اس ایشو پر پی ٹی ایم کو حسب معمول سانپ سونگا ہوا ہے

0
172

دو دن گزر جانے کے بعد بھی

اس ایشو پر پی ٹی ایم کو حسب معمول سانپ سونگا ہوا ہے۔

پشتین بیا کنفیوز دی 😅۔

ان بچوں کی ویڈیو شائد آپ دیکھ چکے ہوں۔ نہیں دیکھی تو پاثون (Paasoon) تحریک کے آفیشل پیج پر مل جائیگی۔

اس پورے ہفتے آپ نے پی ٹی ایم کے طرز عمل کا اچھی طرح مشاہدہ کر لیا ہوگا۔
پکتیکا میں 8 وزیرستانی مرے تو ان پر خاموشی، جب دباؤ بڑھا تو ان کو دہشت گرد قرار دیا، بعد میں افغانستان کا اندرونی معاملہ کہا۔

بارودی سرنگ کے دھماکے میں بچی زخمی ہوئی تو ایک سکینڈ ضائع کیے بغیر منظور پشتین اور پوری پی ٹی ایم کے سوشل میڈیا پیجز اور اکاؤنٹس پر اس بچی کے خون آلود چہرے کے ساتھ رنڈی رونا کہ “زما لویہ گناہ دادا چہ پختون یم”

اس کے اگلے دن ان بچوں کی ویڈیو آگئی جن کے والد حمید اللہ جان کو افغان فورسز اٹھا کر لے گئی ہیں اور یہ بچہ نہ صرف وزیرستان کا ہے بلکہ محسود ہے۔

حسب معمول پی ٹی ایم دوبارہ چپ ہے گو کہ اندرونہ خانہ اس پر خوب بحث ہو رہی ہے کہ کریں تو کیا کریں؟

کچھ بولیں تو افغان ناراض، چپ رہیں تو پی ٹی ایم خراج پرانج

کچھ کہہ بھی نہیں سکتے، چپ رہ بھی نہیں سکتے 😉۔

خیسور ڈرامہ تو یاد ہے نا ؟؟؟

اس پر جعلی ویڈیو بچے سے بنوا کر پی ٹی ایم نے کتنا ہنگامہ کیا تھا۔
یہاں تو بلکل اصل ایشو ہے اور بچے براہ راست منظور سے مدد طلب کی ہے۔
اور پی ٹی ایم ان سے رابطہ کر کے تصدیق بھی کر چکی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here