چین کے الیکٹرانک وارفیئر طیارے جے سکسٹین ڈی کی خصوصیات اور پاکستان

جے 16 ڈی ایک ایسا طیارہ ہے جو کہ الیکٹرونک وارفیئر کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ نا صرف ریڈاروں کو جام کر سکتا ہے، انھیں لمبے فاصلے سے تباہ کر سکتا ہے بلکہ فضائی لڑائی کیلئے اسے پی ایل 15 اور پی ایل 21 میزائلوں سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ یوں یہ طیارہ ملٹی رول کیٹیگری میں شامل ہے۔ جے سکسٹین ڈی دراصل جے 16 کا الیکٹرونک وارفیئر ویرئینٹ ہے۔

چین کے مطابق اس طیارے میں کمپوزٹ مٹیریل زیادہ استعمال کیا گیا ہے اور اسکی باڈی پر ریڈار ابزوربنٹ پینٹ استعمال کیا گیا ہے۔ یوں یہ طیارہ ہلکا ہونے کے ساتھ ساتھ سٹیلتھی بھی ہے۔ چینیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طیارے کا ریڈار کراس سیکشن انتہائی کم ہے۔ ریڈار کراس سیکشن کتنا ہے اس حوالے سے معلومات میسر نہیں ہیں۔ جے 16ڈی سے متعلق مزید معلومات کی طرف بڑھتے ہیں، اس طیارے میں انفراریڈ سینسرز اور 30 ملی میٹر گن موجود نہیں ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ طیارہ ذیادہ فاصلے سے دشمن سے لڑنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اسے ڈاگ فائٹ کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ طیارے کی باڈی پر مختلف جگہوں پر الیکٹرانک وارفیئر انٹینا نصب کئے گئے ہیں۔
J-16d Electronic warfare urdu

طیارے کی نوز کون میں تبدیلی کی گئی ہے جو کہ ممکنہ طور پر ایڈوانسڈ اعئیسا ریڈار کو انسٹال کرنے کیلئے کی گئی ہے۔ اسکے اعئیسا ریڈار کی رینج کی حوالے سے مستند تفسیلات میسر نہیں مگر چین اسے نا صرف پی ایل15
بلکہ پی ایل 21 سے لیس کر رہا ہے تو یقینی طور پر اسے زیادہ رینج کے حامل ریڈار سے لیس کیا گیا ہے۔ میرے نزدیک اسکے ریڈار کی رینج ساڑھے 3 سو کلومیٹر سے 4 سو کلومیٹر یا اس سے بھی کچھ زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایک اور تبدیلی جو اس طیارے میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ ہے ونگ ٹپس پر الیکٹرانک وارفیئر پوڈز کی موجودگی جو کہ اسکے پہلے ورژن جے 16 میں نہیں ہیں۔ انکا جنگ یا کسی آپریشن میں کیا کردار ہوتا ہے یہ آگے چل کر آپ سمجھ سکیں گے۔ اس طیارے میں جے 16 کی نسبت مختلف اور ایڈوانسڈ ایویونکس انسٹال کئے گئے ہیں۔ جے 16 ڈی چونکہ الیکٹرونک وارفیئر طیارہ ہے تو یہ دو سے تین جیمنگ پوڈز بھی کیری کرتا ہے۔

J 16D Jamming POD

ہم سمیت بہت سے لوگ یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان کو جے ایف سیونٹین پروگرام اور پروجیکٹ عزم پر ہی خرچہ کرنا چاہیے اور مزید طیاروں کی خریداری سے پرہیز کرنا چاہئے۔ مگر ایک بات واضح طور پر بتا دوں کہ جو کام جے 16 ڈی کر سکتا ہے وہ جے ایف سیونٹین نہیں کر سکتا اور پروجیکٹ عزم میں تیار ہونے والے ففتھ جنریشن طیارے کو آپریشنل ہونے کیلئے ابھی بہت سا وقت چاہئے۔

جے ایف سیونٹین لائٹ کمبیٹ طیارہ ہے، اور سنگل انجن استعمال کرتا ہے۔ یہ طیارہ نا تو ایسے ریڈار سے لیس کیا جا سکتا ہے جو جے 16 ڈی میں استعمال ہو رہا ہے۔ کیونکہ اسکا ایک انجن ایسے ایویونکس اور باقی الیکٹرونک وارفیئر سسٹمز کو پاور دینے کیلئے ناکافی ہے۔

