مودی کیسے بھارتی میڈیا کو پاکستان مخالفت میں استعمال کرتا رہا ؟؟؟ چشم کشا حقائق

چودہ فروری دو ہزار انیس” پلوامہ واقعہ” دنیا بھر میں بھارت کے لئے جگ ہنسائی کا سبب بن چکا، دو سالوں کے درمیان ثابت ہوچکا کہ مودی نے سیاسی فائدے کے لئے فوجیوں کو استعمال کیا۔

آج چودہ فروری دوہزار اکیس ہے، ٹھیک دو سال قبل آج کے روز ہی پلوامہ میں بھارتی فوجیوں کے کانوائے پر حملہ کیا گیا اور اس حملے کا ذمے دار پاکستان کو ٹہرایا گیا، پاکستان نے ہمیشہ اسے حملے تردید کرتے ہوئے اسے مودی کی سیاسی چال قرار دیا۔

تاہم اب ثابت ہوگیا کہ پلوامہ سےستائیس فروری تک جوہوا وہ مودی کا گھناؤنا منصوبہ تھا، گزشتہ دو سال کے دوران مودی سرکار اور گودی میڈیا کا گٹھ جوڑ مسلسل بے نقاب ہوا، بھارت کے نام نہاد ٹی وی اینکر “ارنب گوسوامی” کی واٹس ایپ نے ثابت کردیا کہ پلوامہ کا ڈرامہ سیاسی چال تھی۔

ثابت ہوگیا کہ مودی نےسیاسی فائدےکےلیے اپنےہی عوام حتیٰ کہ فوجیوں کو مروایا،پاکستان کو عالمی دنیا میں دہشت گرد ملک کے طور پر پیش کرنے کی تمنا لئے مودی نے بھارتی فوجی کو سیاسی فائدےکےلیے استعمال کیا، اس گھناؤنے منصوبے کے لئے مودی نے بھارتی فوج کو استعمال کرکےجنرل بپن راوت کو سیاسی رشوت دی،ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل راوات کو سی ڈی ایس کا نیا عہدہ بطور سیاسی رشوت دیاگیا۔

یہی نہیں مودی نے سیاسی فائدے کے لیے بھارتی فضائیہ کو بھی نہ بخشا،ب ھارتی فضائیہ مودی کے سیاسی فائدےکےلیے جھوٹ بولتی رہی اور مودی کی انتخابات کے دوران بھارتی فضائیہ الیکشن مہم کا “بھونپو”بنی رہی۔

پلوامہ حملے کے بعد جیسے انڈین آرمی اور بھارتی فضائیہ کا پول کھلا، اسی طرح بھارتی میڈیا کا تعصب پر مبنی چہرہ دنیا پر آشکار ہوا، بھارتی میڈیاکومودی نےجھوٹ بولنے کےلیےٹی آر پیز کی رشوت سےخریدا،ارنب گوسوامی جیسے لوگ میڈیا میں مودی کےاشاروں پر ناچتے رہے اور بھارت کا گودی میڈیا مودی کی تباہ کاریوں کا بھی دفاع کرتا رہا، ثابت ہوگیا کہ بھارتی میڈیا بکاؤمال ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، دہشتگردی، منی لانڈرنگ، ڈس انفو مہم پر “مودی کا بھارت” بے نقاب ہوا، اقلیتوں سے بدسلوکی، یورپی یونین اور اقوام متحدہ مخالف مہم میں مودی کو منہ کی کھانا پڑی، بھارتی پروپیگنڈا کےباوجود ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کے اصل گھناؤنےچہرے کانوٹس لے اور فن سین، یو این ایچ سی آر اور ای یو ڈس انفو لیبز رپورٹس پر بھارت سےجواب طلبی ہو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here