2 عالمی جنگوں میں 9 کروڑ 70 لاکھ جانوں کے ضیاع کے بعد دنیا پر قابض ہونے کے خواہش مند حضرات ڈر سے گئے۔

0
710

2 عالمی جنگوں میں 9 کروڑ 70 لاکھ جانوں کے ضیاع کے بعد دنیا پر قابض ہونے کے خواہش مند حضرات ڈر سے گئے۔ سوچا گیا کہ کم و بیش 9 کروڑ 70 لاکھ سے زائد لوگوں کی جانیں جانے کے باوجود بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے لہٰزا جنگ کی حکمتِ عملی، جنگی انداز و اطوار بدل دیے گئے۔ سرد جنگ متعارف کروائی گئی۔
سو دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے خواب دیکھنے والوں نے اب جنگوں کے انداز بدل دیےے ہیں۔ آج کے دور کی جنگ میں جسموں کو تسخیر نہیں کیا جاتا اذہان کو تسخیر کیا جاتا ہے دماغوں پر حکومت کی جاتی ہے۔ میڈیا اس جنگ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
گلوبل ازم کا نعرہ لگایا گیا کہ کوئی سرحد نہیں ہے تمہاری۔ مقصد کیا تھا آخر اس نعرے کا؟ وہ جو گورے اور کالے کے فرق سے آج تک نہیں نکل سکے نا نکلنا چاہتے ہیں نسلی تفاخر سے وہ کیوں گلوبل ازم کا نعرہ مارتے ہیں؟؟؟ اس لیے کہ پوری دنیا میں انفرادی شناختیں مٹا دی جائیں، علاقائی اور قومیتی تہزیب و ثقافت کو ختم کر دیا جاۓ۔ قوموں کی انفرادی شناخٹ مٹا دی جاۓ، ان کے نظریات ختم کر دیے جائیں۔ یورپ میں جینز پہنی جاتی ہے برگر کھایا جاتا ہے تو ایشیاء میں بھی جینز پہنی جاۓ، برگر کھایا جاۓ، مارکیٹ وسیع ہو، ایک براعظم میں بکنے والی چیزیں پوری دنیا میں بکیں، سٹینڈر کا نعرہ لگا کر پوری دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیز کی جڑیں مظبوط کی گئیں اور پوری دنیا میں سیمبلز کو معیار کی علامت بنا کر متعارف کروایا گیا۔
اب ہوتا یہ ہے کہ پوری دنیا میں بکنے والی مصنوعات اور سود کے کاروبار سے اکھٹا ہونے والا پیسا انہوں لوگوں کے پاس جاتا جو پہلے یہ کمائی جنگوں کے بعد کرنا چاہتے تھے۔ اس کمائی سے اکھٹا ہونے والا پیسہ سرد جنگ کے لیے وسائل پیدا کرنے میں جھونکا جاتا ہے۔ نظریات اور علاقائی تہزیب و ثقافت کی دشمن این جی اوز کو دیا جاتا ہے اور ان کے خیال کی تبلیغ کروائی جاتی ہے۔ ملک گیر سطح پر پھیلے تعلیمی اداروں کو دیا جاتا ہے تا کہ وہ نئی نسل کے زہنوں سے ان کی شناخت اور نظریات مٹآ دیں۔
اور ہم۔ ہم بہت خوشی سے اپنے خیالات و نظریات کو ان کی غلامی میں دے کر خود کو آزاد ؟خیال کہتے ہیں اور غلام بن کر آزاد ہونے کا نعرہ لگاتے ہیں۔
تحریر: سنگین علی زادہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here