ترکی کے ڈرون کیسے تباہ کئے گئے؟؟؟

روس نے دعویٰ کر رکھا کہ اس نے ترکی کے 9 بے رکتر ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔

دنیا میں کوئی بھی ہتھیار ایسا نہیں جس کا توڑ نا بنایا جا سکے۔ جدید ہتھیار بنائے جاتے ہیں اور پھر انھیں کاونٹر کرنے والے نظاموں کو بنایا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ انسان کے دنیا میں آنے سے شروع ہوا جو کہ آج بھی جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آگے چل کر ایسے ایسے ہتھیار بنا لئے جائیں گے جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔

ترکی کے بے رکتر ڈرونز کو آذر بائیجان نے آرمینیا کے خلاف استعمال کرکے اسکی فوجی طاقت کی کمر توڑ دی۔ جس کے بعد پوری دنیا امریکی ڈرونز کو بھول کر ترکش ڈرون ٹیکنالوجی کی تعریفیں کرنے کرنے لگی۔

اس لڑائی میں ترکی کو بہت فائدہ ہوا۔ اسکے ڈرونز خریدنے کیلئے کئی ممالک نے ترکی سے معاہدے کر لئے جن میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔

روس کا دعویٰ ہے کہ آذربائجان اور آرمینیا کی جنگ میں 9 بے رکتر ڈرون بھی تباہ ہوئے، جو کہ روس نے تباہ کئے تھے

ہوا کچھ یوں کہ یہ ڈرون اس وقت تباہ کئے گئے جب وہ آرمینیا میں موجود روسی فوجی اڈوں کے قریب چلے گئے، روس کے مطابق اس کی فورسز نے کراسوکھا 4 الیکٹرونک وارفیئر سسٹم کو استعمال کرکے ان ڈرونز کا کنٹرول سسٹم ڈی ایکٹیویٹ کیا جس کے بعد یہ ڈرونز گر کر تباہ ہوئے۔

اگر آپ تباہ شدہ بے رکتر ڈرون کو دیکھیں تو روس کا یہ دعویٰ درست لگتا ہے۔ کیونکہ تباہ شدہ ڈرون کو میزائل سے نہیں مار گرایا گیا۔ تباہ شدہ ڈرون کا ملبہ اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اسکی یہ حالت ذمین پر گرنے سے ہوئی ہے جو کہ کنٹرول ختم ہونے یا کسی فنی خرابی کی وجہ سے گرا ہو گا۔

کراسوکھا 4 براڈبینڈ ملٹی فنکشنل جیمنگ سٹیشن ہے جو کہ ایک ٹرک پر نصب ہے، اس الیکٹرونک وارفیئر سسٹم کو ائیر بورن ریڈار سسٹمز اور یو اے ویز کو کاونٹر کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ یہ سسٹم نچلے مدار میں موجود سیٹیلائٹس کو ہمیشہ کیلئے ناکارہ بنانے اور یہاں تک کہ زمینی احداف کے خلاف بھی کاروائی کر سکتا ہے۔

روس نے اس سسٹم کو شام میں بھی کامیابی سے استعمال کیا ہے، اس سسٹم نے امریکیوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے، کیونکہ اسکی موجودگی کی وجہ سے امریکی سرویلنس ڈرونز کا استعمال نہیں کر پا رہے، روس کے علاوہ اس سسٹم کو الجیریا لیبیا اور ایران استعمال کر رہے ہیں۔

کراسوکھا 4 کی رینج 300 کلومیٹر ہے، اسے روس میزائل لانچرز کی حفاظت کیلئے بھی استعمال کرتا ہے۔ یہ سسٹم ریڈار سیکرز کے حامل میزائلوں کے خلاف بھی بہت موثر ہے۔

چھ اپریل 2017 کو امریکہ نے 59 ٹوماہاک میزائل الشیرت بیس پر داغے تھے جن میں سے 36 اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے میں ناکام رہے، ان میزائلوں کو اسی سسٹم کے ذریعے ناکام کیا گیا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل آف پاکستان نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کام کارپوریشن محمد مسود نے 2016 میں روسی نیوز آوٹلیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان روس سے الیکٹرونک سپورٹ میزرز حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم اس وقت حالات کچھ اور تھے جس کی وجہ سے شائد ایسے سسٹمز کی خریداری نہیں کی جا سکی مگر اب پاکستان اور روس کے مفادات ایک ہیں، لہذا ایسے سسٹمز کی خریداری کے روشن امکانات موجود ہیں۔

روس الیکٹرونک وارفیئر میں بہت کامیاب ہے۔ آنے والے وقتوں میں پاکستان کو ایسے سسٹمز کی زیادہ ضرورت ہوگی۔ یہ سسٹمز لوئٹرنگ میونیشن سے بچاو کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اور آنے والے وقتوں میں جب ڈرون سوارم ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ جائے گا، تو ایسے سسٹمز کی مدد سے ہی بچاو ممکن ہوگا۔ کیونکہ ڈرون سوارمنگ میں سیٹیلائٹ کمیونیکیشن کا استعمال کیا جائے گا اور کراسوکھا جیسے سسٹمز یہ صلاحیت رکھتے رکھتے ہیں کہ اس کمیونیکیشن میں خلل ڈال سکیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here