0
434

ایک اور نمک حرام ؟؟؟

پاکستان کھلاڑیوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے راشد خان نامی افغانی کرکٹر کے بارے میں کچھ دلچسپ انکشافات سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔
جن پر متعلقہ ادروں کی فوری تحقیق اور ایکشن کی ضرورت ہے۔

افغان کرکٹر راشد آرمان شینواری ولد حاجی خلیل ضلع آچین گاؤں پیخہ ننگرھار کے پاس افغانستان کے علاوہ پاکستان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی ہے۔

اس نے پاکستانی شناختی کارڈ پر ہی اسلامیہ کالج میں تعلم بھی حاصل کی ہے۔

اس کے تمام بھائیوں حاجی عبدالحلیم، میاں حلیم، سید حلیم، گل رضاء، گل صباح اور جلیل نے بھی پاکستانی نادرا سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا رکھے ہیں۔

یہ خاندان پاکستان ہی کے شہر پشاور میں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹوں پر چین کے ساتھ الیکٹرانکس، ٹائر اور ریم کا کاروبار کرتے ہیں۔

پاکستان کے شہر پشاور میں ان کے حیات آباد اور بورڈ میں کروڑؤں روپے کے عالیشان بنگلے ہیں جن میں اس پورے خاندان کی رہائش ہے۔

اسی طرح انہوں نے پاکستانی وفاق کے زیر انتظام علاقے لنڈی کوتل مختارخیل میں قلعہ نماء حویلی اور اس کے اندر کئی بنگلے بنا رکھے ہیں۔

بیرون ملک سفر کرنے کے لیے بھی یہ پورا خاندان پاکستانی پاسپورٹ ہی استعمال کرتا ہے۔

راشد آرمان شینواری خود تسلیم کرتا ہے کہ وہ آفغانستان کا شھری ضلع آچین پیخہ کا رھنے والا ہے اور اپنی نجی محفلوں میں پاکستان کے خلاف خوب بکواس بھی کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس خاندان کو کس نے اور کس قانون کے تحت پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کر رکھے ہیں ؟؟؟

عمران خان نے ادارے ٹھیک کرنے کی بات کی ہے۔ راشد خان متعلقہ اداروں کے لیے ایک ٹسٹ کیس ہے۔ اب پاکستانی قوم دیکھنا چاہتی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس معاملے میں کیا ایکشن لیتے ہیں۔

جس بدتمیزی سے وہ پاکستانیوں کھلاڑوں کو باہر جانے کا اشارہ کر رہا تھا اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان بھی اس خاندان کو واپس افغانستان جانے کا اشارہ کرے

نوٹ ۔۔ راشد خان اور اس کے خاندان سے متعلق جس کے پاس جس قسم کی بھی معلومات ہوں وہ مجھے یا کسی بھی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو بھیجیں ان شاءاللہ اس پر مزید کام کیا جائیگا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here