اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کردیا

پاکستان کی اسرائیل کے ساتھ مشقوں میں شرکت کا ہرگز مطلب نہیں کہ اسرائیل پر پالیسی تبدیل ہوگئی، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ نے پاکستان اور اسرائیل کی مشترکہ نیوی مشقوں میں شرکت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ فلسطین اٹھاتا رہا ہے، فلسطین کا دارالحکومت القدس شریف ہونا چاہیے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پاکستان مشترکہ نیول مشقوں سی بریز بطور مبصرشرکت کررہا ہے ، پاکستان کی شرکت کا ہرگز مطلب نہیں کہ اسرائیل پر پالیسی تبدیل ہوگئی، پاکستان چاہتا ہے اسرائیل 1967 سے پہلے کی پوزیشن پر سرحدوں کو لائے۔ پاکستانی دفتر خارجہ

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان واحد ہے جس نےاسرائیل سےتعلقات مسئلہ فلسطین کے حل سے مشروط کیا ، یہ حل یروشلم کے فلسطینی ریاست کے دارلحکومت کے طور پر قابل عمل ہے۔

خیال رہے پاکستان، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی فوج اسرائیلی آرمی کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں جاری ہے ، جنگی مشقوں میں پاکستان کی بحریہ شرکت کررہی ہے، جنگی مشقیں 28 جون سے 10 جولائی تک جاری رہیں گی۔

یہ مشقیں “بلیک سی” میں ہو رہی ہے اور ان بحری مشقوں میں پاکستان اور اسرائیل کے علاوہ دنیا کے چھ براعظموں سے 32 ممالک کی افواج شامل ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here