افغانستان میں جاری کشیدگی

 آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جاری کشیدگی میں پاکستان کا کوئی پسندیدہ نہیں، ہم افغانستان میں دیرپا امن واستحکام میں مدد کے خواہاں ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جرمنی ،اٹلی،ہالینڈ اورفرانس کے سفیروں کی ملاقات ہوئی ، ملاقات میں باہمی دلچسپی اموراورعلاقائی سیکیورٹی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا جبکہ افغانستان صورتحال سمیت یورپی یونین سے باہمی تعاون کےامور بھی زیر غور آئے۔

اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، افغانستان میں جاری کشیدگی میں پاکستان کاکوئی پسندیدہ نہیں، ہم افغانستان میں دیرپا امن واستحکام میں مدد کے خواہاں ہیں۔

جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان یورپی یونین ممالک سےتعلقات کوخصوصی اہمیت دیتا ہے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ مفادات کی بنیاد  پرتعاون کے فروغ کےخواہاں ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سفرا نے خطے میں امن واستحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ہرسطح پر پاکستان کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی عزم کا اعادہ کیا۔

 وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان افغان مہاجرین کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرسکتا، افغان عوام طالبان کا استقبال کررہے ہیں تو اس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ہے۔

 ’کوئی یہ نہ سمجھے پاکستان کسی چیز کیلئے بے تاب ہے، ہم اپنے قومی مفاد میں بات کر رہے ہیں‘۔

افغان سفیرکی بیٹی اغوا ہوئی اور نہ ہی کوئی تشدد کیا گیا، افغان حکام جھوٹی رپورٹ پر معافی مانگیں۔

معید یوسف کا کہنا تھا کہ افغان فوج طالبان سے لڑنے کے بجائے راہ فرار اختیار کررہی ہے، افغان حکام صرف پاکستان پر الزام تراشیوں میں مصروف ہیں، ساری توانائیاں صرف پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائے جانے والے جعلی ٹرینڈز پرلگائی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان عوام طالبان کا استقبال کررہے ہیں تواس میں ہمارا کیا قصور ہے، ہم توشروع سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں، افغان طالبان اور میز پر بیٹھ کر بات چیت سے مسائل حل کریں اور پاکستانیوں پر الزام تراشی چھوڑ دیں‘۔

مشیر برائے قومی سلامتی نے کہا کہ افغان مہاجرین کا بوجھ مزید برداشت نہیں کرسکتے، عالمی برداری کو اس معاملے میں کردار ادا کرنا چاہیے، افغان جنگ کا پاکستان سے بڑا متاثر کوئی بھی ملک نہیں ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here