بارودی سرنگیں اور پی ٹی ایم

بارودی سرنگیں اور پی ٹی ایم

اکتیس (31) اگست کو وزیرستان میں بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا اور ایک فوجی شہید ہوگیا۔ اس کے ایک ہفتے بعد 7 ستمبر میں بارودی سرنگ کا دوسرا دھماکہ ہوا اور دو فوجی اپنی جان سے گئے۔ وزیرستان میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں سب سے زیادہ شہادتیں پاک فوج کی ہوئی ہیں۔ شہید ہونے والوں میں کرنل سے لے کر سپاہی تک شامل ہیں۔

یہ بات نوٹ کریں کہ بارودی سرنگ کےدھماکوں میں نہ کبھی کوئی ٹی ٹی پی کا کارکن ہلاک ہوا نہ پی ٹی ایم کا۔

لیکن پی ٹی ایم (وزیرستانی سرخے) بضد ہے کہ بارودی سرنگیں فوج نے لگائی ہیں اور فوج ہی ہر چیز کی زمہ دار ہے۔ جب کہ سب سے زیادہ خود فوجی نشانہ بن رہے ہیں تو کیا فوج نے بارودی سرنگیں خود کو مروانے کے لیے لگائیں ہیں ؟؟؟

سچائی یہ ہے کہ وزیرستان میں بارودی سرنگیں پاک فوج کے خلاف لڑنے والے دہشتگردوں نے لگائی تھیں۔ زیادہ تر ان گزرگاہوں پر جہاں سے فوجی قافلے گزرتے تھے۔ دہشتگرد براہ راست جنگ کے بجائے گھات لگا کر حملے کرتے تھے اور بارودی سرنگ لگا کر حملے سب سے آسان ہوتے ہیں۔

پاک فوج نے آپریشن سے پہلے آبادیوں سے دور اپنے مورچوں کے آس پاس کچھ سرنگیں لگائی تھیں جو محض حفاظتی نقطہ نظر سے تھیں۔ ان کا باقاعدہ ریکارڈ تھا اور آپریشن کے فوراً بعد صاف کر دی گئیں۔

ان سرنگوں کی صفائی کے بعد پاک فوج نے دہشتگردوں کی لگائی ہوئی بارودی سرنگیں صاف کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے 80 ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور 3 سال کے عرصے میں 48000 بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں۔ اب تک فاٹا کا کل 86 مربع کلومیٹر کا علاقہ صاف کیا جا چکا ہے۔ جب کہ 80 مربع کا علاقہ رہتا ہے جس کو ریڈ مارک کیا گیا ہے۔

صرف اس صفائی مہم میں اب تک 119 جوان زخمی اور 2 شہید ہوچکے ہیں۔ جس پر پی ٹی ایم نے کبھی تحسین کا ایک لفظ نہیں کہا۔

پورے وزیرستان میں پاک فوج نے آگہی مہم چلائی خاص طور پر بچوں میں تاکہ مقامی لوگ ان چیزوں سے بچ سکیں۔ نیز علاقوں کی نشاندہی کی گئی جو اب تک صاف نہیں ہوئے تھے۔

بارودی سرنگوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ سیلابی بارشوں میں بہہ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہیں اور اکثر افغانستان کے سرحدی علاقوں سے بہتی ہوئی بھی وزیرستان میں آجاتی ہیں۔

دہشتگردوں نے جدید ترین ساخت کی ایسی سرنگیں بھی لگائیں جو دیکھنے میں بلکل پتھر کی طرح لگتی تھیں۔ ان کی شناخت آسان نہیں ہوتی۔

بارودی سرنگیں اور پی ٹی ایم

پاک فوج نے یہ سرنگیں لگانے والی ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن کر کے ان کو مار بھگایا، پھر ایک ایک انچ کو چیک کرتے ہوئے بہت بڑا علاقہ کلیئر کر لیا، ساتھ ساتھ آگہی مہم بھی چلا رہی ہے۔

ان کے علاوہ کیا کرنا چاہئے ؟؟؟

یہ وزیرستانی سرخے کبھی نہیں بتاتے۔

البتہ اس وقت بھی بارودی سرنگوں سے متاثر چند لوگوں کو لے کر بیٹھے ہیں۔ فوج اور ملک کو گالیاں دے رہے ہیں اور مزید پیسے مانگ رہے ہیں۔ دھرنے کی قیادت کرنے والا عالم زیب محسود نامی سرخا ہے۔ موصوف فوج اور ایجنسیوں کو گالیاں دینے کی بنیاد پر اپنی بیوی کو امریکہ بھجوا چکا ہے اور اب خود نکلنے کے چکر میں ہے۔

ان کے مطالبات محض پیسوں تک محدود ہیں۔ ہمیں سرکاری نوکریاں دی جائیں، معذوری پیکجز دئیے جائیں اور ہمارے جانور مرے ہیں ان کے بھی پیسے دئیے جائیں۔

بارودی سرنگوں کا اصل ماخذ دہشتگرد ہیں۔ آج تک پی ٹی ایم نے مقامی وزیرستانیوں سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ خدارا دہشتگردی میں حصہ نہ لیں، ٹی ٹی پی کی مدد نہ کریں، ان کو پناہ نہ دیں اور فوج ان کے خلاف آپریشن کرے تو فوج کی مدد کریں۔

الٹا ہر آپریشن میں رکاؤٹ ڈالی، فوج کی جانب سے ریڈ زون قرار دیئے جانے والے علاقوں میں دھڑلے سے جاتے ہیں جن کی ابھی صفائی نہیں ہوئی اوربارودی سرنگوں کے خلاف پاک فوج کی آگہی مہم کا مذاق اڑاتے رہے۔

جانی خیل دھرنے میں باقاعدہ مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائیاں نہ کی جائیں۔ سرچ آپریشنز میں بھی رکاؤٹیں ڈالتے ہیں۔ لیکن دنیا کے سامنے معصوم بن کر بیٹھ جاتے ہیں کہ “ہم امن مانگنے بیٹھے ہیں۔”

عالم زیب محسود نے ایک دو بار یہ حرکت بھی کی کہ فیس بک پر لائیو آکر کوئی چیز دکھانے لگا کہ جی دیکھیں ادھر بارودی سرنگ لگی ہے، پاک فوج کی ٹیمیں دوڑی دوڑی پہنچیں تو موصوف بھاگ گیا اور وہاں کچھ نہ تھا۔یہ بدبخت وزیرستانی سرخے کبھی نہیں چاہتے کہ وزیرستان سے بارودی سرنگیں صاف ہوجائیں اور ان کا بلیک میلنگ کا دھندا بند ہوجائے۔

پی ٹی ایم کے تازہ ترین دھرنے کی خبریں آپ کو اس لیے سوشل میڈیا پر نظر نہیں آرہی ہیں کہ ایک طرف اشرف غنی کی 170 بندوں کی پراپیگینڈا ٹیم تحلیل ہوگئی ہے تو دوسری جانب محسن داؤڑ نے عملاً پی ٹی ایم سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے ٹرینڈ بھی پینل نہیں ہو رہے ہیں۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here