بٹالین جھونک دی۔ میجر عزیز بھٹی کو اس صورت حال میں نہر کے اپنی طرف کے کنارے پر لوٹ آنے کا حکم دیا گیا مگر جب وہ لڑ بھڑ کر راستہ بناتے ہوئے نہر کے کنارے پہنچے تو دشمن اس مقام پر قبضہ کرچکا تھا تو انہوں نے ایک انتہائی سنگین حملے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کو اس علاقے سے نکال باہر کیا اور پھر اس وقت تک دشمن کی زد میں کھڑے رہے جب تک ان کے تمام جوان اور گاڑیاں نہر کے پار نہ پہنچ گئیں۔

انہوں نے نہر کے اس کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سے دفاع کے لیے منظم کیا۔ دشمن اپنے ہتھیاروں‘ ٹینکوں اور توپوں سے بے پناہ آگ برسا رہا تھا مگر راجا عزیز بھٹی نہ صرف اس کے شدید دباؤ کا سامنا کرتے رہے بلکہ اس کے حملے کا تابڑ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔

میجر راجہ عزیز بھٹی بارہ ستمبر کو صبح کے ساڑھے نو بجے دشمن کی نقل وحرکت کا دوربین سے مشاہدہ کررہے تھے کہ ٹینک کا ایک فولادی گولہ ان کے سینے کو چیرتا ہوا پار ہوگیا ، انہوں نے برکی کے محاذ پر جام شہادت نوش کیا۔

میجرراجہ عزیز بھٹی کی جرات و بہادری پر انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا، راجا عزیز بھٹی شہید یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے تیسرے سپوت تھے۔

راجہ عزیز بھٹی شہید اس عظیم خاندان کے چشم و چراغ تھے کہ جس سے دو اور مشعلیں روشن ہوئیں، ایک نشان حیدر اور نشان جرات پانے والے واحد فوجی محترم میجر شبیرشریف جب کہ دوسرے جنرل راحیل شریف جو سابق آرمی چیف رہ چکے ہیں اور اب 41 ملکوں کے اسلامی اتحاد کی قیادت کررہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here