جنسی زیادتی قانون: مجرم کو نامرد کر کے رہا کرنے کی تجویز

0
24

وزارت قانون نے انسداد جنسی زیادتی قانون کے نکات جاری کر دیئے جن کے مطابق مجرمان کو منتخب کردہ طریقے سے نامرد کر کے انہیں رہا کیا جائے گا۔

وزارت قانون نے تجویز پیش کی کہ زیادتی میں ملوث مجرمان کو نامرد کرنے کے بعد انہیں رہا کردیا جائے گا، اس کے علاوہ جیل سے رہائی کا کوئی اور طریقہ نہیں ہوگا۔

وزارت قانون کی جانب سے جاری ہونے والے نکات میں بتایا گیا ہے کہ مجرمان کوان کی رضامندی سےکیمیائی طریقہ سے ہی نامرد کیا جائے گا، سزا کا یہ طریقہ اُن کی بہتری کی جانب اہم قدم ہوگا۔

وزارت قانون کے مطابق زیادتی کے مقدمات کا فوری اندراج کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کی ذمہ داری ہوگی جبکہ ملزمان کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں ہوگا، متاثرہ شخص سے جرح صرف ملزم کا وکیل اور جج ہی کرسکے گا۔

زیادتی کے مقدمات کا ٹرائل ان کیمرا ہوگا جبکہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) زیادتی کرنے والے تمام مجرمان کا ڈیٹا بھی مرتب کرے گا۔

وزارت قانون نے ضابطہ فوجداری میں لفظ زیادتی کی تعریف میں بھی ترمیم کا فیصلہ کیا جس کے بعد تمام عمر کی خواتین اور 18 سال سے کم عمر مرد کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو زیادتی میں ہی شمار کیا جائے گا۔

قبل ازیں دو روز قبل وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا تھا کہ ریپ کے مجرموں کیلئےسخت قوانین بنائےجارہےہیں،جس کے تحت  مجرموں کو نامرد کیا جائےگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ دنیا میں بیشتر ممالک میں جنسی مجرموں کو نامرد بنائے جانےکے قوانین لاگو ہیں، پاکستان میں کیمیکل کیسٹریشن کچھ کیسز میں مخصوص مدت کیلئے یا زندگی بھر کیلئے ہوسکےگی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘بچوں اورخواتین سے زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے یا نامرد بنایا جائے’

انہوں نے کہا کہ ریپ کےمجرموں کاڈیٹابیس بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ریپ کےمجرموں کا نادرا میں الگ سے ریکارڈ بنایا جائےگا جب کہ 10 سے25 برس قید کےعلاوہ تا عمر قید اور موت کی سزائیں بھی دی جائیں گی۔

انہوں‌ نے بتایا کہ پارلیمنٹ کا سیشن نہ ہونے کی وجہ سے سزاؤں سے متعلق آرڈیننس جلد جاری کیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here