دوسری بات یہ کہ جے ایف سیونٹین بہت کم پے لوڈ کیری کرتا ہے۔ جے 16 ڈی ایک ہی وقت ائیر ٹو ائیر ،اینٹی ریڈی ایشن میزائلوں اور دو سے تین جیمنگ پوڈز سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ جے ایف سیونٹین یہ سب ایک ساتھ کیری نہیں کر سکتا۔ مختصر یہ کہ اس مقصد کیلئے لائٹ کمبیٹ طیارے کی نہیں بلکہ ہیوی گیٹیگری کے طیارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ جے ایف سیونٹین ایک جیمنگ پوڈ کے ساتھ اپنا بچاو ضرور کر سکتا ہے، مگر الیکٹرانک اٹیک کرنے کیلئے مختلف پوڈز کیری کرنی پڑتی ہیں جو کہ مختلف ریڈار فریکوینسیز کیلئے ہوتی ہیں، اور ان کے ذریعے دشمن ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم کو مفلوج کیا جاتا ہے۔یہ بات تو کلئیر ہو گئی کہ یہ کام ہم جے ایف سیونٹین سے نہیں لے سکتے اسکے لئے ہمیں جے 16 ڈی جیسے ڈیڈیکیٹڈ الیکٹرونک وارفیئر پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔

Why Pakistan Need Aircraft Like J-16D

بھارت اپنا فضائی دفاعی نظام بہتر سے بہتر کرنے میں مصروف ہے اور پاکستان ائیر فورس کے پاس موجود الیکٹرونک وارفیئر طیاروں پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان ائیر فورس اس وقت فالکن 20 استعمال کرتی ہے۔ جو کہ ایک طرف تعداد میں ناکافی ہیں اور دوسری طرف ہتھیاروں سے لیس نہیں ہیں۔ یہ طیارے دوسرے لڑاکا طیاروں جیسی رفتار بھی نہیں رکھتے۔

جب دشمن ملک میں فضائی کارروائی کرنے کیلئے طیارے بھیجے جاتے ہیں تو ان طیاروں کو سب سے زیادہ خطرہ دشمن کے ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم سے ہوتا ہے، اسلئے سب سے پہلے متعلقہ علاقے میں دشمن ائیر ڈیفنس سسٹم کو مفلوج کیا جاتا ہے۔ جو کہ مخصوص طیارے کرتے ہیں۔ پھر باقی طیارے دشمن کی حدود میں جا کر کاروائی کرتے ہیں۔ اب جے 16 ڈی جیسے طیارے ایسے موقع پر کیسے کام کرتے یہ آپ کو بتایا جائے گا۔ جے 16 ڈی اینٹی ریڈی ایشن یعنی ریڈاروں کو تباہ کرنے والے میزائلوں ،لانگ رینج ائیر ٹو ائیر میزائلوں اور الیکٹرونک وارفیئر کیلئے مختلف پوڈز سے لیس ہے،

دشمن کے علاقے میں داخل ہوتے ہی اسکی ونگ ٹپ پر موجود الیکٹرونک وارفیئر پوڈز دشمن کی الیکٹرونک ڈیوائسسز کو ڈیٹیکٹ کرنے لگتی ہیں اور ائیر ڈیفنس کے ریڈارز کی فریکیوینسی کو پروسیس کرکے طیارے کے سینٹرل کمپیوٹر سسٹم کو بھیج دیتی ہیں، جسکے بعد یہ کمپوٹر فریکیوینسی کی معلومات جیمنگ پوڈز کو بھیج دیتا ہے۔ اور پھر جیمنگ پوڈ اس مخصوص فریکوئنسی کو جیم کر دیتی ہے۔ یہ تو ہوگیا الیکٹرونک اٹیک جو دشمن ائیر ڈیفنس سسٹم پر ہوا ہے۔ اب اگر ضرورت ہو تو جے 16 ڈی اینٹی ریڈی ایشن میزائل کو لانچ کرکے ائیر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کر سکتا ہے۔ اس کاروائی کے دوران اگر دشمن اپنے طیاروں کو اڑا دے تو جے 16 ڈی نا صرف زمینی خطرے سے نمٹ سکتا ہے بلکہ فضائی خطرے کو بھی سر اٹھانے سے پہلے ختم کر سکتا ہے۔ کیونکہ یہ ایسے ائیر ٹو ائیر میزائلوں سے لیس ہوگا جو 300 سے 400 کلومیٹر تک مار کرتے ہیں۔

