جے یو آئی کا ایک اور مفتی صلاح الدین

چمن سے تعلق رکھنے والے جمیعت کے ایم این اے صلاح الدین ایوبی نے چترال کی 14 سالہ لڑکی سے شادی کرلی۔ الزام لگایا جارہا ہے کہ اس نے لڑکی خریدی ہے۔ کم عمر لڑکی سے شادی کرنے پر صلاح الدین ایوبی کے خلاف ایف ائی آر درج وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں۔ لیکن امید ہے کہ کوئی اس کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکے گا۔

اس سے پہلے جے یو آئی ہی کے مفتی صلاح الدین کو اقرار الحسن نے لڑکی کو ہراساں کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ موصوف پر گومل یونیورسٹی کی پچاس سے زائد طالبات کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے الزامات تھے۔

پکڑے جانے پر فرمایا تھا کہ مجھ سے ویسے ہی غلطی ہوئی جیسے حضرت آدم سے ہوئی تھی۔ نعوذ باللہ

اس مفتی کا فارم ھاؤس بھی ہے جہاں بلیک میل ہونے والی طالبات کو لے جایا کرتا تھا اور اسی فارم ھاؤس میں فضل الرحمن اور اکرم درانی کا انا جانا تھا۔

شائد آپ کو یاد ہو کہ مولانا فضل الرحمن کی المصطفی ٹاور کی کہانی بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش رہی۔ جہاں سال 2003ء میں اس نے ایک “بھانجی” رکھی ہوئی تھی جس سے ہر ہفتے ملاقات فرمایا کرتے تھے۔ انکار وہ آج بھی نہیں کر سکتے۔ المصطفی ٹاور کے اس وقت کے رہائشیوں کو آج بھی یاد ہے۔

فضل الرحمن کے حوالے سے تو فیض الحسن چوہان نے قسم کھائی تھی کہ پکا شرابی ہے۔ خون کا ٹسٹ کریں اگر الکوحل نہ نکلی تو سر کاٹ دیں۔

جے یو آئی ہی کے ایک اور ایم این اے اور افغانی راہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کے حوالے سے مشہور ہے کہ موصوف نے ایک کالج کی لڑکی کو اغواء کر کے زبردستی اس سے شادی کی تھی۔ یہ موصوف بھی چمن سے تعلق رکھتے ہیں۔

جے یو آئی کے بدنام زمانہ قاری شمس کا کیس آپ لوگوں کو یاد ہوگا۔ جس نے ایک بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ڈی این اے ٹسٹ اور بچے کی گواہی کے باوجود اس قاری کو مفتی کفایت نے پناہ دی اور بعد میں اس شرط پر پولیس کو سونپا کہ تحقیقات نہ کی جائیں۔

وہاں یہ بات مشہور تھی کہ قاری موصوف مفتی کفایت سمیت جے یو آئی کے کئی راہنماؤوں کو مدرسے کے معصوم بچے سپلائی کرتا تھا۔

یاد رہے اسی قاری شمس نے اپنے امیر فضل الرحمان کی “سیرت” پہ کتاب بھی لکھی ہے جو جے یو ائی کی بائبل ہے۔ اس میں شائد المصطفی ٹاور میں ایک ضرورت مند خاتون کی باقاعدگی سے مدد کرنے کا تذکرہ نہیں کیا۔

جے یو آئی بلوچستان کے منظور بینگن کے بیانات بھی آپ نے سماعت فرمائے ہونگے۔ موصوف نے جے یو آئی کے زیر انتظام مدارس کو زنا کے اڈے قرار دیا تھا اور مدارس کے طلباء کے حوالے سے عجیب و غریب بکواس کی تھی۔

یہ وہی شیاطین ہیں جن کا تذکرہ قرآن میں آیا ہے جو انسانوں میں سے ہوتے ہیں۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here