تیز ترین سرنڈر

تیز ترین سرنڈر

جدید تاریخ کا سب سے بڑا اور تیز ترین سرنڈر افغان سیکیورٹی فورسز کی شکست کی وجوہات

ساڑھے تین لاکھ کی افغان سیکیورٹی فورسز کو سرنڈر کرنے میں 15 دن اس لیے لگے کہ ‘سٹوڈنٹس‘ پیدل تھے۔ اگر ان کے پاس تیز ٹرانسپورٹ ہوتی تو شائد یہ سرنڈر ایک دن میں ہوجاتا۔

کسی بھی فوج کو لڑنے کے لیے دو چیزیں چاہئیں ہوتی ہیں۔

پہلی ۔ لڑنے کا مضبوط جواز

دوسری ۔۔ مورال اور عوامی حمایت

افغان سیکیورٹی فورسز ان دونوں چیزوں سے محروم تھیں جب کہ سٹوڈنٹس کے پاس یہ دونوں چیزیں تھیں۔ اس محرومی کی چند وجوہات بتاتا ہوں پھر ان کے ثبوت میں کچھ حقائق پیش کرتا ہوں۔

۔1 ۔۔ افغان سیکیورٹی فورسز کو بنانے اور پیسے دینے والی افغانستان پر حملہ آور فوجیں تھیں یعنی افغان فورسز حملہ آؤر فوجوں کے کرائے کے سپاہی تھے۔

۔2۔ افغان فورسز عوام کی حمایت سے قطعاً محروم تھیں چند ہزار سرخوں کو چھوڑ کر۔

۔3۔ ان کی کمانڈ کرنے والی سول افغان حکومت اور جنرل حد درجہ کرپٹ تھے اور ان کو بے رحمی سے پیسہ کمانے کی مشین کی طرح استعمال کر رہے تھے۔

۔4۔ جن کے لیے لڑ رہے تھے وہ ان کو یکلخت چھوڑ کر چلے گئے تو انہیں لگا کہ اب کچھ نہیں بچا۔ اس لیے امریکہ کے جاتے ہی تاش کے پتوں کی طرح گر گئے۔

۔5۔ افغان سکیورٹی فورسز اوپر سے نیچے تک کرپشن اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار تھیں۔

اب چند حقائق پیش کرتا ہوں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ افغان آرمی کے 1 لاکھ سے زائد سپاہی صرف کاغذات میں تھے زمین پر ان کا کوئی وجود نہ تھا ؟؟؟

ان کی تنخواہیں اور مراعات پہلے حامد کرزئی پھر اشرف غنی انتظامیہ اور افغان جنرلز امریکہ سے وصول کرتے رہے۔ سپاہیوں کی کئی کئی مہینوں کی تنخواہیں روک لی جاتی تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے امریکہ کا دیا ہوا اسلحہ بیچنا شروع کر دیا۔ صرف سال 2015ء تک افغان سیکیورٹی فورسز نے 465،000 ہتھیار طالبان کو بیچے۔ بیچی گئی گولیوں کا تو کوئی حساب ہی نہیں۔ پھر انہی ہتھیاروں کے سامنے سرنڈر بھی کیا۔

افغان سیکیورٹی فورسز منشیات کا دنیا کا سب سے بڑا کارٹیل چلا رہی تھیں۔ دنیا میں منشیاب کی سب سے بڑی مقدار افغانستان میں پیدا ہوتی ہے جس کا سارا کنٹرول افغان سیکیورٹی فورسز کے پاس تھا۔

اخلاقی دیوالیہ پن کا یہ عالم تھا کہ چیک پوسٹوں پر جوان لڑکیوں کو روک کر عزتیں لوٹ لینا عام تھا۔ ہر مورچے پر سپاہیوں نے لڑکے رکھے ہوئے تھے جس کا اعتراف ان کے آرمی چیف نے بھی کیا۔

