کرک واقعہ: بھارتی میڈیا کا واویلا افسوسناک ہے، مشیربرائے اقلیتی امور

وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کے مشیر برائے اقلیتی امور نے مندر مسمار کرنے کے واقعے کو اچانک رونما ہونے والا قرار دے دیا ہے۔

پشاور میں وزیراعلیٰ کے پی کے مشیر برائے اقلیتی امور نے مشیر مذہبی امور ودیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ واقعے پر بھارتی میڈیا کا واویلا افسوسناک ہے، بھارت کے برعکس پاکستان میں اقلیتوں کو مذہبی اور سماجی آزادی حاصل ہے۔

مشیر برائے اقلیتی امور وزیرزادہ نے کہا کہ کرک میں مندر مسماری واقعے کے بعد حکومتی مشینری فوری حرکت میں آئی، مقدمے کے بعد نامزد تین ملزمان سمیت 45 افراد کو حراست میں لیا۔

مشیر اقلیتی امور وزیراعلیٰ کے پی نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ مندر مسماری کا واقعہ کوئی پلان نہیں تھا، اچانک یہ واقعہ رونما ہوا۔

قبل ازیں وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، واقعہ بین المذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔

علاوہ ازیں چیئرمین ہندو کونسل رمیش کمار کا کہنا تھا کہ کرک واقعے میں ملوث 24 افراد گرفتار ہوچکے ہیں، عدلیہ پر اعتماد ہے کمیشن بنادیا گیا ہےامید ہے مندر دوبارہ بحال ہوگا۔

واضح رہے چیف جسٹس گلزار احمد نے کرک میں مندر کو آگ لگانے کے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے 4 جنوری کو واقعے کی رپورٹ طلب کی۔

چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری ، آئی جی کے پی اور ایک رکنی اقلیتی حقوق کمیشن کو متاثرہ مندر کے دورے کا حکم بھی دیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں مشتعل ہجوم نے ہندو بزرگ کی سمادھی مزار میں توڑ پھوڑ کی اور اسے نذر آتش کردیا تھا، واقعہ کرک کے دور دراز علاقے ٹیری ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here