شہریوں کے لیے کرونا ویکسین کب سے دستیاب ہوگی؟ چین نے تاریخ بتادی

0
39

محکمہ صحت کے سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ چینی شہریوں کو کرونا ویکسین نومبر تک پہنچا دی جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں انسانوں کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ زکام کا وائرس جلد اثر انداز ہوتا ہے، جبکہ کرونا وائرس کے حوالے سے بھی یہی صورت حال ہے، وائرس کم درجہ حرارت میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ طبی ماہرین نے کروناوائرس سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس اب موسمی بیماری بن سکتا ہے

روس نے گزشتہ دنوں اپنے شہریوں کے لیے کرونا ویکسین مارکیٹ میں پہنچا دی ہے اب چین کے محکمہ صحت کے سینئر اہلکار نے تصدیق کی کہ چین میں ویکسین نومبر تک نہ صرف تیار ہوجائے گی بلکہ اسے عوام تک پہنچا دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: کروناویکسین: چین سے بڑی خوشخبری کا امکان

انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت چین میں چار میں سے تین ویکسین کے ٹرائلز جولائی سے جاری ہیں، جس کے تحت ہم نے رضاکاروں کا انتخاب کیا اور پھر انہیں یہ ویکسین دی گئی تاکہ متعارف کرائے جانے سے قبل اس کے نتائج دیکھ سکیں‘۔

چین کے سرکاری چائنا نیشنل فارماسیوٹیکل گروپ کے بینر تلے کام کرنے والی کمپنی سینو فارم اور سینوواک بائیو ٹیک اس وقت تین ویکسینز تیار کررہی ہیں جنہیں صرف ہنگامی حالات میں رضاکاروں کے استعمال کے لیے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ ایک اور ویکسین کے تجربات جون سے چینی فوج پر کیے جارہے ہیں۔

چین کی سرکاری کمپنی نے ویکسین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائلز کے نتائج کا اعلان کیا اور بتایا تھا کہ اُن کا تجربہ خاصی حد تک کامیاب رہا کیونکہ دوا کوویڈ سے بچانے اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس کی تیار کردہ ویکسین کی ملک میں بڑے پیمانے پر تقسیم شروع

سی این بی جی کے سیکرٹری زاؤ سونگ نے چائنا نیشنل ریڈیو کو بتایا کہ اب تک لاکھوں شہریوں کو کمپنی کی 2 تجرباتی ویکسینز دی جاچکی ہیں، جو اس وقت کلینکل ٹرائلز کے تیسرے مرحلے سے گزر رہی ہیں، اب تک کوئی مضر اثر سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی شخص وائرس سے متاثر ہوا‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک بار ویکسین لگنے کے بعد ایک فرد ممکنہ طور پر تین سال تک کرونا سے محفوظ رہ سکتا ہے،جانوروں پر ہونے والے تجربات کے نتائج اور دیگر تحقیقی نتائج سے بھی یہی عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین سے ملنے والا تحفظ ایک سے 3 سال تک برقرار رہ سکتا ہے’۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here