فوج لے آؤ یا مشین گنیں لگاؤ’ بھارتی کسان مودی سرکار کے آگے ڈٹ گئے

0
29

 مودی سرکار نے کشمیر اور بھارتی مسلمانوں کے بعد کسانوں کو اپنا شکار بنالیا، کسانوں کے معاشی قتل عام کیخلاف سکھوں کے نعروں سے مغربی دنیا بھی گونج اٹھی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد کشمیر کے عوام اور بھارتی مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ ٹوٹنا شروع ہوگئے تھے تاہم اب مودی سرکار کے کالے قوانین نے پنجاب کے کسانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

بی جے پی کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر ساری کے دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے، بھارت کے سراپا احتجاج کسانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لندن میں احتجاج شروع ہوگیا اور ساتھ ہی کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی بھارتی کسانوں کے مظاہرے کی حمایت کی ہے۔

کینیڈین وزیراعظم کی جانب سے کسانوں کی حمایت کیے جانے کی پاداش میں بھارتی حکام نے کینیڈین ہائی کمشنر کو طلب کرلیا۔

دوسری جانب سکھ رہنما امر جیت سندھ نے پاکستانی حکومت، اداروں اور میڈیا سے ہندوتوا کے خلاف مدد کی اپیل کی ہے جبکہ بھارتی افواج میں موجود سکھ فوجیوں کو بھی خالصتان تحریک میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت اور کٹھ پتلی میڈیا کسانوں کی آواز کو دبا رہا ہے اور ان کسانوں کو خالصتانی کہہ کر الزامات لگائے جاتے ہیں۔

بھارتی کسانوں کی دلی چلو تحریک کامیابی سے جاری ہے، دلی چلو تحریک نے مودی سرکاری کا جینا محال کررکھا ہے اور کسانوں کی تحریک پورے ملک میں پھیل چکی ہے اور کسانوں سے مذاکرات بھی ناکام ہوگئے، جس کے بعد مودی سرکار اوچھے ہتکھنڈوں پر اتر آئی ہے۔

مودی سرکار نے شدت پسندی کی انتہا کرتے ہوئے سابقہ بھارتی کرکٹر یوراج سنگھ کے والد کو بھی دھمکیاں دے ڈالیں لیکن کسانوں نے مودی حکومت کے ظلم و ستم کے آگے سر جھکانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بھی شرط منظور نہیں چاہے فوج لے آؤ یا سی آر پی، بی ایس ایف لے آؤ یا مشین گنیں لگاؤ یا ٹینک سے بھون ڈالو۔

تمھیں لگ پتہ جائے گا کہ پنجاب کے لوگ کس مٹی کے بنے ہیں، دشمنی کا جو قصہ آج جوڑ دیا ہے اسے ہم پشتوں تک نبھائیں گے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کسانوں کے معاشی قتل عام میں ملوث ہے، نئے قوانین میں نجی خریداروں کو کسانوں سے پیداوار خرید کر ذخیرہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور کسانوں سے متعلق نئے قوانین میں کنٹریکٹ فارمنگ قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے تحت آڑہت کی منڈیاں ختم ہوجائیں گے اور کسانوں کو نجی خریدار مناسب قیمت نہ دے تو پیداوار منڈی میں فروخت نہیں ہوگی۔

کسانوں کی دہلی چلو تحریک اور مسلسل مظاہروں کے باعث بھارتی دارالحکومت دہلی اورآس پاس کے علاقوں کی سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here