سولینز کے ساتھ ان کا سلوک بدترین تھا۔ امریکہ کی جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اتنے سولین “سٹوڈنٹس” نے نہیں مارے جتنے افغان فورسز نے مارے ہیں۔ سرنڈر سے چند دن پہلے دو ویڈیوز آئیں جس میں ایک میں ایک شخص کو بم پر بیٹھا کر اڑا دیا اور دوسرے کو جیپ کے پیچھے باندھ کر اس وقت تک گھسیٹا جب تک مر نہیں گیا۔

سیکیورٹی فورسز میدان جنگ سے زیادہ سوشل میڈیا پر ایکٹیو تھیں جہاں وہ پاکستان کو اٹک تک فتح کر رہی تھیں۔

یہی وجوہات تھیں کہ جب “سٹوڈنٹان” آئے تو افغان عوام نے ان پر پھول برسائے جب کہ افغان آرمی پر افغانستان میں جگہ جگہ پتھراؤ کیا گیا۔

افغان سیکیورٹی فورسز کی قیادت کا یہ حال تھا کہ جب ایک برطانوی جنرل افغان آرمی چیف سے ملا تو موصوف نے برطانوی جنرل سے پہلا سوال یہ کیا کہ “لندن میں اچھی لوکیشن پر پلاٹ کتنے کا مل جائیگا ؟؟؟

امریکہ اور نیٹو کی جانب سے ملنے والی پولیس کی تنخواہوں کا بڑا حصہ پولیس افسران اور غنی انتظامیہ ہڑپ کر جاتی تھی۔

فوکس نیوز کے مطابق صرف پولیس فنڈ سے افغان آفیشلز نے 300 ملین ڈالر کی چوری کی۔

اسی لیے امریکہ نے پولیس کو موبائل پر براہ راست تنخواہیں بھیجنی شروع کیں۔ جب ان کو پوری تنخواہیں ملنی شروع ہوئیں تو پوری افغانستان کی پولیس کو لگا کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ زیادہ پیسے کمانے کے لیے پولیس والے سٹوڈنٹس کو آپریشنز کی انفارمیشن دیتے تھے اور بدلے میں ان سے پیسے لیتے تھے۔

کابل کے مرکزی بینک سے حامد کرزئی کا بھائی محمود کرزئی 1 ارب ڈالر لے اڑا۔ ذرا سوچیں جس ملک کا کل جی ڈی پی ہی 12 ارب ڈالر ہو اس میں صرف ایک فراڈ 1 ارب ڈالر کا۔

تعلیم کی بات کریں تو 80٪ تعلیمی بجٹ کرزئی اور بعد میں غنی انتظامیہ ہڑپ کرتی رہی۔ کچھ افغان سکیورٹی فورسز کے پاس جاتا تھا اور باقی تعلیمی اداروں کے افسران کے پاس۔

ہر ایک نے کاغذات میں تین تین چار چار گھوسٹ ٹیچرز بھرتی کروا رکھے تھے جن کی وہ تنخواہیں وصول کرتے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف 20٪ ٹیچرز حقیقت میں موجود تھے اور پڑھا رہے تھے باقی کا کوئی وجود نہ تھا۔

امریکی اداروں کی رپورٹ کے مطابق کرزئی اور غنی اتنظامیہ نے افغان عوام کی صحت کے لیے منظور کیے گئے یو ایس ہیلتھ پروگرام میں 190 ملین ڈالر ہڑپ کیے۔ یعنی منظور کیے گئے پیسوں کا دسواں حصہ بھی عوام تک نہیں پہچنے دیا۔

یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے یو ایس ایڈ کے باؤجود افغانی پشاور علاج کرانے آتے رہے۔ صرف گاڑی رجسٹر کرنے کے لیے 27 دستخط اور ڈرائونگ لائسنس کے لیے 13 مہریں درکار تھیں جن میں سے ہر ایک کے عوض رشوت دینی پڑتی تھی۔ جس سے تنگ آکر افغانی گاڑیاں رجسٹر ہی نہیں کراتے تھے اور چیک پوسٹون پر پولیس اور فوجیوں کو کم پیسے دے کر اپنی گاڑیاں دوڑاتے رہے۔