تو یہ رول ادا کرتا ہے جے 16 ڈی جب آپ کی ائیر فورس دشمن ملک میں جا کر کاروائی کرتی ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس وقت پاکستان کو رافال کو کاونٹر کرنے کیلئے بھی ایئرکرافٹس کی ضرورت ہے تو اس حوالے سے بھی دیکھا جائے تو جے 16 ڈی ایک بہترین آپشن ہے۔ باقی رہی بات جیمنگ پوڈز کی جو جے 16 ڈی کیری کرتا ہے تو انکی تفصیلات میسر نہیں ہیں۔ البتہ یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ چائنہ ان جیمنگ پوڈذ میں اعئیسا ٹیکنالوجی استعمال کررہا ہے۔

یہ وہ معلومات ہیں جو ابھی تک پبلک کی گئی ہیں، اور آپ جانتے ہیں کہ چین اپنے ہتھیاروں کی زیادہ تر معلومات کو ظاہر نہیں کرتا۔ تو جتنا میں نے اس طیارے کے بارے میں بتایا یہ طیارہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اسکے علاوہ آپ جانتے ہیں کہ امریکہ افغانستان سے اب نکل رہا ہے، اور یہاں سے نکلتے ہی اسے پاکستان کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور جتنا میں جانتا ہوں ہمیں ایف سکسٹین کی فلیٹ کو برقرار رکھنے میں مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو مگر یہ ممکن ہے، اور اگر ایسا ہوا تو پاکستان ائیر فورس کو اسکا حل تلاش کرنا ہوگا۔ کیونکہ ایف سکسٹین کے سپئیر پارٹس پاکستان میں تیار نہیں ہوتے۔

امریکہ آنے والے دنوں میں پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ وہ اسلئے کہ ایک طرف امریکہ سی پیک کے خلاف ہے اور دوسرا جو ممالک چین کے خلاف ہیں انھیں مظبوط دفاعی نظام فراہم کر رہا ہے۔ تائیوان اور بھارت کی مثال آپ کے سامنے ہے، اسکے علاوہ روس کواڈ کے خلاف جن ممالک سے رابطے میں ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پھر افغانستان سے امریکہ کے جانے کے بعد جو خلا پیدا ہوگا اسے پر کرنے کیلئے چین اور روس تیار بیٹھے ہیں اور یہ سب پاکستان کی مرضی کےبغیر نا ممکن ہے۔ آپ یہ بات زہن نشین کر لیجئے کہ امریکہ جیسے ہی یہاں سے نکلے گا امریکہ پاکستان سے کھل کر دشمنی نبھائے گا۔ یہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے ،تو ممکن ہے کہ ایف سکسٹین کے سپئیر پارٹس ہمیں ملنا بند ہو جائیں۔ اس صورتحال میں بھی ہمیں طیارے خریدنے پڑیں گے کیونکہ یہ خلا جے ایف سیونٹین پر نہیں کر سکتا۔

جہاں تک رہی بات جے ایف سیونٹین بلاک تھری کی تو یہ طیارہ پاکستان ائیر فورس کو ایک نئی طاقت ضرور دے گا مگر ہم ہر طیارے کی جگہ جے ایف سیونٹین کو نہیں دے سکتے۔ پاکستان جو دوسرا طیارہ بنا رہا ہے جس نے ایف سکسٹین کی جگہ لینی تھی وہ ففتھ جنریشن طیارہ ہے۔ مگر اس طیارے کو ابھی ائیر فورس میں شامل ہونے میں بہت وقت درکار ہے۔ امریکہ کی طرف سے ایف سکسٹین کے سپئیر پارٹس کی فراہمی معطل ہونے کی صورت میں چند ہفتوں میں ہی ہمارے یہ طیارے گراونڈ ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔


لہذا پاکستان ائیر فورس کو اپنے ففتھ جنریشن ایئرکرافٹ کی تیاری اور اسے انڈکٹ کئے جانے تک کوئی اور طیارہ انڈکٹ کرنا ہوگا۔ جو کہ ممکن ہے جے 10 سی ہو، لیکن ایف سکسٹین یا جے 10 سی کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان ائیر فورس کو ڈیڈیکیٹڈ الیکٹرونک وارفیئر فائٹر جیٹس خریدنے کی ضرورت ہے۔ اور جہاں تک رہی بات جے 16 ڈی کی تو پاکستان ائیر فورس کو اس کے کم سے کم دو سکواڈرنز خریدنے چاہیں۔ کیونکہ یہ طیارہ ایک ہی وقت میں فضائی برتری کا بھی حامل ہے، اور زمینی احداف کو بھی لمبے فاصلے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور اسکی الیکٹرونک وارفیئر صلاحیتوں کی تو کیا ہی بات ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here