جنرل باجوہ نے تاحال امریکہ کا کوئی دورہ نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں جنرل باجوہ نے اعلان کیا تھا کہ " دہشت گردی کی آڑ میں کسی دشمن نے کوئی بھی مہم جوئی کی تو چاہے وہ کتنا ہی بڑا اور زور آور کیوں نہ ہو اس کو خمیازہ بھگتنا ہوگا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0
887

سپاہ سالار قمر جاوید باجوہ اور امریکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ !

جنرل باجوہ نے تاحال امریکہ کا کوئی دورہ نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں جنرل باجوہ نے اعلان کیا تھا کہ ” دہشت گردی کی آڑ میں کسی دشمن نے کوئی بھی مہم جوئی کی تو چاہے وہ کتنا ہی بڑا اور زور آور کیوں نہ ہو اس کو خمیازہ بھگتنا ہوگا ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ عرصہ پہلے پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی سینٹ کے بعض اراکین نے جنرل باجوہ سے راول پنڈی (جی ایچ کیو) میں ملاقات کی۔ ان میں سے چند ایک نے شکایت کی تھی کہ پاکستانی سپاہ سالار نے انہیں زیادہ سنجیدہ نہیں لیا اور کئی باتوں کا جواب محض طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ دیا ۔۔۔۔

جنرل باجوہ نے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل سے ملاقات میں کہا کہ” ‘پاکستان امریکہ سے کسی مادی یا مالی امداد کا خواہاں نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہماری قربانیوں کو تسلیم کرے ” ۔۔۔

اسی ملاقات میں پاکستانی سپاہ سالار نے امریکی ایلچی پر واضح کیا کہ ” افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کوششیں کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہمارے اپنے قومی مفاد میں اور قومی پالیسی کے مطابق ہیں ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انڈیا کا طویل دورہ کرنے والے امریکی سیکٹری دفاع جنرل جیمز میٹس اپنے ” ڈو مور ” کے پیغام کے ساتھ چند دن پہلے پاکستان کے دورے پر آئے تو جنرل باجوہ نے انکا استقبال نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

نیتجے میں پہلی بار امریکی ایلیچی کو ریسیو کرنے ائر پورٹ کوئی نہیں گیا۔ نہ ہی اسکو کوئی پروٹوکول دیا گیا۔ سنا ہے کوئی فوجی افسر گھر جا رہا تھا تو اسے کہا گیا کہ امریکی ایلچی کو راستے سے لے لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 🙂

جنرل جیمز میٹس کے ساتھ جنرل باجوہ کی کیا بات چیت ہوئی یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے لیکن اس ملاقات کے فوراً بعد پاک فوج نے امریکی ڈرونز گرانے کا اعلان کیا۔ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے امریکی ڈرونز مار گرانے کا حکم دے دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکہ اور افغانستان کے حوالے سے پاکستانی سپاہ سالار کا موقف ہے کہ ۔۔۔۔۔ ” ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی افغانستان سے ہو رہی ہے لیکن امریکہ یا کوئی اور یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ پاکستان سے افغانستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔ نہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ثابت کر سکتا ہے لیکن آدھے افغانستان پر دہشت گردوں کا قبضہ وہ خود تسلیم کرتے ہیں ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔

” اب دنیا کو ڈو مور کرنا ہوگا ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکہ کے خلاف یہ سخت موقف رکھنے کے بعد جنرل باجوہ نے اپنی توجہ خطے کے ممالک پر مرکوز کر رکھی ہے اور اب تک افغانستان، روس، چین، ترکی، سعودی عرب, اور ایران کے کئی اہم دورے کر چکے ہیں۔

گمان غالب ہے کہ ان دوروں کی وجہ سے پاکستان پر مسلط ” بدمعاشیہ ” کے پیٹ میں مسلسل مروڑ اٹھ رہے ہیں جسکے بعد سینٹ کے پونی والے چیرمین رضا ربانی نے انہیں سینٹ طلب کیا ہے جہاں وہ ملکی سیکورٹی صورت حال اور غیر ملکی دوروں پر بریفنگ دینگے۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here