کلچر کا وزیر کلچر کی ترقی کے لیے انڈیا سے ملنے والی ساری ڈونیشن ہضم کر گیا اور حساب مانگنے پر استعفی دے کر چلتا بنا۔ سال 2015ء میں اشرف غنی حکومت میں تیل کا ٹھیکہ دینے کے عوض ایک افغان وزیر نے 200 ملین ڈالر رشوت وصول کی۔

اشرف غنی کی حکومت نے بدعنوانی کے تمام ریکارڈ توڑے اور سرکاری اداروں میں سالانہ 3 ارب ڈالر رشوت لی جاتی تھی۔ یعنی اتنا افغانستان کی حکومت ٹیکس جمع نہیں کرتی تھی جتنی رشوت لے رہی تھی۔

اشرف غنی اتنا کرپٹ تھا کہ جب ہر طرف سے گھر گیا تو بھاگتے بھاگتے سرکاری ملازمین کی 169 ملین ڈالر کی تنخواہیں چار گاڑیوں میں بھر کر ساتھ لے گیا۔ جتنے ہیلی کاپٹر میں بھر سکتا تھا بھر کر باقی اسی طرح چھوڑ گیا۔

افغان حکومت کی کرپشن، نااہلی اور بدانتظامی نے افغان سیکورٹی فورسز کو کسی لائق نہ چھوڑا۔ افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت انڈیا فوج نے کی جن کی نااہلی دنیا بھر میں مشہور ہے۔ خود انڈیا کی دس لاکھ فوج چھوٹے سے مقبوضہ کشمیر پر قابو پانے میں ناکام ہے۔

لیکن اس تربیت کے بدلے انڈیا نے افغان سیکیورٹی ایجنسی این ڈی ایس کا سارا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اینٹلی جنس ایجنسیاں ہی پراکسی جنگوں میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

لیکن انڈیا نے افغان ایجنسی کو بجائے “سٹوڈنٹان” سے نمٹنے کے پاکستان کے پیچھے لگا دیا۔ این ڈی ایس کی مدد سے پاکستان کے خلاف کئی دہشتگرد تنظمیں منظم کیں اور پاکستان میں دہشتگردی کا بازار گرم کروایا۔ وہ اپنے ملک کا دفاع چھوڑ کر پاکستان میں خونریزی میں مصروف ہوگئیں۔ نتیجے میں افغان سٹوڈنٹس کی طاقت بڑھتی چلی گئیی۔ وہ فنڈز جن کو اپنے ملک کے دفاع میں خرچ کرنا چاہئے تھا ان سے پاکستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور پی ٹی ایم جیسی تحریکوں کی فنڈنگ کی جانے لگی۔

یہ ہیں وہ حقائق جس نے افغان فورسز سے لڑنے کا جذبہ اور مورال دونوں چھینا اور نتیجے میں انہوں اپنے سے پانچ گنا چھوٹے لشکر کے سامنے دنیا کا تیز ترین سرنڈر کر کے عالمی ریکارڈ بنا دیا۔ سرنڈر کی ایسی مثال شائد دوبارہ کبھی نہ ملے۔

ایک مغربی دانشور افغانستان پر لگائے گئے سینکڑوں ارب ڈالر ڈوبتے دیکھ کر چیخا کہ جتنی رقم افغانستان کی تعمیر نو پر لگائی گئی ہے اس سے آدھی میں تو دوسری جنگ عظیم کے بعد پورا یورپ بن گیا تھا۔

جوبائڈن نے افغانستان کی شکست کا ذمہ دار افغانستان کو ہی قرار دیا۔ اس نے کہا کہ ساڑھے تین لاکھ افغان آرمی جدید ہتھیاروں سے لیس، ائر فورس کی مدد حاصل، اگر 60 یا 70 ہزار کے نیم مسلح لشکر سے ہارتی ہے تو یہ ان کا قصور ہے۔

ساتھ ہی کہا کہ جو جنگ افغان آرمی خود نہیں لڑنا چاہتی وہ ان کے لیے امریکہ کیوں لڑے ؟؟؟

میں جو بائڈن سے متفق ہوں۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here