۔ 1999ء میں جاوید اقبال نامی شخص نے 100 بچوں کے ساتھ زیادتی کر کے ان کو قتل کیا اور ٹکڑے کر کے تیزاب میں گلایا دیا۔

0
471

یہ کیسا منحوس اتفاق ہے؟ 

۔ 1999ء میں جاوید اقبال نامی شخص نے 100 بچوں کے ساتھ زیادتی کر کے ان کو قتل کیا اور ٹکڑے کر کے تیزاب میں گلایا دیا۔

انتظامیہ کو تب تک علم نہیں ہو سکا جب تک مجرم نے خود پیش ہو کر خود ہی اعتراف نہیں کرلیا۔

پھر وہ بندہ پراسرار انداز میں قتل ہوا یا خود کشی کر لی!

نواز شریف کا دور

۔ 2015 ء میں قصور میں 300 بچوں کے ساتھ زیادتی اور انکی ویڈیوز بنا کر عالمی مارکیٹ میں بیچنے کا سکینڈل سامنے آیا۔ جن میں سے ایک بچے کو 17 رکنی گینگ نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ محض زمین کا جھگڑا ہے۔

کسی ذمہ دار کا تعئن نہ ہوسکا نہ کسی کو سزا ملی۔

نواز شریف کا دور۔

——————-

جولائی 2016 میں پنجاب میں سینکڑوں بچوں کے اغواء کا معاملہ سامنے آیا۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ بچوں کو اغواء کر کے ان کے اعضاء بیچے جاتے ہیں اور اس کے پیچھے منظم گینگ ہے۔

کوئی ایک مجرم گرفتار نہیں ہوسکا۔ رانا ثناءاللہ نے کہہ دیا کہ بچے خود گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔

نواز شریف کا دور۔

——————-

دسمبر 2016 میں تلور کے شکار کے بہانے عربوں کو پاکستانی کمسن لڑکیاں پیش کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔ کئی میڈیا چینلز اور صحافیوں نے اسکو رپورٹ کیا۔

لیکن یہ معاملہ بھی دبا دیا گیا۔

نواز شریف کا دور۔

—————–

اس وقت قصور میں 12 بچیوں کے ساتھ زیادہ اور انکی ویڈیوز بنا کر باہر بیچنے کا معاملہ چل رہا ہے۔

زینب کے جسم کے کئی لوگوں کا ڈی این اے ملا ہے۔ عمران نامی شخص کو پکڑا گیا ہے جس کا ڈی این اے 8 لڑکیوں کے ساتھ میچ کر گیا ہے۔

قصور کے لوگ چیخ رہے ہیں کہ معاملے اس سے کہیں بڑا ہے اور پولیس اور ن لیگی ایم پی اے اور ایم این اے بھی ملوث ہیں۔

پروگرام ” برینک ویوز ود مالک ” میں انکشاف کیا گیا کہ اس مکروہ کھیل میں ہزاروں بچے متاثر ہو چکے ہیں۔

رانا ثناءاللہ متضاد بیانات جاری کر رہا ہے۔

نواز شریف کا دور۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here